عباس اطہر
پچھلے دنوں مسلح افواج کے سربراہ جنرل کیانی کے خیالات جاننے کا موقع ملا۔ جن صحافیوں سے ان کی ملاقات ہوئی، ان میں میں بھی شامل تھا۔ جنرل کیانی اور دیگر عسکری ذرائع سے جو دیگر اطلاعات چھن چھن کر اخباری حلقوں تک پہنچ رہی ہیں ان کو بھی ساتھ ملا لیا جائے تو لب لباب کچھ یوں بنتا ہے:
-1فوج سیاسی معاملات میں کسی بھی قسم کی مداخلت نہیں کرے گی۔
-2جنرل مشرف کو ہٹانا یا نہ ہٹانا سیاسی قیادت کا مسئلہ ہے۔ فوج کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔
-3قبائلی علاقوں کی صورتحال بہت پیچیدہ ہو گئی ہے لیکن فوج ازخود کوئی آپریشن نہیں کرے گی، سول حکومت جو بھی فیصلہ کرے گی، اس پر عمل کیا جائے گا۔
-4امریکہ نے کوئی ایڈونچر کیا تو فوج محفوظ حکمت عملی کے تحت اپنے آپشن استعمال کرے گی۔ اس چوتھے نکتے کا ذکر جنرل کیانی نے ملاقات میں نہیں کیا لیکن دیگر ذرائع سے یہ بات پہنچی ہے اور یہ اگر یہ اطلاع درست ہے تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ فوج کوئی جنگ کر دے گی بلکہ یہ لگتا ہے کہ وہ جو رعایات امریکہ اور نیٹو افواج کو دے رہی ہے، ان میں ردوبدل کا حق استعمال کرے گی۔ بہرحال، خدا ایسی صورتحال کو پیدا ہونے سے روکے جس میں امریکہ پاکستانی علاقوں پر حملہ کر دے۔ کیونکہ حملہ ہوا تو پاکستان چاہے گرم جواب دے یا نہ دے، علاقے کے عوام میں گوریلوں کی فصل اگے گی اور پھر حالات کسی کے قابو میں نہیں رہیں گے۔ حملے کی اطلاعات پر قبائلی علاقوں میں افراتفری کا عالم ہے اور جرگے ہو رہے ہیں جن میں اعلانات کئے جا رہے ہیں کہ حملہ ہوا تو بچہ بچہ سپاہی بن جائے گا۔ سرحد کی کیبل ایسوسی ایشن نے افغان ٹی وی کی نشریات بند کر دی ہیں جس پر کرزئی پاکستان کیخلاف زہر اگل رہا ہے۔ حملہ ہوا تو اس کے سٹرانگ شاکس پورے ملک کو برداشت کرنا پڑیں گے، بے قابو مہنگائی ایسا عذاب بن جائے گی جس میں جینا محال ہو جائے گا اور ملکی استحکام پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔ بات بہت دور تک جائے گی اس لئے دعا اور کوشش یہی ہونی چاہئے کہ تصادم کا کوئی موقع نہ ہی پیدا ہو۔
امریکی حملے اور دھمکیوں کے ایشو سے قطع نظر، عسکری قیادت کے باقی ماندہ پیغامات بڑے خوش کن اور خوش آئند ہیں اور ان کی روشنی میں اصولاً سیاسی قیادت کو بے فکر ہو کر حکومت چلانی چاہئے۔ اگر یہ پیغامات درست ہیں اور ان کے درست نہ ہونے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی تو موجودہ سول حکومت بھٹو کا تختہ الٹے جانے کے بعد بننے والی پہلی سول حکومت ہو گی جو فوجی مداخلت سے محفوظ ہے اور آزادی سے اپنے فیصلے کر سکتی ہے۔ ہمارے ہاں یہ بجا طور پر سمجھا جاتا ہے کہ سول حکومتوں کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ فوجی مداخلت ہے۔ فوج کسی بھی سیاسی حکومت کو آزادی سے کام نہیں کرنے دیتی بلکہ اس کے بنتے ہی اس کی ”عمر“ کا تعین کر دیتی ہے جس کے ساتھ ہی دھرنے، مظاہرے اور پراسرار واقعات کا ایک سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جو حکومت کے ”مقررہ عمر“ تک پہنچنے کے بعد ہی ختم ہوتا ہے بعد میں یہی سلسلہ حکومت کے خاتمے کا جواز بن جاتا ہے۔ اس بار ایسا کچھ نہیں ہو گا۔ گویا نئی حکومت کیلئے سب اچھا ہے۔
