اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News

(عباس اطہر)
کابل میں بھارتی سفارت خانے پر حملے کے بعد پاکستان کے خلاف ایک نیا خارجی محاذ کھلتا ہوا نظر آ رہا ہے افغان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ اس حملے میں ایک خاص ایجنسی ملوث ہے جس کا نام لینے کی ضرورت نہیں سب جانتے ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ اشارہ آئی ایس آئی کی طرف ہے۔ ایک اعلٰی افغان افسر نے اپنا نام نہ بتانے کی شرط پر فرانسیسی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کھلے الفاظ میں کہہ دیا دھماکہ پاکستان نے کرایا ہے۔ کچھ ہی ہفتے قبل حامد کرزئی نے بیان دیا کہ طالبان پاکستان کی طرف سے آ رہے ہیں، ہم ان کے خلاف کارروائی کیلئے پاکستان میں داخل ہو سکتے ہیں۔
بظاہر یہ خفیہ ایجنسیوں کی جنگ لگتی ہے لیکن باخبر لوگ ان سارے واقعات کا رشتہ پاکستان کی جمہوری حکومت کا گلا گھونٹنے کے منصوبے سے جوڑ رہے ہیں۔ جب باجوڑ میں امریکی جہازوں نے بمباری کرکے پاک فوج کے 11 فوجی شہید کر دئیے تھے تو پاک فوج کے سخت اور غیر متوقع ردعمل نے امریکہ اور اتحادی فوج کو اپنی حکمت عملی بدلنے پر مجبور کر دیا۔ اس بمباری کا مقصد بھی اس وقت مبصرین نے یہی بتایا تھا کہ امریکہ پاکستانی حکومت اور فوج پر دباﺅ ڈال رہا ہے کہ وہ جنرل مشرف کو فارغ کرنے کے ارادے سے باز آ جائے۔ پے در پے امریکی اقدامات اور اتحادی جماعتوں میں شدید اختلافات کے بعد (یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ان اختلافات کے پیچھے بھی کسی شہ دماغ کا ہاتھ تھا) جنرل مشرف کی رخصتی ہوتے ہوتے رہ گئی اور اب وہ کافی حد تک خطرے سے باہر نکل آئے ہیں لیکن اس دوران امریکی ایجنڈا بھی تبدیل ہو گیا ہے۔ وہ مشرف کی رخصتی رکوانے کے مطالبے سے آگے بڑھ کر پھر سے تمام اختیارات مشرف کے حوالے کرنے کی حکمت عملی پر کاربند ہوتا نظر آتا ہے اور اسی مقصد کیلئے پاکستان کے خلاف نت نئے محاذ کھولے جا رہے ہیں۔ کابل کا نیا محاذ انہی میں سے ایک ہے۔ مغربی سرحدوں پر دباﺅ بڑھے گا اور کچھ تعجب نہیں کہ اس محاذ کا تعلق اس گرینڈ پلان سے بھی ہو جس کے تحت 2015ءتک پاکستان کو ختم کرکے دو آزاد ممالک میں بدلنا ہے۔ ایک سندھ، دوسرا بلوچستان۔ جبکہ سرحد کو افغانستان کا حصہ بنا دیا جائے گا اور پنجاب کو بھارت کی بالادستی قبول کرکے اس کی باجگزار ریاست بننے پر مجبور کر دیا جائے گا۔
اندرون ملک بھی پر اسرار کھیل کھیلے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹر قدیر کا یہ دھماکہ خیز انکشاف کہ شمالی کوریا کو سنٹری فیوج مشرف کی مرضی سے بھیجے گئے تھے، بظاہر تو ذاتی غصے کا آئینہ دار لگتا ہے لیکن کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ بھی کسی کھیل کا حصہ ہے جو اس کھیل سے بالکل الگ ہے جو مشرف کو بچانے کیلئے امریکہ کھیل رہا ہے۔ اس بیان سے جنرل مشرف کی ذات بری طرح بدنام ہوئی۔ کہا جا رہا ہے کہ ایک طرف تو امریکہ کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ ایٹمی پھیلاﺅ میں مشرف کا دامن اتنا صاف نہیں جتنا امریکہ سمجھتا ہے اور دوسری طرف اندرون ملک ان سے نجات کیلئے ابتدائی راستہ ہموار کیا گیا۔
