اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Mon, 21 Jul 2008 03:49:00

امریکی افواج کی واپسی ایک امید ایک خواب

امریکی افواج کی واپسی ایک امید ایک خواب
وکیل انصاری
امریکی حکومت اور امریکی عوام کو ابھی پوری طرح احساس نہیں ہوا ہے کہ امریکی افواج افغانستان اور عراق میں اسی طرح پھنس کر رہ گئی ہیں جس طرح ویت نام میں وہ قید ہو کر رہ گئی تھیں۔ صدارتی امیدوار سینیٹر اوبامہ کا خیال ہے کہ وہ کسی ٹائم ٹیبل پر کام کرتے ہوئے افواج کو عراق سے واپس بلا سکتے ہیں یہ انکا خیال خام ہے!
اگر آئندہ پانچ سالوں میں امریکی حکومت نے عراق سے افواج کی واپسی کا ٹائم ٹیبل پیش کیا تو نہ صرف دو تین حصوں میں تقسیم ہو گا بلکہ تقسیم سے پہلے شدید خانہ جنگی ہو گی سنی شیعہ اور کرد اپنے اپنے خطوں میں حکومت بنانے کی کوشش کرینگے۔ جنوب میں شیعہ وسط میں سنی اور بقیہ شمال مغرب میں کرد اپنی اپنی حکومت قائم کرینگے اور یہی عراق کا حل ہے اور یہی تقسیم مغرب اور امریکہ کے لئے بھی قابل قبول ہو گی کیونکہ آج کا عراق اگر آزاد ہو گیا تو وہ ایران کے مفادات کا EXTINGTION ہو گا۔ جوکہ سعودی عرب اور اسرائیل کو قبول نہیں ہو گا اور دونوں امریکی حلیف ممالک اس تقسیم کو قبول نہیں کرینگے۔ اس تقسیم کا مطلب یہ ہوا کہ ایران سعودی عرب کی سرحدوں سے مل جائیگا جبکہ اسرائیل ایران کا متوقع میزائل کا حملہ مزید پریکٹیکل ہو جائے گا۔ لہٰذا ان تمام خطرات سے نمٹنے کے لئے امریکی افواج کا عراق پر قبضہ بہت ضروری ہے اور تب تک ضروری ہے کہ جب تک عراق کی حکومت اور افواج اس قابل نہ ہو جائیں کہ وہ بیرونی اور اندرونی طاقتوں کا مقابلہ کر سکیں اور عراق کی فوجوں کی تربیت اور ڈسپلن کے لئے تقریباً 10 سال کی پلاننگ کی ضرورت ہے۔ اگر امریکہ نے یعنی امریکی حکومت نے عراق سے امریکی افواج کی واپسی کا ٹائم ٹیبل دیا تو آجکل کی دبی ہوئی تحریک فوراً زندہ ہو کر اپنے اپنے حقوق کی جنگ میں مصروف ہو جائیں گے۔
اسی طرح افغانستان سے امریکی افواج کی واپسی کا مطلب یہ ہو گا کہ طالبان کی مکمل واپسی اور القاعدہ کی فتح۔ اسامہ بن لادن اور انکے ساتھیوں کو گرفتار کرنے کی امریکی خواہش 8 سال پرانی ہو چکی ہے! اور اگر امریکہ گرفتار کر بھی لیتا ہے تو القاعدہ تنظیم پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ طالبان یقینی طور پر آج بھی پورے افغانستان میں دندناتے پھر رہے ہیں۔ وہ حکومت پاکستان کی جان کا عذاب بن چکے ہیں۔ امریکی افواج یا اتحادی افواج نپے تلے انداز میں طالبان کو ہینڈل کر رہے ہیں۔ مگر امریکی افواج اتحادی افواج افغان افواج پاکستانی افواج کی موجودگی کے باوجود انکی طاقت کو ختم کرنے کی تمام تدابیر ناکام ہو چکی ہیں۔ صرف امریکن بمباری کا خوف و ہراس طالبان کو دشواریوں سے ہمکنار کر رہا ہے۔
ان مندرجہ بالا تمام حقائق سے پتہ چلتا ہے کہ امریکی حکومت یعنی موجودہ حکومت یا آئندہ سال آنے والی نئی حکومت کسی قسم کا ٹائم ٹیبل دیکر خفت اٹھانا نہیں چاہتی ہے۔ سینیٹر اوبامہ کی باتیں کاغذ پر اچھی لگتی ہیں۔ انکے وعدے بھی بہت اچھے لگتے ہیں مگر حالات ایسے گھمبیر ہیں کہ امریکی افواج کی واپسی اس خطے میں بڑی خانہ جنگی کا آغاز ہو سکتی ہے۔
اس بات سے ہم سب اتفاق کرتے ہیں کہ امریکی افواج کی واپسی فوراً ہونا چاہئے مگر زمینی حقائق سے چشم پوشی کیسے کی جا سکتی ہے۔ آئیڈیل صورتحال تو یہی ہونا چاہئے کہ فوجوں کی واپسی ہو مگر اب امریکی حکومت افغانستان اور عراق میں اتنی پھنس چکی ہیں کہ امریکن افواج کی واپسی کا مطلب یہ ہو گا کہ امریکہ کو بھگوڑا تصور کیا جائیگا اور امریکی دشمن امریکی مفادات پر کاری ضرب لگانے کے لئے پورے مغرب و امریکہ کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
سینیٹر اوبامہ کی سیاسی شعبدہ بازی اپنی جگہ مگر حقائق اپنی جگہ! امریکہ کس طرح ایران کو عراق پر سیاسی اور معاشی قبضہ کرنے کی اجازت دے گا۔ سعودی عرب ایران کی بڑھتی طاقت کو کیونکر قبول کریگا۔ پاکستان کیونکر افغانستان کو اجازت دیگا کہ اسکی افواج پاکستان میں داخل ہو کر پاکستانی طالبان کو سزا دیں۔
اب عراق اور افغانستان کی جنگ کو اپنے حتمی انجام کو جانا چاہئے ورنہ خانہ جنگی کیا رخ اختیار کریگی اور کہاں کہاں تک پھیلے گی اسکا کسی کو بھی نہیں معلوم لہٰذا امریکی افواج کو دونوں ممالک کی افواج کو اس قابل ضرور بنانا ہو گا کہ وہ اپنے اپنے ملک کا دفاع کر سکیں!
عراق اور افغانستان سے امریکی افواج کی واپسی کی امید ضرور کرنا چاہئے مگر فی الوقت یہ ایک خواب ہو گا۔








  کھیل

 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: air purifier