اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News

 
Thu, 03 Jul 2008 13:58:00

باقی سب خیریت ہے

باقی سب خیریت ہے

عباس اطہر
افغانستان میں موت کا کھیل تیز ہو گیا ہے۔ نیٹو افواج نے کہا ہے کہ طالبان کے حملوں میں ریکارڈ اضافہ ہو گیا ہے۔ اتحادی افواج کی کارروائیاں بھی پہلے سے زیادہ ہو گئی ہیں لیکن یہ کارروائیاں زمینی جھڑپوں کے مقابلے میں بمباریوں پر زیادہ مشتمل ہوتی ہیں۔ ان بمباریوں سے زیادہ تر عام شہری مرتے ہیں جن کو طالبان کا نام دے دیا جاتا ہے۔ طالبان کا طریقہ جنگ دن بدن پیچیدہ اور نیا ہوتا جا رہا ہے۔ وہ اچانک یلغار کرتے ہیں اور کسی نہ کسی شہر یا ضلع پر قبضہ کرکے بیٹھ جاتے ہیں۔ سرکاری املاک کی لوٹ مار کرتے ہیں اور نیٹو فوج کی جوابی کارروائیوں سے پہلے فرار ہو جاتے ہیں چنانچہ نیٹو کی جھنجھلاہٹ بالکل فطری ہوتی ہے۔ وہ ایک مقبوضہ شہر کو خالی کرانے کیلئے یلغار کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ طالبان وہاں سے فرار ہو چکے ہیں اور کسی دوسرے شہر پر قابض ہو گئے ہیں۔ افغان عوام میں نیٹو اور امریکی افواج کے خلاف نفرت کا درجہ حرارت اب آخری کنارے پر ہے اور اس نفرت کی زد میں کرزئی حکومت اور اسکے کارندے بھی ہیں اور عملی صورتحال یہ ہے کہ ایک چوتھائی یا ایک تہائی علاقے پر طالبان کا مستقل قبضہ ہے، نیٹو فوج اس طرف کا رخ ہی نہیں کرتی۔ باقی علاقے ان کی یلغار میں رہتے ہیں اور کرزئی کا اقتدار صرف کابل تک محدود ہے اور کابل تک بھی کیا محدود ہے۔ پچھلے مہینے کابل کے صدارتی محل کے باہر ہونے والی پریڈ میں کرزئی پر قاتلانہ حملہ کر دیا گیا اور انہوں نے بھاگ کر جان بچائی۔ طالبان کے حملہ آوروں نے کئی اطراف سے فائرنگ کی اور اس موقع پر جو دھما چوکڑی مچی، اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہو گئے۔
امریکہ کے خیال میں ’اور کیا ہی دانشمندانہ خیال ہے‘ اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے پاکستان کے سرحدی علاقوں میں بمباری ضروری ہے۔ اسکی ساری انٹیلی جنس صلاحیت اسے یہ بتانے میں ناکام رہی ہے کہ افغانستان کے اندر جو کچھ ہو رہا ہے، وہ افغانستان کے اندر سے ہی ہو رہا ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ مزاحمت کاروں کو سرحد پار سے بھی مدد ملتی ہے لیکن وہ لوگ جو گروہ در گروہ شہروں پر قبضہ کرتے اور پھر نزدیکی پہاڑوں میں فرار ہو جاتے ہیں، پاکستان سے نہیں جاتے۔ یہ وہیں کے لوگ ہوتے ہیں۔ پاکستان کے علاقے سے انہیں ضروری اسلحہ ملتا ہو گا لیکن یہ طالبان پاکستان سے آنے والے ہتھیاروں کے کلی محتاج نہیں ہیں۔ ان کے پاس نہ صرف سوویت اور نجیب اللہ دور کا بے پناہ اسلحہ موجود ہے بلکہ جاری جنگ میں ہونے والی جھڑپوں اور لوٹ مار کے دوران انہیں نیا اسلحہ بھی مل جاتا ہے اور ایسے افغان سپاہیوں کی کمی بھی نہیں ہے جو پیسے لے کر انہیں سرکاری اسلحہ بیچ دیتے ہیں۔ پیسوں کی بھی ان کے پاس کوئی کمی نہیں۔ خود اقوام متحدہ اور امریکی اداروں کی رپورٹ ہے کہ طالبان منشیات کے کاروبار سے بے پناہ رقوم کما رہے ہیں۔ اس کے علاوہ سرکاری قافلوں اور عمارتوں پر حملوں کے بعد کی جانے والی لوٹ مار سے بھی انہیں اچھی خاصی پیدا ہو جاتی ہے۔ افغان عوام کی بہت بڑی تعداد طالبان سے ہمدردیاں رکھتی ہے اور ان میں سے جن کے پاس دولت ہے، وہ طالبان کو وافر مقدار میں چندہ ثواب سمجھ کر دیتے ہیں۔ ان حالات میں یہ سمجھنا کہ طالبان کو پاکستان کی آئی ایس آئی اور دیگر اداروں سے پیسہ ملتا ہے، امریکہ کا ”بھولپن“ ہے اور کچھ نہیں۔
