|
(گریبان.... منو بھائی) ہو سکتا ہے کہ ہم موت کی سزا کو عمر قید کی سزا میں تبدیل کرنے سے دنیا کے مہذب معاشروں کی صف میں جگہ پانے میں کامیاب ہوجائیں مگر معاشروں کو مہذب کہلانے کیلئے مہذب ہونا بھی پڑتا ہے۔ صرف یہی نہیں دیکھا جاتا کہ ہم سماج دشمنوں کو زندہ رہنے کے حق سے کیسے محروم کرتے ہیں۔ ہمارے جلاد مجرموں کی گردنیں اڑانے کیلئے کون سا طریقہ استعمال کرتے ہیں۔ مہذب معاشروں کو یہ بھی دکھانا پڑتا ہے کہ وہاں کے لوگوں کو غیرضروری مشکلات اور قابل علاج بیماریوں سے کیسے بچایا جاتا ہے۔ لوگوں کے جائز اور بنیادی حقوق کیسے فراہم کئے جاتے ہیں۔ بچوں اور عورتوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ بچوں کو تعلیم و تربیت کے ذریعے مکمل اور فعال بنانے کیلئے کیا کیا جاتا ہے۔ لوگوں کے پاس بہتر زندگی کے خواب ہوتے ہیں یا نہیں ہوتے۔ یہ سب معلوم کرنے کیلئے کسی ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل یا یو این او سپانسرڈ سروے رپورٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تمام اعمال نامے لوگوں کے سامنے ہوتے ہیں۔ بالکل جائز سوال ہے کہ اگر کوئی خوبصورت ہے، اعلیٰ گھرانے کی اونچی ذات کے لوگوں کے ہاں پیدا ہوا ہے تو اس میں اس کا اپنا کیا کمال ہے اور اگر کوئی بدصورت نچلے گھرانے کے غریب والدین کی گود میں آیا ہے تو اس میں اس کا اپنا کیا قصور ہے مگر سماج کے مجرموں کو پھانسی کی بہیمانہ سزا سے بچا کر عمر قید دلوانے والے جانتے ہیں کہ غریبوں کے گھروں میں جہالت کے اندھیروں میں بددیانت اور نااہل حکمرانوں کی حکومت میں جنم لینے والوں کو موت کی المناک سزاﺅں سے بچایا نہیں جاسکتا۔ غریب اور جاہل ہونے اور ظالم حکمرانوں کی رعایا ہونے اور سرمایہ داری نظام میں سانس لینے کے جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو سزائے موت سے چھٹکارا نہیں مل سکتا۔ ہمارے صدر پرویز مشرف کی حکومت کے دوران سال 1999ءسے 2007ءتک کے عرصے میں سرکاری بینکوں کے 59 ارب 94 کروڑ روپے کی مالیت کے واجب الادا قرضے معاف کئے گئے اور وزیراعظم شوکت عزیز کی حکومت نے جو غیرملکی قرضوں کا کشکول توڑنے اور قومی معیشت کو تباہی کے دہانے سے واپس خوشحالی کے سفر پر لانے کی شہرت رکھتی ہے، اپنی پانچ سالہ حکومت کے دوران زرعی ترقیاتی بینک آف پاکستان کے چھ ارب روپے کے واجب الادا قرضے معاف کرائے۔ ماہرین بتاتے ہیں کہ اگر ملک کی معیشت کو پہنچائے گئے نقصانات کو سامنے رکھا جائے تو 66 ارب روپے کے بینکوں کے قرضوں کی معافی اونٹ کے منہ میں زیرے کی حیثیت بھی نہیں رکھتی۔ مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک زرعی ملک کی معیشت کو بھرپور سہارا دینے کیلئے قائم کیا گیا زرعی ترقیاتی بینک یقینی طور پر تباہی اور بربادی کے دہانے تک پہنچ چکا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم شوکت عزیز کے حلقہ نیابت تھرپارکر، بدین اور عمر کوٹ وغیرہ کے ایک ارب روپے کی مالیت کے زرعی ترقیاتی بینک کے قرضے معاف کرائے گئے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ شوکت عزیز کی حکومت کے دوران وزارت خزانہ کے دباﺅ کے تحت پانچ سالوں میں زرعی ترقیاتی بینک کے چھ ارب روپے کے واجب الادا قرضے معاف کئے گئے۔ بینک سے وعدہ کیا گیا کہ اس کے نقصان کی تلافی وزارت خزانہ کے مالیاتی ٹیکے کے ذریعے کردی جائے گی مگر ایسا کوئی ٹیکہ نہیں لگایا گیا۔ بینک کے ذرائع نے بتایا ہے کہ شوکت عزیز حکومت کے آخری مہینوں میں وزارت خزانہ کا بینک پر بھاری دباﺅ تھا کہ وہ 95 کروڑ روپے کے قرضے معاف کردے مگر بینک انتظامیہ نے اصرار کیا کہ پہلے تلافی کا انتظام کیا جائے پھر قرضے معاف ہوں گے۔ چنانچہ یہ 95 کروڑ روپے کی معافی ہوتے ہوتے رہ گئی۔ نگران حکومت کے دور میں وزارت خزانہ نے بینک کو صرف 10 کروڑ روپے کی امداد فراہم کی۔ سال 2008ءمیں زرعی بینک کے90 کروڑ کے قرضے معاف ہوئے، 2007ءمیں زرعی بینک کے 64 کروڑ روپے کے، 2006ءمیں ایک ارب 70 کروڑ روپے کے، 2005ءمیں 93 کروڑ روپے کے اور سال 2004ءمیں ایک ارب 20 کروڑ روپے کے واجب الادا قرضے معاف کئے گئے۔ زرعی ترقیاتی بینک کے قرضے لوٹنے کی وارداتیں یوں ہوتی ہیں کہ سیاسی معروف اور موثر گھرانے اور بڑے زمیندار عام کاشتکاروں، اپنے مزارعین اور دیگر کسانوں کے نام پر بھاری بھرکم زرعی قرضے 8 فیصد سالانہ سود پر حاصل کرتے ہیں اور اس رقم سے ڈیفنس سیونگز کے اکاﺅنٹ کھول کر 12 فیصد سالانہ کا سود کماتے ہیں۔ وہ اگر زرعی ترقیاتی بینک کا واجب الادا قرضہ بمعہ سود کے واپس بھی کردیں تو 4 فیصد سالانہ کما چکے ہوں گے مگر وہ اپنا سرکاری اور سیاسی اثرورسوخ استعمال کرکے یہ قرضے معاف کروالیتے ہیں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے سرمایہ کاروں کی خوش نصیبی کے پیچھے بینکوں کے قرضوں کی چوری، واپڈا کی بجلی اور پانی کی چوری اور حکومت کے ٹیکسوں کی چوری کام کررہی ہوتی ہے۔ میر تقی میر نے کہا تھا امیر زادوں سے دلی کے مت ملا کر میر کہ ہم غریب ہوئے ہیں ان ہی کی دولت سے وطن عزیز کی تین چوتھائی آبادی اگر دو ڈالر روزانہ کی کمائی پر گزر بسر کرتی ہے، ہر دوسرا پاکستانی شہری بیمار، لاچار اور ان پڑھ ہے تو حالیہ مہنگائی کے طوفان نے دو ڈالر روزانہ کمائی والے تین چوتھائی پاکستانیوں میں سے تین چوتھائی کو غربت کی لکیر سے نیچے پھانسی کی اذیت سے زیادہ دردناک حالات سے دوچار کردیا ہے۔ ٭٭٭
|
|