اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News

 
Sun, 27 Jul 2008 03:35:00

خالد شہنشاہ کا قتل کس نے اور کیوں کروایا؟؟؟

خالد شہنشاہ کا قتل کس نے اور کیوں کروایا؟؟؟
(عالم تمام/ ظہیرالدین بٹ)
بلاول ہاﺅس کراچی کے چیف سکیورٹی آفیسر خالد شہنشاہ قاتلانہ حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔ ان کی ہلاکت کوئی معمول کا قتل نہیں ہے بلکہ اس سے بہت سے شکوک و شبہات نے جنم لیا ہے اور پاکستانی قوم یہ سوچنے پر مجبور ہوگئی ہے کہ دوسروں کو سکیورٹی دلوانے والے کی خود یہ حالت تھی کہ اپنی سکیورٹی کا خاطرخواہ انتظام نہ کر سکا۔ خالد شہنشاہ مرحومہ بینظیر بھٹو کے ساتھ سائے کی طرح لگا رہتا تھا۔ جلسے جلوسوں اور سفر میں ہمیشہ بینظیر بھٹو کے قریب رہتا تھا۔ پاکستان کے مختلف چینل اس کی ہلاکت کے بعد محترمہ بینظیر بھٹو کے مختلف جلسے جلوسوں کی تصاویر دکھا رہے ہیں جس میں خالد شہنشاہ کو بینظیر کے دائیں یا بائیں طرف کھڑے ہوئے پایا گیا ہے۔ خالد شہنشاہ کو کیوں قتل کیا گیا اور کن لوگوں نے قتل کیا؟ یہ بھی حسب معمول دوسرے قتل کے کیسوں کی طرح اندھیرے میں ہی رہےگا۔ پاکستان کے وزیرداخلہ نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اس قتل کو ابھی بینظیر بھٹو کے قتل کے ساتھ جوڑنا قبل از وقت ہوگا لیکن عوام میں یہ تشویش ضرور پیدا ہوگئی ہے کہ اسے کیوں قتل کیا گیا ہے؟ اس کی گہرائی میں کوئی نہ کوئی سازش ضرور ہے۔ ویسے تو ہمیں ابھی سے مفروضوں پر بالکل نہیں سوچنا چاہیے کیونکہ کبھی کبھی شکوک و شبہات غلط بھی ہوتے ہیں۔ ابھی تو یہ بات قابل غور ہے کہ اس قتل کے پیچھے کیا عناصر کارفرما ہو سکتے ہیں، کون اس سے فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے اور یہ قتل کس مقصد کے حصول کے لیے کیا گیا ہے؟ اس طرح کی بہت سی باتیں ہیں جن پر بہت زیادہ غور کرنا ہوگا۔
آج کل پاکستان کے سیاسی حالات کچھ قابل تحسین نہیں ہیں دونوں بڑی پارٹیوں کا اتحاد ٹوٹتا نظر آ رہا ہے۔ ادھر وکیلوں نے بھی 14 اگست کی ڈیڈ لائن دے رکھی ہے اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں محمد نوازشریف نے بھی 15 اگست کی ڈیڈ لائن دےدی ہے۔ ادھر صدر پرویزمشرف چیف آف آرمی سٹاف اور گورنر پنجاب اکٹھے گولف کھیلتے نظر آ رہے ہیں۔ ملک میں ایسی انارکی کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے کہ صورتحال کنٹرول سے باہر جاتی لگ رہی ہے۔ تیل اور گیس کی قیمتوں اور کرایوں میں اضافے نے عوام کا جینا اور بھی محال کردیا ہے۔ ادھر کراچی میں ٹرانسپورٹر حضرات نے ہڑتال کردی تھی جو فی الحال تو ختم کردی گئی ہے لیکن اس فیصلے کے بعد کہ کرایوں میں اضافہ کیا جائےگا یعنی یہ تو وہ بات ہوئی کہ ”چھری خربوزے پر گرے یا خربوزہ چھری پر گرایا جائے کٹے گا تو صرف خربوزہ ہی کٹے گا“ یہی حال ہماری غریب عوام کا ہے جن کا واحد سہارا بسیں اور گاڑیاں ہی ہیں جس کے ذریعے سفر کرکے وہ رزق کی تلاش میں نکلتے ہیں۔ مزدور لوگوں کو تو پیٹ پالنے اور بچوں کی روٹی روزی کی فکر لگی رہتی ہے اور سوچتے رہتے ہیں کہ ان کا چولہا کیسے جلے گا تو ان حالات میں وہ بیچارے سیاست اور سیاستدانوں کے بارے میں کیا سوچیں گے اور یہی تو بڑے سیاستدانوں اور حکومتی اہلکاروں کی خواہش ہوتی ہے کہ عوام ان کے سنہری کارناموں کی طرف نظر ہی نہ ڈالیں اور جو وہ کرنا چاہیں وہ کرتے رہیں۔
غریب کا بچہ تعلیم حاصل کرے یا نہ کرے بھوک مٹا سکے یا نہ سکے انہیں تو خود محلوں میں ہی رہنا ہے۔ انہیں ان کی مشکلات سے کیا لینا دینا‘ بجلی میسر ہو یا نوکری ملے یا نہ ‘ ان کی دلچسپی اور سوچ تو کسی دوسری طرف ہوتی ہے۔ اگست کا مہینہ ہمیں آزادی کی یاد دلاتا ہے اور اس دن ہم آزادی کے جشن پورے ملک میں بڑے زور و شور سے مناتے ہیں۔ لاکھوں ڈالر اور روپے خرچ کر ڈالتے ہیں۔ تصویریں بنوا کر اور سرکاری کھاتے میں اپنے کارنامے دکھا کر جھوٹا نام اور عزت کے لیے تو بہت کچھ کرتے ہیں لیکن ان غریب عوام کو بالکل اور یکسر بھول جاتے ہیں جنہیں پینے کا پانی‘ کھانے کے لیے آٹا‘ روزگار کے لیے نوکری تک میسر نہیں ہے۔ یہی کہتے ہیں کہ ہمیں اپنے مخصوص دنوں کو ضرور منانا چاہیے۔ ہمیں بھی کوئی اعتراض نہیں لیکن ہمیں دراصل عہدِ نو کرنا چاہیے اور اپنے وعدے وعید جو ملک و قوم کے لیے کرتے ہیں اس پر دل سے عمل اور انہیں پورا بھی کرنا چاہیے لیکن افسوس تیاریوں میں مہینوں گزار دیتے ہیں اور پھر دن کے مناتے ہی سب کچھ پھر سے بھول جاتے ہیں۔ جیسے ”رات گئی سو بات گئی“ اور پھر سے ہماری مصروفیات اسی ڈگر پر چلنے لگتی ہیں جس طرح پورا سال گزرتا ہے۔ آج تو یوں لگ رہا ہے کہ موجودہ حکومت عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے ان میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔ اس غیریقینی صورتحال پر کس کو موردالزام ٹھہرایا جائے؟ مہنگائی نے عوام کی چیخیں نکال دی ہیں اور رات کی نیندیں حرام کردی ہیں۔ خدارا اب بھی ہوش کے ناخن لیں اور ملک کے بارے میں اور اس کی عوام کے لیے سوچیں اور عملاً کچھ کرنے کی ابتدا کریں کیا عوام کو مہنگائی کرکے تیل کی قیمتیں بڑھا کر ان کو سزا دی جا رہی ہے کہ انہوں نے آپ کو ووٹ دیکر کامیاب کروایا اور حکومت میں لائے۔ ان کی اس مخلصی کا یوں تو جواب نہ دیا جائے۔ججوں کی بحالی‘ انتقامی کارروائیوں‘ جھوٹے مقدمات پر توجہ کم کرکے اصل مسائل کی طرف آنا ہوگا اور انہیں حل کرنے کی سعی شروع کرنی چاہیے۔ سرحدوں پر دشمن دندنا رہا ہے اس کی فکر سب سے اہم اور وقت کی ضرورت ہے۔

5 / 5 (1 Votes)









 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: custom lanyards | rubber bracelets | custom wristbands | air purifier