اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Thu, 29 May 2008 00:26:00

ہم کبھی ایسے بھی تھے

ہم کبھی ایسے بھی تھے
(روزن دیوار سے.... عطا الحق قاسمی)
1947ءکے قیامت خیز دن ہیں۔ مشرقی پنجاب سے مسلمانوں کے لٹے پٹے قافلے پاکستان کی طرف رواں دواں ہیں، ہوشیار پور سے ایک ٹرین لاہور کیلئے روانہ ہو رہی ہے، خاندانوں کے جو افراد بلوائیوں کی سنگینوں، تلواروں اور کرپانوں سے بچ گئے ہیں، وہ اپنے خوابوں کی سرزمین پاکستان کو آنکھوں میں بسائے ٹین میں دبکے بیٹھے ہیں۔ ان میں ایک کاشتکار خاندان کے بچے بچیاں بھی ہیں، ماں نے اپنے چھوٹے بیٹے اور بیٹیوں کو سیٹوں کے نیچے چھپا دیا ہے اور ان پر ایک چادر ڈال کر کلمہ پڑھتی ہے اور ساتھ کہتی جا رہی ہے ”اللہ دے حوالے“ رستے میں بلوائی ٹرین پر حملہ کر دیتے ہیں لیکن بلوچ رجمنٹ کا ایک سپاہی اپنی پرانی بندوق تان کر کھڑا ہو جاتا ہے اور بلوائیوں کو للکارتا ہے۔ بلوائی اس کی دہشت سے اس کے قریب نہیں آتے اور ہمارا ایک سپاہی ٹرین کو بحفاظت اس خطرے سے بچا کر لے جاتا ہے!
ٹرین شدید مصائب اور مشکلات کے بعد لاہور پہنچتی ہے اور اس کے مسافر اپنی بھیگی آنکھوں کے ساتھ پاک سرزمین پر سجدہ ریز ہو جاتے ہیں۔
خدا کے یہ شکر گزار بندے ان دنوں کہاں ہیں، آج ہم ناشکروں کو پھر ان شکرگزار بندوں کی ضرورت ہے!
مہاجروں کو لاہور کے والٹن کیمپ میں ٹھہرایا جاتا ہے۔ وہاں رضا کار دن رات ان کے دکھ بانٹنے کی کوشش کرتے ہیں، ہر سرکاری ملازم اور رضاکار پوری لگن سے خدمت کرتا نظر آتا ہے، مصیبت، موت، بے سروسامانی، عزیزوں کی جدائی اور بیماری نے اس کیمپ کے باسیوں کو چڑچڑا بنا دیا ہے مگر بے لوث ورکروں کی دلداری نے ہر آنے والے مہاجر کو ان کا اور پاکستان کا گرویدہ بنا لیا ہے۔
یہ سرکاری ملازم اور یہ رضاکار کہاں ہیں؟ ہم ان بے لوث لوگوں سے محروم کیوں ہو گئے ہیں؟
جن بچوں کو ٹرین کی سیٹ کے نیچے چھپا کر پاکستان لایا گیا تھا ان کے والدین ان بچوں کو لے کر لاہور کے قریبی گاﺅں مراکہ پہنچ جاتے ہیں۔ یہاں ملک محمد حیات اور چودھری بوٹا فرشتوں کی صورت میں موجود ہیں جو ہر آنے والے اجنبی مہمان کے دکھ بانٹنے کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں۔
ہمیں ملک محمد حیات اور چودھری بوٹا کی آج پہلے سے زیادہ ضرورت ہے!
اس خاندان کا بچہ اپنے گاﺅں سے چار جماعتیں پاس کر چکا تھا۔ وہ مراکہ کے سکول کے سامنے کھڑا ہے۔ ماسٹر پوچھتا ہے پڑھنا چاہتے ہو؟ بچہ کہتا ہے ہاں، مگر میرے پاس نہ قلم ہے نہ دوات، نہ قاعدہ اور نہ کتاب! ماسٹر کہتا ہے فکر نہ کرو یہاں کسی کے پاس بھی کچھ نہیں سب زبانی زبانی چل رہا ہے اور بچہ سکول میں داخل ہو جاتا ہے!