لیکن کیا واقعی سب اچھا ہے؟ بدقسمتی سے، فوجی مداخلت نہ ہونے کے باوجود حکومت نامساعد حالات کے گھیرے میں ہے۔ جس طرف دیکھئے، طوفان اور بھنور ہیں۔ سرحدی خطرات ایک طرف، اندرونی مسائل کی یلغار دوسری طرف.... اور ہر مسئلہ ایسا ہے کہ اس سے نمٹنے کا بس خواب ہی دیکھا جا سکتا ہے اور یہ حقیقت اپنی جگہ ایک ”المیہ“ ہے کہ بیشتر سنگین مسائل وہ ورثہ ہیں جو سابق حکومت نے جاتے جاتے بڑی محنت سے بنایا۔ مثلاً بے قابو مہنگائی کے بیج اس مہارت سے بوئے گئے کہ اب نئی حکومت چاہے جتنے ہاتھ پاﺅں مار لے، وہ قابو میں نہیں آ سکتی۔ اس کے برعکس بڑھتی ہی جا رہی ہے اور ایسی رپورٹیں چھپنا شروع ہو گئی ہیں کہ لوگ اپنے بچوں کو سکولوں سے اٹھا رہے ہیں تاکہ انہیں محنت مزدوری پر لگایا جا سکے یا پھر مدرسوں میں داخل کرا دیتے ہیں تاکہ نہ صرف فیسوں اور کتابوں کے خرچے سے جان بچے بلکہ اس کے حصے کا آٹا بھی بچ جائے کہ مدرسے والے بچوں کو کھانا بھی دیتے ہیں۔ زندگی اتنی تلخ ہو چکی ہے کہ ان والدین کیلئے یہ بات کوئی اہمیت نہیں رکھتی کہ ان کا بچہ ایسی روٹی پر گزر بسر کرے گا جو چندے کی دین ہے یہ بھی چھپ رہا ہے کہ لوگوں میں اشتعال بڑھتا جا رہا ہے اور ملک کسی بھی وقت لاوا پھٹنے کے سانحے کا شکار ہو سکتا ہے۔
سابق حکومت نے بڑی مہارت سے جو دوسرا مسئلہ تیار کرکے نئی حکومت کو جہیز میں دیا وہ ججوں کا ہے۔ بلکہ وسیع تناظر میں 3 نومبر کو اٹھائے جانے والے اقدامات کے پورے پیکیج سے ہے۔ یہ پیکیج جنرل مشرف نے بطور آرمی چیف ایمرجنسی لگا کر نافذ کیا اور عہدہ چھوڑنے سے پہلے یہ قانون بھی نافذ کر دیا کہ ایمرجنسی کا خاتمہ صدر کا اختیار ہے۔ چنانچہ اب نئی حکومت نہ تو ججوں کو بحال کر سکتی ہے نہ اس تعطل کو برقرار رکھنے کی متحمل ہو سکتی ہے جو ججوں کی عدم بحالی کی وجہ سے پیدا ہوا ہے اور جس نے حکومتی کارکردگی کے سامنے ایک بڑی رکاوٹ کھڑی کر رکھی ہے۔
ججوں کی بحالی کیلئے تحریک لانگ مارچ کے ڈرامائی موڑ پر آ کر ختم ہوتی محسوس ہوئی تھی لیکن آثار ہیں کہ یہ پھر سے شروع ہونے والی ہے۔
نواز شریف کے لندن میں کئے گئے خطاب کو دیکھئے تو پتہ چلتا ہے کہ ایک اور بحران کھڑا ہو رہا ہے۔ انہوں نے عدلیہ کی بحالی کے مطالبے کا ذکر کرتے ہوئے اشاروں کنایوں میں یہ بتایا ہے کہ وہ اس مسئلے پر پنجاب حکومت چھوڑنے کیلئے تیار ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ پنجاب حکومت سے زیادہ ملکی سالمیت اہم ہے۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت ختم ہونے کا سیدھا مطلب یہ ہو گا کہ حکومت کے سامنے ایک طاقتور اور خوفناک اپوزیشن آ کھڑی ہو گی۔ اپنی ماضی کی کارکردگی اور آمریت کا دم چھلہ بنے رہنے کی وجہ سے قاف لیگ اپوزیشن ہوتے ہوئے بھی اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت سے محروم ہے اور محروم رہے گی۔
مہنگائی کے دوزخ میں جلتے عوام کو ساتھ ملانا نئی اپوزیشن کیلئے بائیں ہاتھ کا کھیل ہو گا۔ دھرنوں کی سیاست کرنے والی جماعت اسلامی اور آگ اگلتی تقریریں کرنے والے عمران خاں کے علاوہ وکلاءکی تحریک، ایکس سروس مین سوسائٹی اور سول سوسائٹی بھی اس اپوزیشن کے دائیں بائیں ہوں گے۔ اوپر سے پیپلز پارٹی کے اندر سے ”بغاوت“ برپا کرنے کے منصوبے الگ ہیں۔ یہ ٹھیک کہ پیپلز پارٹی کا ووٹر اپنی وفاداری نہیں بدلے گا لیکن نامساعد حالات میں ”بغاوت“ کا یہ اضافہ حکومتی پریشانیوں کو بڑھانے میں کچھ نہ کچھ تو حصہ لے گا۔
حکومت کو تیر بہدف نسخوں کی ضرورت ہے اور کوئی معجزہ ہی اسے یہ نسخے فراہم کر سکتا ہے۔ پاکستان کی قسمت میں گرداب ہی لکھے ہیں، ایک سے نکلے، دوسرے میں ڈوبے!