روزن دیوار سے ۔۔۔ عطاءالحق قاسمی
معاشیات کے ماہرین کی رائے کے مطابق اس وقت پاکستانی عوام غربت ‘ افلاس‘ بے روزگاری‘ مہنگائی اور ان کی وجہ سے رشوت ستانی‘ تھانے کچہریوں کے مظالم‘ سرخ فیتہ اور جن دوسری ناانصافیوں کا شکار ہیں، ان کا فوری ازالہ نہ ماضی کی کسی حکومت کے بس میں تھا اور نہ آج ممکن ہے۔ یہ ایک لمبا راستہ ہے جو ٹیکس کی وصولی‘ سرمایہ داری‘ صنعتیں لگنے اور کرپشن کے خاتمے ہی سے ہو سکتا ہے۔ سرمایہ کاری کیوں نہیں ہو رہی‘ صنعتیں کیوں نہیں لگ رہیں‘ ٹیکس کیوں وصول نہیں ہو رہا؟ کرپشن کا خاتمہ کیوں نہیں ہوتا؟ اس سوال کے بھی کئی گھڑے گھڑائے جواب مل جاتے ہیں۔
میں ماہرمعاشیات نہیں ہوں تاہم میرے پاس کچھ تجاویز ہیں جن پر عمل کرنے سے عوام کے تمام مصائب صرف ایک سال کے اندر ختم ہو جائیں گے اور اس ایک سال ہی میں ارباب اختیار اور ماہرین ایسے رستے نکالیں گے کہ فوری طور پر سرمایہ کاری بھی ہوگی‘ صنعتیں بھی لگیں گی‘ ٹیکس بھی وصول ہوگا اور کرپشن کا خاتمہ بھی ہو جائے گا۔ بس شرط یہ ہے کہ میری تجاویز پر من و عن عمل ہو اور اس ضمن میں کسی کو ڈنڈی نہ مارنے دی جائے۔ تجاویز درج ذیل ہیں:
1 ۔ صرف ایک سال کیلئے گریڈ سترہ سے گریڈ بائیس تک کے تمام سویلین اور نان سویلین افسروں سے کاریں واپس لے لی جائیں۔ اس دوران انہیں ذاتی کار استعمال کرنے کی بھی اجازت نہ دی جائے۔ یہ لوگ اس مختصر مدت کیلئے بارش‘ دھوپ‘ آندھی غرضیکہ ہر طرح کے موسم میں ان لوگوں کے ساتھ بس سٹاپ پر کھڑے ہو کر بس اور ویگن کا انتظار کریں جو پیدائش سے وفات تک اس جانگسل مرحلے سے گزرتے ہیں....!
ان افسروں کے بچے‘ بوڑھے والدین اور خواتین بھی اس عمل سے لازمی طور پر گزریں، اگر ان میں سے کوئی بیمار ہے تو بھی رحم کی کوئی گنجائش نہیں کہ رحم سب کیلئے ہوتا ہے‘ کسی ایک کیلئے نہیں!
2 ۔ ۔ تمام صاحب ثروت لوگوں کی جائیداد‘ بینک بیلنس اور لاکرز وغیرہ ایک سال کیلئے فریز کرکے ان کے اور ان کے کنبے کی رہائش کیلئے ایک ایک کمرے کا کوارٹر الاٹ کردیا جائے اور دو ہزار روپے ماہانہ الاﺅنس دیا جائے۔ جس میں یہ علاج معالجے‘ بچوں کے تعلیمی اخراجات‘ گیس‘ بجلی اور پانی کے بل ادا کریں۔ نیز کچن کا خرچہ بھی چلائیں۔ گریڈ سترہ سے بائیس تک کے افسروں کو بھی یہ ریفریشر کورس کروایا جائے۔
3 ۔ ۔ ان سب لوگوں کو ایک سال کے دوران کسی بے گناہی کے جرم میں دو تین دفعہ تھانے لے جایا جائے اور وہ سب کچھ ان سب کے ساتھ ہو جو تھانوں میں ہر بے گناہ کے ساتھ ہوتا ہے۔ ان کی کوئی فائل گم کرکے انہیں دفتروں کے چکر بھی لگوائے جائیں۔ نیز متذکرہ سال میں کم از کم ایک دفعہ انہیں بغیر مقدمے کے ان کے گھر سے اٹھایا جائے اور کسی نامعلوم مقام پر واقع کسی پنجرے میں بند کردیا جائے۔ ان کے لواحقین کو کافی عرصے تک پتہ نہ چلے کہ وہ کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں؟ بعد میں انہیں انصاف کے نام پر ملنے والی ناانصافیوں کے تجربہ کیلئے کچہریوں کے چکر میں ڈالا جائے!