یہ بچہ وظیفے کا امتحان پاس کرتا ہے بلکہ لاہور ڈویژن میں فرسٹ آتا ہے اور پھر اپنے خاندان کے ساتھ ٹوبہ ٹیک سنگھ چلا جاتا ہے۔ یہ وہاں قلی کا کام کرتا ہے، مزدوری کرتا ہے، پاکستان نیا نیا بنا ہے، لوگوں کے اندر ایک عجیب جذبہ ہے، وہ کہتے ہیں ہم نے اپنے ملک کو عظیم بنانا ہے۔ یہاں اس بچے کو شیخ سردار محمد ملتا ہے جس کا چائے کا کھوکھا ہے، یہ بچہ یہاں کوئلوں کی بھٹی گرم کرنے کا کام کرتا ہے اور سردار محمد اس کی تعلیم کا سلسلہ بھی ساتھ ساتھ جاری رکھنے کیلئے اسے سہولتیں فراہم کرتا ہے!
ہمیں اس شیخ سردار محمد کو ڈھونڈنا ہے!
پھر اس ذہین، محنتی اور تعلیم سے لگن رکھنے والے بچے کو ماسٹر شاہ محمد، ماسٹر غلام قادر اور دوسرے کئی لوگ ملتے ہیں جو اسے اپنے نئے ملک پاکستان کا اثاثہ بنانے کیلئے اس کے راستے کے کانٹے چنتے ہیں۔
یہ راستے کے کانٹے چننے والے لوگ کہاں چلے گئے؟
اس دوران اس بچے کے والد کو میونسپلٹی میں چپڑاسی کی ملازمت مل جاتی ہے۔ ایس ڈی ایم علاقے کا بادشاہ ہوتا تھا، اس کے آنے کی خبر سے کہرام سا مچ جاتا تھا، مگر ایک دن ایک عجیب و غریب ایس ڈی ایم ٹوبہ ٹیک سنگھ میں متعین ہوتا ہے۔ یہ بغیر کسی استقبالیہ تقریب کے اسٹیشن سے پیدل خود ہی بلدیہ کے دفتر پہنچ جاتا ہے اور پھر اپنی خدمت کے جذبے سے سارے علاقے کے لوگوں کا دل جیت لیتا ہے۔ اس ایس ڈی ایم کا نام میاں محمد شفیع تھا۔
مشرقی پنجاب سے ہجرت کرنے والے بچے کی کہانی کا اس فرشتہ سیرت کردار سے بہت گہرا تعلق ہے۔ لیکن آج اس ایس ڈی ایم سے ہمارا تعلق ختم ہو گیا ہے!
پھر یوں ہوتا ہے کہ یہ بچہ اینگلوور نیکولر کے فائنل امتحان میں پورے ضلع لاہور میں اول آتا ہے اور اسے لارنس کالج گھوڑا گلی میں مزید تعلیم کیلئے وظیفہ مل جاتا ہے۔ اس بچے کی کامیابی پر صرف اس کے سکول میں نہیں، پورے شہر میں جشن منایا جاتا ہے۔
پھر اس بچے کا ہاتھ علاقے کا تحصیلدار پکڑتا ہے اور اسے آگے بڑھنے میں مدد دینی ہے.... اور آخر میں شیخ محمد یوسف آتے ہیں.... اور اس کے بدلے میں اس سے صرف یہ چاہتے ہیں کہ وہ اگر زندگی میں کچھ بن جائے تو اسی طرح کم از کم ایک پاکستانی بچے کے تعلیم کے اخراجات برداشت کرے اور اس کے پیچھے جذبہ یہی ہے کہ ہم نے پاکستان کے نام سے جو ملک حاصل کیا ہے، اس کے نام کو چار چاند لگانے ہیں۔ یہ شیخ محمد یوسف، طاہر یوسف کے والد تھے جو آج یہی کام بڑے پیمانے پر کر رہے ہیں اور کل کا وہ بچہ بھی ان کے اس مشن میں ان کا ساتھی ہے!
اس بچے کا نام چودھری سردار محمد تھا جو بعد میں پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس کے عہدے پر فائز ہوا اور اس کی شادی اسی ایس ڈی ایم کی بیٹی سے ہوئی جو اسٹیشن سے پیدل بلدیہ کے دفتر پہنچا تھا!








  کھیل

 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: air purifier