وجاہت علی عباسی
دو دن پہلے ایک دوست کی پاکستان سے بھیجی Email آفس میں کھولتے ہی ہوش اڑ گئے۔ ای میل کا سبجیکٹ تھا ”HSBC Bank party in Sheraton Karachi“ پاکستان میں ویسے ہم نے اس ہوٹل میں اپنے رشتہ داروں کی شادی میں شرکت کی تھی اس لئے ان تصویروں میں اپنے ماضی کو ڈھونڈنے کی چاہ میں ہم نے فوراً ان ای میل کے ساتھ آئی تصویروں کو کھول لیا مگر یہ کیا....؟ تصویروں میں ہم کو اپنا ماضی نہیں، بے حال، حال اور ناچتا ہوا مستقبل نظر آیا۔
ان تصویروں میں ہمیں شیرٹن ہوٹل کے بڑے سے ایک ہال میں کئی پاکستانی فیملیاں گول میزوں کے اردگرد بیٹھی نظر آئیں۔ پیچھے دیوار پر HSBC Bank کا بینر لگا ہوا تھا جس سے صاف ظاہر ہورہا تھا کہ یہ دعوت اس بینک کا کوئی سالانہ فنکشن ہے۔ یہاں تک تو سب صحیح تھا، اس کے بعد جو کچھ اور تصاویر میں نظر آیا اس سے ہمارے چھکے چھوٹ گئے۔ ایک محترمہ بہت کم اور انتہائی قابل اعتراض کپڑوں میں ہال کے درمیان کھڑی بیلے ڈانس کررہی تھی۔ جب ہال کے درمیان میں ناچنے سے اس کا دل نہیں بھرا تو اگلی تصویر میں وہ ٹیبلوں کے پاس لوگوں کے قریب جا جا کر ناچنے لگی۔ اگلی تصویر میں ایک صاحب بھی اپنی ٹیبل سے اٹھ کر جذباتی ہو کر ناچتے نظر آئے۔ ایک سے دوسری پھر تیسری ٹیبل، اس طرح درجن بھر تصویروں میں ہمیں اپنی سینکڑوں سال کی ثقافت ڈوبتی نظر آئی۔
افسوس تھا کہ صرف چار لوگ چھپ کر کسی گمنام جگہ پر اس طرح کا اوچھا کام نہیں کررہے بلکہ کراچی کے سب سے بڑے ہوٹل میں سینکڑوں معاشرے کے عزت دار لوگ اپنے خاندانوں کے ساتھ بیٹھ کر اس طرح کے نازیبا ناچ کو نہ ہی صرف دیکھ رہے ہیں بلکہ اپنی پوری بتیسی نکال کر تالیاں بجا بجا کے اپنی خوشی کا اظہار کرکے اس سے محظوظ بھی ہورہے ہیں۔ اس وقت جب یہ سب دیکھ کر میری آنکھیں شرمندگی سے جھکیں تو لگا جیسے ہم نے اپنی پچھلی کئی نسلوں کی بہت محنت سے بنائی ثقافت کا سر ایک نئے کھوکھلے کلچر کے سامنے جھکا دیا۔
جس دوست نے وہ ای میل ہمیں بھیجی تھی اسے فون کیا، یہ جواب طلب کرنے کیلئے کہ آخر یہ سب ہو کیا رہا ہے۔ زناٹے دار جواب دیا کہ کیا صرف تم امریکہ والے ہی ماڈرن ہوسکتے ہو۔ ہم پاکستان میں رہنے والے نہیں؟ پھر وہ مجھے یہ سمجھانے لگے کہ HSBC باہر کا بینک ہے جس کی وجہ سے اگر وہ بینک کوئی فنکشن کرائے تو ظاہر سی بات ہے ایسی چیزیں تو ہونگی۔ ہم نے پاکستان کیوں بنایا تھا، سننے والا کان ہمارے دوست کا کئی پاکستانیوں کی طرح شاید خراب تھا اسی لئے انہیں ہماری آواز نہیں آئی، وہ یہ کہہ کر فون رکھ کے چلتے بنے کہ HSBC جیسے بینکوں کا کلچر اپنا کر پاکستان ترقی کررہا ہے۔
آئیے ہم آپ کو پہلے یہ بتادیں کہ HSBC Bank کا کلچر ہے کیا؟ یہ بینک 1865ءمیں بننے والا پہلا بینک تھا جس نے چین سے شروع کرکے اپنی شاخیں یورپ میں کھولیں۔ اس بینک نے آج سے سو سال پہلے ہی یہ بات سمجھ لی تھی کہ لوگوں کے دل جیتنے کیلئے انہیں سمجھنا ضروری ہے۔ اس لئے یہ جس ملک میں گئے وہاں کا کلچر اپنایا۔ جیسے اگر آپ چین کے HSBC Bank میں داخل ہوں تو وہاں پر زمین سے لیکر دیواروں پر لگی تصویروں تک اور وہاں کام کرنے والوں کے کپڑوں سے لیکر دربان تک، ہر چیز میں چین کا کلچر نظر آرہا ہوتا ہے۔ اسی طرح امریکہ میں ہر چیز امریکن کلچر کے مطابق اور جرمنی میں جرمن کلچر کو ذہن میں رکھ کر HSBC Bank کو ڈیزائن کیا جاتا ہے اسی لئے HSBC Bank کا سلوگن ہے کہ ”ہم دنیا کے لوکل بینک ہیں“ آج اسی لئے وہ 80 سے زائد ملکوں میں ایک لاکھ شاخیں کامیابی سے کھول چکا ہے اور اس کا سہرا ہر ملک کے کلچر کو اپنالینے کو دیتا ہے۔ آئیے واپس HSBC Bank کی کراچی شیرٹن میں ہونیوالی پارٹی میں چلتے ہیں۔
HSBC Bank پہنچا پاکستان وہاں کا کلچر اپناے کیلئے لیکن یہ کیا....! ہم تو خود پاکستان میں اپنی ثقافت کو دفن کرکے اسکے اوپر چڑھے ناچ رہے ہیں۔ یہ تصویریں دیکھ کر اندازہ ہوا کہ ٹی وی چینل سے ڈانس نکل کر اب ہمارے سامنے آکر کھڑا ہوگیا ہے۔ ہم اس طرح کے بیہودہ ناچ کو آج ترقی کا نام دے رہے ہیں۔ HSBC Bank جو پچھلے ڈیڑھ سو سال سے اربوں ڈالر کا کاروبار پوری دنیا میں لوکل کلچر کے نام سے کرچکا ہے، جب پاکستان پہنچا تو اس بیچارے کو پاﺅں میں گھنگھرو باندھ کر ناچنے پر مجبور کردیا گیا۔
مگر آپ کو وہ ای میل کوئی بھیجے تو اسے کھولنے سے پہلے ضرور دیکھ لیجئے گا کہ گھر کا کوئی بچہ وہ تصویریں نہ دیکھ لے کیونکہ ہم امریکہ کینیڈا میں رہ کر آج بھی اپنے بچوں کو وہ پاکستانی کلچر سکھاتے ہیں جس کو ہم پاکستان چھوڑ کر اپنے ساتھ لے آئے تھے اور اگر کوئی بچہ غلطی سے وہ تصویریں دیکھ لے اور آپ سے پوچھے کہ یہ کیا ہورہا ہے تو اسے بتا دیجئے گا کہ پاکستان ترقی کررہا ہے۔
٭٭٭