|
(ڈاکٹر ظہور احمد اعوان) پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کا سمبندھ بظاہر پاکستانی حوالے سے ایک سیاسی معجزہ نظر آتا تھا جس کا سہرا شہید بے نظیر بھٹو اور پھر آصف علی زرداری کے سر بندھتا دکھائی دیتا تھا مگر چالیسویں دن ہی اس میں دراڑیں پڑ گئیں۔ یہی ہونا تھا یہی ہو گا کیونکہ یہ بالکل ایک مصنوعی اور غیر فطری ملاپ تھا جو قومی مفاہمت سے زیادہ ذاتی و پارٹی مفادات اور ہوس اقتدار نے سنوارنے کی کوشش کی ہو اور جسے آصف علی زرداری ممکن ہے سچ سمجھنے لگا ہو۔ مگر نواز لیگ کی طرف سے کبھی یہ سچا ملاپ تھا ہی نہیں۔ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ یا ضیاءباقیات دریا کے دو کنارے تھے اور رہیں گے۔ پاکستان کی سیاست کے بارے میں جو ضرب المثل سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ یہاں صرف دو پارٹی ہیں ایک ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی اور دوسری اینٹی بھٹو قوتوں پر مشتمل بھٹو شکن گروہ۔ ضیاءالحق کے زمانے میں اینٹی بھٹو گروپ نے اسے سیاسی طور پر ملیامیٹ کرنے کی بہت کوششیں کیں مگر وہ صرف ذوالفقار علی بھٹو کے جسم کو پھانسی پر چڑھا سکا اس کی سوچ اس کی پارٹی اور ووٹ بینک اسی طرح قائم و دائم رہا بلکہ بڑھتا رہا اب 2008ءکے انتخابات میں 80 لاکھ سے ڈیڑھ کروڑ تک جا پہنچا۔ مگر اس کے ساتھ یہ بھی طے ہے کہ اینٹی بھٹو قوتوں کو بھی قوت حاصل ہوتی رہی۔ نوازشریف کے علاوہ اس گروہ میں گجرات کے چودھری، جماعت اسلامی، قوم پرست لیڈر اور جماعتیں اور بے شمار بھانت بھانت کے لوگ تھے۔ اس میں سرمایہ دار، بڑے دکاندار، زمیندار، وڈیرے، سردار، خان، چودھری بے شمار شامل تھے اور ہیں اور سب سے بڑی قوت اسٹیبلشمنٹ تھی اور ہے کہ بھٹو کی عوامی انقلابی Populist سوچ آگے نہ بڑھنے پائے۔ اس لئے پہلے ان قوتوں نے ضیاءالحق کی آمریت کا سہارا لیکن اس کا بھرپور ساتھ دیا اور اس کے ذریعے بھٹو کو پھانسی پر چڑھا دیا پھر اس کی بیٹی شہید بے نظیر خم ٹھونک کر ان قوتوں کے سامنے کھڑی ہوئی تو انہوں نے سکیورٹی رسک قرار دے کر اس کے خلاف لانگ مارچ، ٹرین مارچ اور پتہ نہیں کیسے کیسے اور کتنے کتنے مارچوں کی قطاریں کھڑی کر دیں۔ ایک دن اس بے چاری کو سکھ کا سانس نہ لینے دیا۔ حتٰی کہ اس کے بھائی کو اس کے دور میں قتل کر دیا ایک بھائی پہلے ہی ضیاءشاہی کی سازشوں کی نذر ہو کر پراسرار حالات میں مار دیا گیا تھا۔ ماں حواس کھو کر صحراﺅں میں جا پڑی تھی۔ پھر بےنظیر کو مار کر ان قوتوں نے گویا پانچ بھٹو ختم کر دئیے چار قبریں اور ایک زندہ لاش، اب صرف بے نظیر کی پارٹی اور اس کی سوچ کے حامی عوام الناس، اس مرحلے پر آصف علی زرداری کو قدرت کی طرف سے ایک موقع ملتا ہے کہ وہ ان بکھری ہوئی قوتوں کو سمیٹ کر ایک ناقابل شکست Formidable طاقت میں ڈھالے۔ اتفاق سے یا بے نظیر کے خون ناحق کی فطری طاقت سے زرداری نہ صرف ان قوتوں کو یکجا کرنے بلکہ ایک منجھے ہوئے سیاستدان کی طرح ان کی قیادت بھی کرنے لگا جس کی اس سے ہرگز توقع نہ تھی مگر گیارہ سالہ جیل نے اسے سیاسی طور پر کافی کچھ سکھا دیا تھا جیو اور جینے دو کا فلسفہ اس کی سمجھ میں آ گیا تھا اس کے بقول اگر انتقام لینا ہوتا یا انتقامی سیاست کرنی ہوتی تو پیپلز پارٹی کرتی۔ مگر بے نظیر بھٹو کے حوصلے کی داد سیاست اور تاریخ کو دینی پڑے گی کہ اس صابر و شاکر خاتون نے دو مرتبہ کے عہد اقتدار میں ہرگز ہرگز انتقامی سیاست کی طرف رجوع نہیں کیا بلکہ اپنے باپ کے قاتلوں کو بھی گلے لگایا ان کے گناہ معاف کئے پھر انہی قوتوں کے ساتھ اس نے معاہدے کئے، سمجھوتے کئے، آٹھ برس تک نواز لیگ کے ساتھ دوپٹہ ٹوپی بدل بہن بھائی کا کھیل بھی رچایا اور بہت سے لوگوں کے طنز و تعریض اور تنقید کا نشانہ بنی۔ ان کا خیال تھا کہ وہ سانپ کو دودھ پلا رہی ہے مگر وہ شعوری طور پر ایسا کر رہی تھی۔ اسے معلوم تھا کہ ان لوگوں کے ایجنڈے ان سے جدا ہیں مگر اس نے ان کے ساتھ میثاق جمہوریت جیسے سیاسی معاہدے کئے بے نظیر کی سیاست میں حکومت کرنے کا عنصر شامل تھا مگر حکومت برائے اقتدار سے زیادہ عوامی خدمت کا جذبہ بھی شامل تھا جو اسے اپنے بڑے باپ سے وراثت میں ملا تھا۔ اس لئے بے نظیر نے نعرہ لگایا کہ سب سے بڑا انتقام جمہوریت اور ووٹ کی قوت ہے۔ بے نظیر نے قومی مفاہمت کی پالیسی کو اپنائے رکھا۔ اس نے نہ صرف اینٹی بھٹو قوتوں کے ساتھ دانتوں کاٹی روٹی توڑی، بلکہ صدر پرویز مشرف سے بھی امریکہ کے ذریعے ایک طویل المیعاد سمجھوتہ کیا۔ جس کا عملی روپ این آر او تھا اس قومی مفاہمت کے آرڈیننس کے تحت نہ صرف بے نظیر بھٹو، آصف علی زرداری واپس آئے بلکہ نوازشریف اور ان کا خاندان بھی واپس لوٹا اور معاہدہ کر دیا سعودی عرب اور امریکہ بہادر نے۔ اس بات کا اعتراف خود آصف علی زرداری نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کیا ہے اور اس کے ساتھ یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ ان کی پارٹی کسی قسم کے مقابلے و مزاحمت Confrontation کی سیاست میں یقین نہیں رکھتی۔ کیونکہ اس کا سب سے بڑا نقصان اس پارٹی کو ہوتا ہے یہ پارٹی بھی ٹینکوں کے سامنے ڈٹ جاتی ہے جبکہ اینٹی بھٹو قوتیں پہلے نظام مصطفٰی کی تحریکیں چلاتی ہیں اور پھر جا کر جنرل ضیاءالحق کی سیاسی گود میں گیارہ برس کے لئے بیٹھ کر حکومت کرتی ہیں۔ اب یہ اینٹی بھٹو قوتیں پی پی پی کے ساتھ مل کر اس سے انتقام کی مخاصمانہ سیاست کروانا چاہتی ہیں۔ ان کا نوازشریف کا خیال ہے کہ زرداری کوئی کچی گولیاں کھیلنے والا سابقہ پلے بوائے ہے زرداری نے کسی زمانے میں کچی گولیاں کھیلی ہوں گی اب وہ ان گولیوں کی حقیقت جان چکا ہے۔ اس لئے وہ ان کے بھرے میں نہیں آیا اور انتقامی سیاست سے منہ موڑ کر ان سیاستدانوں کو آئینہ دکھا دیا جو پیپلز پارٹی کے کندھے پر بندوق رکھ کر ایک جرنیل سے ان کی حکومت توڑنے کا بدلہ لینا چاہتے تھے۔ اس کے سوا ان کا کوئی مقصد و مشن نہیں۔ عدلیہ کی بحالی تو ایک خوبصورت بہانہ ہے بالکل ایسے ہی جیسے کسی کا راستہ بند کرنے کے لئے اس کے گھر کے سامنے کی سڑک پر راتوں رات مسجد تعمیر کر دی جائے۔ اب مسجد کی مخالفت کون کرے۔ عدلیہ کا احترام اگر کوئی کرتا ہے تو پیپلز پارٹی ہے جس کے چیئرمین کو شہید کر دیا گیا تو وہ عدلیہ کی مخالف ہوئی نہ اپنے دو حکومتی عہدوں میں کوئی انتقام لیا پھر انہی اینٹی بھٹو قوتوں نے پی پی شہید کے خلاف درجنوں مقدمے کئے اور انہی عدالتوں نے ان میں بی بی اور پی پی پی کو کسی قسم کا ریلیف دینے سے انکار کیا پھر بھی پی پی پی عدالتوں کی مخالفت نہ ہوئی۔ مگر اینٹی بھٹو قوتوں کے عہد اقتدار میں اعلیٰ عدالتوں پر حملے ہوئے اور معزز جج صاحبان میزوں کے نیچے یا غسلخانوں میں چھپتے نظر آئے۔ وہ اب کس منہ سے عدلیہ کی بحالی اور احترام کی باتیں کرتی ہیں۔ پی پی پی اور زرداری ان باتوں کو سمجھ گیا ہے۔ اس لئے وہ پھونک پھونک کر قدم اٹھا رہا ہے اپنے کارڈ ٹھیک ٹھیک کھیل رہا ہے چنانچہ جن قوتوں کا مقصد عوام کی خدمت اور ان کی روٹی، کپڑے، مکان کی فکر نہیں وہ صرف اور صرف نان ایشوز اور غیر عوامی ایجنڈوں کو لے کر چلی ہوئی ہیں۔ عوام کے لئے روٹی، روزگار، بجلی، پانی، پٹرول، چاول اور غربت و افلاس سب سے بڑے مسئلے مگر مالدار بورژوا سیاستدانوں کے لئے وہ ہرگز مسئلے ہی نہیں۔ اس لئے زرداری صاحب اس کشتی کو ہی ڈبونا نہیں چاہتے جس میں پوری قوم سوار ہے پی پی پی کو اب وہ جنگ دوبارہ ان اینٹی بھٹو قوتوں سے لڑنی پڑے گی جس سے وہ شعوری طور پر گریزاں نظر آتی تھی اس لئے اس کا سمجھوتہ ان قوتوں سے اب ٹوٹتا ہی نظر آ رہا ہے۔ ٭٭٭
|
|