دوسری طرف راولپنڈی میں سانحہ لال مسجد کی پہلی برسی پر ایک بڑا اجتماع ہوا جس میں ملک بھر سے علما کی غیر معمولی تعداد کی شرکت اپنی جگہ معنی خیز ہے۔ اتنی ہی معنی خیز اس جلسے میں کی جانے والی تقاریر ہیں جن میں کھلے عام مطالبہ کیا گیا کہ اس سانحے کے ذمہ دار جنرل مشرف کو پھانسی دی جائے۔ میڈیا نے اس مطالبے کو خلاف معمول نمایاں کوریج دی۔ کانفرنس کے کچھ ہی دیر بعد میلوڈی چوک میں بم دھماکہ ہو گیا۔ اس دھماکے کا ٹارگٹ پولیس فورس تھی۔ 15 سپاہیوں سمیت 22 افراد شہید ہو گئے۔ حسب توقع اس دھماکے نے فضا کو پھر خوف اور بے یقینی سے بھر دیا۔ یہ دھماکہ کس نے کیا، یہ راز بھی شاید کبھی نہیں کھل سکے گا۔ کچھ کا کہنا ہے کہ یہ فاٹا آپریشن کا ردعمل ہے لیکن فاٹا کے اس آپریشن میں تو کوئی شخص ہلاک نہیں ہوا۔ فاٹا میں سرگرم تمام تنظیموں نے اس دھماکے سے لاتعلقی بھی ظاہر کر دی ہے۔ ایک قیاس آرائی ہے کہ لال مسجد کے جلسے میں تقریریں سن کر کوئی شخص مشتعل ہو گیا اور اس نے جلسہ ختم ہوتے ہی پولیس پر حملہ کر دیا لیکن یہ قیاس آرائی اس لئے قابل قبول نہیں کہ مشتعل ہونے اور دھماکہ کرنے کے درمیان صرف چند منٹ کا وقفہ تھا۔ اتنے مختصر وقت میں اس نے بموں، خودکش بیلٹوں اور بارود سے بھری گاڑی کا انتظام کیسے کر لیا۔ ظاہر ہے یہ پہلے سے ہی کیا گیا ہو گا۔ اس کے برعکس وہ قیاس آرائی زیادہ وزنی لگتی ہے کہ یہ دھماکہ بھی اس کھیل کا حصہ ہے جو کئی جہتوں پر شروع ہو چکا ہے اور جس کا انجام بالاخر موجودہ حکومت کی رخصتی پر ہو گا۔
پنڈی دھماکوں کے اگلے روز ذرا مختلف نوعیت کے سات دھماکے کراچی میں ہوئے۔ یہ تمام دھماکے کراچی کے چند مخصوص حصوں میں ہوئے جہاں پشتونوں کی اکثریت ہے۔ رحمٰن ملک نے اگلے روز قاضی حسین احمد سے ملاقات کی اور الطاف حسین کو فون کیا۔ رحمٰن ملک نے بتایا کہ ان دھماکوں کا مقصد کراچی میں لسانی فسادات کرانا تھا۔ کراچی میں مخلوط حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود ایم کیو ایم، اے این پی اور ایم کیو ایم پیپلز پارٹی کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ یہ دھماکے کس نے کرائے، کون کراچی میں لسانی فسادات کرانا چاہتا ہے اور تین جماعتوں کی طرف کشیدگی کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ اس سوال کا جواب بہرحال اتنا مشکل نہیں۔ دھماکوں سے دو تین روز پہلے صدر نے گورنر سندھ اور ناظم کراچی کی معیت میں ایک سیاسی اجتماع سے خطاب کیا اور عوام کو للکارنے کے سے انداز میں مخاطب کیا۔ کئی مہینوں کی سیاسی تنہائی اور محاصرے کے بعد صدر پہلی مرتبہ ایوان صدر سے نکلے تھے۔ کراچی جا کر انہوں نے سیاسی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے معنی خیز قسم کی بڑھکیں ماریں اور پھر اگلے روز انہوں نے میچ بھی دیکھا۔ یہاں بھی انہوں نے یہ ظاہر کیا کہ وہ ملکی سلامتی کے بارے میں بہت فکر مند ہیں۔
کراچی میں لسانی فسادات سے پورا ملک متاثر ہونا تھا۔ خدا کا شکر ہے یہ ٹل گئے لیکن پس پردہ ہاتھ خاموش نہیں بیٹھے گا، جلد ہی اپنی ”فکر مندی“ دوبارہ ظاہر کر سکتا ہے۔
کہا جا رہا ہے، کھیل شروع ہے اور چند ہفتوں میں اسکا فائنل ہو جائے گا۔ کھیل کے تین فریق ہیں۔ ایک مشرف جو جمہوری نظام کو انجام تک پہنچا کر پھر سے کلی اختیارات کے مالک بننا چاہتے ہیں اور بظاہر امریکہ ان کی پشت پر ہے۔ دوسرا وہ فریق ہے جو مشرف اور جمہوری نظام دونوں کا بوریا بستر گول کرکے کوئی نامعلوم قسم کا کنٹرولڈ نظام عرف بنگلہ دیش ماڈل نافذ کرنا چاہتا ہے اور تیسرا فریق وہ ہے جو ان دونوں کا مشترکہ نشانہ ہے۔ یہ بے یارومددگار فریق اس کھیل میں کھلاڑی نہیںبلکہ گیند کا کردار ادا کر رہا ہے۔
کھیل سہ فریقی نہیں، دو فریقی ہے۔ جو بھی جیتے، گیند کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ یہی وجہ ہے کہ بحران عروج کو پہنچ رہا ہے، واقعات کی رفتار تیز ہو گئی ہے اور اتحادی جماعتوں کے دونوں قائدین ملک سے باہر بیٹھ کر زبان حال سے کہہ رہے ہیں.... ہمیں کیا!


 


5 / 5 (1 Votes)









 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: custom lanyards | rubber bracelets | custom wristbands | air purifier