امریکہ کے اس بھولپن کی جتنی سزا عام افغان شہریوں کو مل رہی ہے، اس سے زیادہ پاکستان کو مل رہی ہے۔ مغربی سرحدی علاقوں میں امریکی اور نیٹو جاسوس طیاروں کی پروازیں اب روزانہ بنیادوں پر ہو رہی ہیں اور دو تین روز کے ناغے کے بعد ایک بڑی بمباری بھی ہو رہی ہے جس کے نتیجے میں ان علاقوں پر خوف کا راج ہے۔ خوف اور غصہ انتقام کی شکل اختیار کرتا ہے جو خودکش حملہ آوروں کی کھیپ بناتا ہے۔ امریکی دباﺅ پر پاکستانی فوج بھی کارروائیاں کر رہی ہے اور اس سب کے نتیجے میں پورا صوبہ سرحد ایک عجیب اور بے مثال دہشت کے دور سے گزر رہا ہے۔ دہشت گردی اور جوابی دہشت گردی کے ایک چکر نے پورے صوبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ غیر ملکی سیاحوں صوبہ سرحد کا رخ کرنا ہی چھوڑ دیا ہے جس سے جہاں مقامی آبادی کی یافت ختم ہو رہی ہے، وہاں پاکستان کی ٹورزم کی صنعت اور زرمبادلہ کے ذخائر کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کار بھی ڈر گئے ہیں اور نئی اطلاع یہ ہے کہ سرحد میں شروع ہونے والے حالیہ آپریشن کے بعد طالبان نے جوابی دھمکی دی ہے کہ وہ پنجاب اور سندھ میں اس کا انتقام لیں گے۔ گویا سرمایہ کار ان دونوں صوبوں کا رخ کرتے ہوئے بھی ہچکچائیں گے۔ سرحد میں آپریشنوں کے باوجود قانون کی عملداری کا یہ حال ہے کہ طالبان اپنی پگڑیوں اور داڑھیوں کے ساتھ ہر جگہ گھومتے نظر آتے ہیں۔ ایک تصدیق شدہ رپورٹ یہ ہے کہ بیشتر جرائم پیشہ گروہوں نے طالبان کا حلیہ اپنا لیا ہے اور خود کو طالبان کہہ کر کھلے عام جرائم کر رہے ہیں۔
آپریشنوں کا ایک نتیجہ یہ نکلا ہے کہ پنجاب کے مغربی اور جنوبی علاقوں میں طالبانیت اندر ہی اندر پنپ رہی ہے اور رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب میں طالبان نے اپنی طاقت میں بے حد اضافہ کر لیا ہے۔ کسی روز دھماکہ ہو گا اور پتہ چلے گا کہ پنجاب پنجاب نہیں رہا، سرحد ہو گیا ہے۔ پاکستانی حکومت کو پورا حق ہے کہ وہ اس طالبانیت کو روکے لیکن اسے یہ نکتہ کون بتائے کہ وہ وہ طاقت کا جتنا زیادہ ناجائز استعمال کرے گی، طالبانیت اتنی ہی بڑھے گی۔
عوام پر مہنگائی کا نیا اور پہلے سے زیادہ طاقتور حملہ جاری ہے۔ انہیں آٹا لینے کے لالے پڑ گئے ہیں۔ اشیائے تعیش تو خواب بن گئیں، اب روکھی سوکھی بھی ان کے ہاتھ سے نکل رہی ہے۔ بجٹ کے بعد سے تین مرتبہ پٹرول، ڈیزل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہو چکا ہے اور عوام کے سامنے زندگی کے راستے مسدود ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ مہنگائی سابق دور کی انسان کش معاشی پالیسیوں اور اندھا دھند لوٹ مار اور کرپشن کا نتیجہ ہے۔ نئی حکومت ان پالیسیوں کو رول بیک کرنے سے بھی قاصر ہے اور اصلاح کیلئے کسی جرات مندانہ اقدام کیلئے درکار جرات سے محروم بھی ہے۔ ایسے میں آئندہ کے منظر کی ہولناکی کا اندازہ کرنے کیلئے کسی نجومی کی پیش گوئی کی ضرورت نہیں۔ بھوک سے مرتے ہوئے عوام نے طالبان کے نظریات سے نفرت کے باوجود طالبانیت کا لبادہ اوڑھنا شروع کر دیا تو کیا ہو گا، یہ سوچ کر ہی دل کانپ اٹھتا ہے۔ یہ بتانا ضروری نہیں کہ دل صرف سوچنے والوں کا کانپتا ہے، حکومت کا نہیں جس کیلئے سوچنا شاید ایک غیر ضروری اور بے کار کام ہے۔ باقی سب خیریت ہے۔


 


5 / 5 (1 Votes)






(Your Name) آپ کا نام
(E-mail Address) ای میل ایڈریس
(City or Country) شہر یا ملک کا نام
(Write your message here) یہاں لکھیں





 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: custom lanyards | rubber bracelets | custom wristbands | air purifier