4 ۔ ۔ سال میں صرف تین مہینے مراعات یافتہ طبقے جن میں صاحب ثروت سیاستدان بھی شامل ہیں کو جون‘ جولائی کے مہینے میں بھٹیوں میں کام پر لگایا جائے۔ یا دسمبر اور جنوری فروری کے مہینوں میں انہیں فجر کی اذان سے پہلے کھیتوں میں کام کیلئے بھیجا جائے۔ ان کی بیگمات گھروں میں چکی پر آٹا پیسیں‘ ٹوکے سے جانوروں کیلئے چارہ کاٹیں‘ دودھ بلوئیں‘ اپلے تھاپیں‘ باہر کھالے پر جا کر کپڑے دھوئیں اور بچے چلچلاتی دھوپ میں فصل کی کٹائی میں حصہ لیں یا کسی ورکشاپ پر استاد کی جھڑکیں اور مار کھائیں یا صبح اخبار بیچ کر گھر والوں کا ہاتھ بٹائیں۔
5 ۔ ۔ ایک سال کیلئے مذہبی‘ سیاسی جماعتوں کے رہنماﺅں اور گدی نشینوں سے ان کے پجیرو گاڑیاں‘ مسلح گارڈز اور عقیدت مند چھین کر انہیں قریبی مسجدوں میں موذن لگا دیا جائے۔ وہ دو وقت کا کھانا محلے والوں کے گھروں پر دستک دیکر وہیں باہر بیٹھ کر کھائیں یا اپنے ساتھ اپنے حجرے میں لے جائیں۔ بیماری وغیرہ کی صورت میں دم درود کرالیا جائے۔ پہننے کیلئے محلے والوں کی اترن مل جائے گی۔
6 ۔ ۔ تین ماہ کیلئے صحافیوں کو ان کے اخبارات سے علیحدہ کرکے انہی اخبارات میں ان کے سکینڈلز شائع کئے جائیں اور ہر دوسرے چوتھے دن ان کے بارے میں کوئی من گھڑت خبر تین کالمی سرخیوں کے ساتھ شائع کی جائے۔ اگر اس کی تردید کرنا پڑے تو سنگل کالم تردید کافی ہوگی۔
عوام کے مصائب دور کرنے اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے ضمن میں تجاویز تو اور بھی میرے ذہن میں ہیں لیکن اگر صرف انہی تجاویز پر عمل کیا جائے تو جو میں نے بیان کی ہیں تو آپ یقین جانیں عوام کی ساری تکلیفیں دور ہو جائیں گی اور معیشت کی بحالی کے سارے رستے کھل جائیں گے۔ مراعات یافتہ طبقہ اور ارباب اختیار جب اس نظام کا خود شکار بنیں گے جسے وہ حیلے بہانے سے ہر دفعہ برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس نظام کے خاتمے کیلئے ان کا ذرخیز ذہن ایسے منصوبے برسر کار لائے گا کہ اس رستے کی تمام مشکلات چشم زدن میں ختم ہو جائیں گی۔ بس ایک دفعہ میری تجاویز پر عمل کرکے دیکھیں۔ اللہ نے چاہا تو نتیجہ سو فیصد ہوگا۔