(وکیل انصاری)
ڈیموکریٹ پارٹی کے متوقع نامزد صدارتی امیدوار سنیٹر باراک اوبامہ ایک مشن کے تحت یورپ اور مشرق وسطیٰ کے دورے پر ہیں۔ انکے پلان میں افغانستان اور عراق کا دورہ خصوصی نوعیت کا ہے جبکہ وہ اسرائیل بھی جائیں گے۔ انکے عراق کے دورہ کو اچھی خاصی میڈیا کوریج دی جا رہی ہے کیونکہ وہ اپنی صدارتی مہم کے دوران بار بار اعلان کرچکے ہیں کہ اگر وہ صدر منتخب ہوگئے تو وہ 16 ماہ میں امریکن افواج کو عراق سے واپس بلالیں گے۔ حسن اتفاق دیکھئے کہ عراق کے وزیراعظم نوری کمال المالکی نے بھی ایک ایسے وقت میں جبکہ سنیٹر اوباما عراق پہنچنے والے تھے ،اعلان کیا ہے کہ امریکہ کو اپنی فوجیں واپس بلانے کیلئے ٹائم ٹیبل کا اعلان کرنا چاہئے۔ اسی دوران بش انتظامیہ اصولی طور پر راضی ہے کہ بہت جلد افہام و تفہیم کے ذریعے ایک Loose یا Tatiuely ٹائم ٹیبل ورک کرنے کو تیار ہے۔
عراق کے وزیراعظم نوری کمال المالکی، صدر جارج ڈبلیو بش اور سنیٹر اوباما یعنی یہ تین افراد عراق سے امریکی افواج کی واپسی کا لائحہ عمل یا ٹائم ٹیبل بنانے کو تیار ہیں جبکہ دوسرے صدارتی امیدوار یعنی ری پبلکن سنیٹر جان میکین اپنی صدارتی انتخابی مہم میں عراق سے فوجوں کی واپسی کو مسترد کرچکے ہیں اور ان کا یہ جملہ خاصا مشہور ہوا کہ اگر ہم کو 100 سال عراق میں اپنی فوجوں کو رکھنا پڑا تو وہ اس کیلئے بھی تیار ہیں۔
جان میکین جو کہ اس وقت چند پاپولر پولز کے مطابق سنیٹر اوباما سے زیادہ مقبول ہورہے ہیں، ان کیلئے جارج بش انتظامیہ کا ٹائم ٹیبل یا کسی بھی طرح فوجوں کی واپسی کے لائحہ عمل پر کام کرنا بالکل جان میکین کی انتخابی مہم کی کمر میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہے۔ قدامت پسند یا ری پبلکن وعدہ کرچکے ہیں کہ وہ اس وقت تک عراق میں فوجوں کو متعین رکھیں گے جب تک اس خطہ میں سیاسی امن نہیں آجاتا اور ایران کا غلبہ ختم نہیں ہوجاتا۔
ری پبلکن اور ڈیمو کریٹ کے مو¿قف اس وقت اس انتخابی مہم کی جان ہیں۔ یہ انتخابات اس وقت ہورہے ہیں جبکہ عراق اور افغانستان میں امریکن افواج بری طرح پھنسی ہوئی ہیں۔ ایک عام مو¿قف تو یہی ہونا چاہئے کہ امریکن افواج جلد از جلد واپس آئیں مگر امریکہ کھربوں ڈالر خرچ کرنے کے بعد اور 5000 انسانی جانوں کی قربانی کے بعد عراق میں اپنا تسلط برقرار رکھنا چاہتا ہے اور اسکے بہت سارے جواز ہیں۔
مگر افسوس یہ ہے کہ عراق اور افغانستان میں امریکہ کی فوجی مہم کا ایک سیاسی پہلو بھی ہے اور انتخابات کے موقع پر سیاسی پہلو زیادہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔
سینیٹر اوبامہ کا دورہ¿ عراق اور افغانستان کا دورہ انکی انتخابی مہم کا حصہ ہے عراق وزیراعظم نوری کمال کا امریکہ سے ٹائم ٹیبل یعنی امریکی افواج کی واپسی کا ٹائم ٹیبل مانگنا بھی عراقی سیاست کا حصہ ہے جو کہ سینیٹر اوبامہ کے لئے اور انکی انتخابی مہم کے لئے ایک روشن پہلو ہے۔ صدر جارج بش کا ٹائم ٹیبل کے لئے لائحہ عمل پر گفتگو کرنا بھی امریکی عوام کو بیوقوف بنانا اور سینیٹر اوباما کی سیاسی اہمیت کو کم کرنا ہے مگر ان سب سیاسی شعبدہ بازیوں میں سینیٹر جان میکین کی انتخابی مہم خاصی پریشانی کا شکار ہے۔ سینیٹر اوبامہ ایک لائق اور قابل انسان ہیں اور بہت ممکن ہے کہ وہ آئندہ کیلئے امریکی صدر بھی منتخب ہو جائیں مگر امریکی افواج سے ملاقات کے بہانے عراق میں انتخابی مہم بہت بچگانہ حرکت ہے جوکہ ان کو زیب نہیں دیتی ہے۔
ہم سب کو اچھی طرح معلوم ہے کہ ہر فوجی میدان جنگ سے گھر واپس آنا چاہتا ہے مگر ان کے اس المیے کو سینیٹر اوبامہ کی انتخابی مہم بہت سستے طریقے سے کیش کر رہی ہے۔ یہ طریقہ کار بھی بہت ان امریکن ہے۔
امریکہ سے باہر امریکی سیاست خاص طور پر ایک ایسے وقت جبکہ امریکی صدر جارج بش پوری طرح فوجی کمانڈر ہیں ان کے نظریات کی نفی غیر سرزمین پر غیر امریکی طریقہ کار سے اس کے نتائج سینیٹر اوبامہ کے لئے منفی پہلو رکھتے ہیں۔