|
(ملک سلیم اکبر) آج کل ہمارے سیاستدانوں‘ حکمرانوں اور الیکٹرانک میڈیا نے ایک بالکل ہی علیحدہ تہذیب و تمدن و کلچر کے ساتھ ہی ساتھ منفرد اخلاق و آداب اور مخصوص روایات رکھنے والی پاکستانی قوم کو انڈیا کی نقالی کرنے کے اکھنڈ بھارت ایجنڈے پر لگا رکھا ہے۔ کسی بھی سالگرہ‘ شادی بیاہ یا مہندی کی رسومات میں انڈین گانوں پر نوخیز کلیوں جیسی ہماری بچیاں ایشوریہ رائے کی طرح کولہے اور کمر ہلا ہلا کر ناچتے دیکھ کر مسلمان مائیں انتہائی فخر کے ساتھ دوسری خواتین کو بتاتی ہیں کہ یہ ہماری بیٹی ہے۔ ہمارے اپوزیشن لیڈران اور اکثر حکمران بھی اپنے بیانات میں اکثر پاکستان کے دشمن ملک بھارت کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے کہ دیکھو وہاں کیسی ترقی ہو رہی ہے.... اے کاش.... جی ہاں.... اے کاش۔ پرویزمشرف دھلوی بھی بھارت سے سبق سیکھیں اور جس طرح بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے آج پارلیمنٹ سے دوبارہ اعتماد کا ووٹ حاصل کیا ہے بالکل اسی طرح پرویزمشرف بھی اپنی سوالیہ نشان اور تنقید کی شکار صدارت کو پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ لیکر دکھائیں.... ویسے بھی بالکل سامنے کی سیدھی سی بات ہے۔ جب مشرف صاحب نے سابقہ دم توڑتی ہوئی گونگی بہری پارلیمنٹ سے گزرے دنوں میں اپنی ”دھونس دھاندلی“ والی دارت کی مہر لگوائی تھی تو تمام الیکٹرانک میڈیا میں ایک ہی دلیل دی گئی تھی کہ آنے والی نئی پارلیمنٹ سے مشرف دوبارہ اپنی صدارت کی توثیق کروائیں گے۔ عوام جانتے ہیں کہ مشرف دھلوی کو اپنی صدارت کیلئے بھارت اور امریکہ کی مکمل طور پر آشیرواد حاصل ہے بلکہ اسرائیل کے وزیراعظم تو پرویزمشرف کی درازی عمر کی دعا کے ساتھ ہی ساتھ پرویزمشرف کی صدارت کی بھی مدت لمبی ہونے کی دعائیں مانگتے نہیں تھکتے۔ اس لحاظ سے تو مشرف دھلوی کی کرسی صدارت پکی ہے کہ تمام عالمی توثیق اور پی پی پی ‘ عوامی نیشنل پارٹی‘ ایم کیو ایم‘ فضل الرحمن اور اصحاب ق پرویزمشرف کی صدارت کی پختگی چاہتے ہیں لیکن 16کروڑ پاکستانی عوام کو محض ڈھکوسلے اور دکھاوے کیلئے رہی سہی مشرف دھلوی بھی من موہن سنگھ کی طرح کم از کم اپنے ”ضمیر “ ہی کو مطمئن کرنے کیلئے دوبارہ اپنے آپ کو پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرکے دوبارہ اعتماد کا ووٹ لیں چاہے وہ من موہن سنگھ کی طرح 275 کے مقابلے میں 256 ووٹ یعنی صرف 19 ووٹ ہی کی اکثریت سے جیتیں پھر 16کروڑ عوام کی طرح ہم بھی انہیں پاکستان کا اصلی اور منتخب شدہ صدر تسلیم کرلیں گے پھر وہ شوق سے چاہیں تو پاکستان کے قبائیلی علاقوں کے علاوہ پاکستان کے چاروں صوبوں کے عوام پر بھی بم‘ میزائل اور توپیں وغیرہ چلاتے رہیں کیونکہ منتخب صدر کو حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنے ووٹ دینے والی عوام کا جو چاہے ”حشر“ کریں بالکل اسی طرح جس طرح آصف علی زرداری اور پی پی پی کی حکومت ووٹ حاصل کرنے کے بعد ”غربت مٹاﺅ“ پروگرام کے بجائے ”غریب مٹاﺅ“ پروگرام پر عمل کرکے پاکستان کے تمام غریبوں کا خاتمہ کرنے کے چکر میں لگی ہوئی ہے ورنہ غربت‘ افلاس اور مجبوری کے ہاتھوں مجبور ہو کر عائشہ ملک جیسی مظلوم عورتیں پاکستان کے بازاروں میں اپنے بچوں کو فروخت کرنے نکل کھڑی ہوئی ہیں۔ آصف زرداری اور پی پی پی کی حکومت امن و امان کی صورتحال کنٹرول کرنے میں بھی سخت نالائق ثابت ہوئی ہے لہٰذا عروس البلاد کراچی میں آصف زرداری کے سکیورٹی کے انچارج خالد شہنشاہ کو ان کے گھر کے سامنے جس بے دردی کے ساتھ قتل کیا گیا ہے وہ کسی بھی زندہ ضمیر حکمران کے گال پر وہ سخت زوردار طمانچہ ہے کہ جس کے بعد حکمرانوں کو سوتے سے جاگ جانا چاہیے جب ان کی حفاظت پر معمور سکیورٹی انچارج کو ہی قتل کردیا جاتا ہے تو پھر عام آدمی کی سکیورٹی کا کیا حال ہوگا؟ ایک بار پھر کراچی میں اب ایم کیو ایم اور پی پی پی کے ورکروں کے خلاف محاذ آرائی کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے کہ پی پی پی کے سنجیدہ حلقے اسے پرانی سیاسی دشمنی کا قتل کہہ رہے ہیں۔ 718-692-0707 پر دوپہر 12 سے شام سات بجے تک فون کرکے پاک یو ایس ٹریول ایٹ جی میل ڈاٹ کام پر ای میل کرکے ہمیں بتائیں کہ پاکستان میں امن و امان‘ مہنگائی کے علاوہ بھی دیکھیں تو کیا ہماری نئی حکومت کے 100 دن کسی بھی جانے والی حکومت کے آخری 100 دنوں سے کسی بھی طرح مختلف نظر آ رہے ہیں؟ عوام کو اس نئی حکومت سے بجا طور پر امیدیں وابستہ ہیں۔ عوام دودھ کی ندیاں اور شہد کی نہریں بہنے کی امیدیں نہیں رکھتے بس عوام کی عزت نفس قائم رہنی چاہیے۔ غربت آدمی کا بھرم اور سفید پوشی قائم رہنی چاہیے۔ لوگوں کو دال روٹی ملنی چاہیے۔ چادر اور چاردیواری کی حرمت قائم رہنی چاہیے۔ پاکستان کا اقوام عالم میں عزت و وقار قائم رہنا چاہیے۔ پاکستان زندہ باد پاکستان پائندہ باد ٭٭٭
|
|