اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Thu, 15 May 2008 09:09:00

امریکہ کا ایران پر حملہ کیوں ضروری ہوگیا ہے!

امریکہ کا ایران پر حملہ کیوں ضروری ہوگیا ہے!
(وکیل انصاری)
موجودہ صدر امریکہ جناب جارج بش کی تقریباً 8 سالہ دور حکومت نے اب تک ایسا کوئی کارنامہ انجام نہیں دیا کہ جس کی وجہ سے ان کا دور حکومت تاریخ کے صفحات میں جگہ پائے۔ اب تک افغانستان اور عراق ان کے دور حکومت کی ناکام پالیسیاں ہیں۔ مشرق وسطیٰ اور شمالی کوریا کی پالیسیاں ایک بدنما داغ ہیں اور اب وہ 8 ماہ میں رخصت ہونے والے ہیں اور ان کو تاریخ میں جگہ بھی بنانی ہے!
کہا جا رہا ہے کہ جانے سے پہلے وہ ایک دھماکہ کرنا چاہتے ہیں اور وہ بھی بڑے پیمانے پر دھماکہ کرنا چاہتے ہیں۔ امریکی قومی سلامتی کونسل نے ان کی حکومت کو سگنل دےدیا ہے کہ وہ ایران پر حملہ کر سکتے ہیں اور اس میں ان کو اسرائیل، سعودی عرب اور یورپ کی مکمل حمایت حاصل ہوگی۔
امریکی حکومت گزشتہ ایک سال سے ایران پر حملہ کرنے کے جواز پیدا کر رہی ہے۔ گزشتہ سال کا جواز یہ تھا کہ ایران بہت جلد ایٹمی ہتھیار بنانےوالا ہے جس کی وجہ سے اس علاقے میں جنگی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ اس وقت اسرائیل نے سعودی عرب کو بھی ساتھی بنانے کی کوشش کی کہ ایران کے ارادے خطرناک ہیں مگر یو این او اور خود امریکن CNA نے بش انتظامیہ پر واضح کردیا کہ ایران کو ابھی ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے دس سال سے زیادہ عرصہ درکار ہے۔
اس دفعہ امریکہ نے الزام لگایا ہے کہ ایران عراقی سرحدوں کے پاس دہشت گردوں کو تربیت دینے کے لیے کیمپ بنا رہا ہے اور عراق میں دہشت گردی کرنے کے لیے ان کو روانہ کر رہا ہے۔ کیمپ کا نام القدس بتایا جا رہا ہے اور امریکہ نے اپنے جاسوسی سیارے سے فوٹو لیکر ثابت کردیا ہے کہ ایران عراق کی جنگ میں شیعوں کو سنیوں کے خلاف سپورٹ کررہا ہے اور عراق میں ہونے والی خانہ جنگی میں نہ صرف ملوث ہے بلکہ ایک پارٹی ہے جس کی وجہ سے عراق میں امن قائم کرنے میں اور جمہوری حکومت قائم کرنے میں دقت ہو رہی ہے۔ امریکہ نے مزید کہا ہے کہ جس طرح حزب اللہ لبنان میں شیعوں کے مفاد کو PROTECT کرتی ہے اور سنیوں کے خلاف جنگ میں مصروف ہے ۔ ایران اسی قسم کی صورتحال عراق میں بھی پیدا کرنا چاہتا ہے۔
امریکہ کے ان الزامات میں اگر حقیقت کا تھوڑا بہت عنصر ہے بھی تو سعودی حکومت اس وقت ایران پر حملے میں امریکہ کو سپورٹ کرنا نہیں چاہتی ہے مگر بش انتظامیہ کا خیال ہے کہ اگر اس وقت ایران کو نہیں روکا گیا تو وہ مشرق وسطیٰ کا مضبوط ترین ملک بننے کی صلاحیت کا حامل ہے۔ اگر ایران واقعی ایک فوجی اور اقتصادی حوالے سے بڑا ملک بنتا ہے تو یہ بات اسرائیل اور امریکہ کے بنیادی مفادات کیخلاف ہے اور ایران کو یعنی اس کی ترقی روکنے کے لیے اس کو پیچھے دھکیلنا بہت ضروری ہے۔
امریکی فوجی سلامتی کونسل بھی چاہتی ہے کہ بش انتظامیہ ایران کیخلاف ایک سرجیکل آپریشن کرے جس میں اس کے جوہری توانائی کے پلانٹ اور تیل کے سپلائی کے نظام کو نقصان پہنچا کر اس کی ترقی کو روک دے اور ایران کو 20 سال پیچھے پہنچا دے۔
واشنگٹن میں کہا جا رہا ہے کہ ایران پر حملہ کا پلان بالکل تیار ہے مگر سیکرٹری دفاع رابرٹ گیٹس اس پلان کو اسٹڈی کر رہے ہیں۔ اس دوران امریکہ نے ایران کو مختلف ڈپلومیٹک ذرائع سے دھمکیاں دی ہیں کہ وہ لبنان اور عراق میں مداخلت بند کر دے۔
ایران کے صدر احمد نجات کے بیانات سے صاف واضح ہے کہ امریکہ کی دھمکیوں کے جواب میں وہ بھی دھمکیاں دے رہے ہیں جبکہ عام عوام ان کی دھمکیوں کا جواز تلاش کرنے کی کوششوں میں ہیں۔
گزشتہ دو سال پہلے اسرائیل کا حزب اللہ کے ہاتھوں شرمناک شکست اور اب عراق میں امریکی مفادات پر کاری ضرب کے بعد امریکی انتظامیہ اور بش Legecy کے لیے ضروری ہوگیا ہے کہ وہ افغانستان اور عراق میں جنگ کی ناکامیوں کے بعد اور ادھر امریکہ میں بیروزگاری‘ مہنگائی اور اقتصادی بدحالی کی طرف سے توجہ ہٹانے کے لیے کوئی نیا محاذ کھولے مگر وہ محاذ وقتی ہو‘ سرجیکل ہو اور اس میں جانوں کا ضیاع کم سے کم ہو!
ان ترجیحات کے بعد امریکہ سوچتا ہے کہ ایران پر حملہ کرنے سے دنیا مزید CHAQS کا شکار نہیں ہوگی مگر ایران کو سبق سکھانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن اسرائیل کے حق میں رہے!
ادھر ایران پر حملے کی تیاری مکمل ہونے کا مقصد یہ نہیں ہے۔ وزیردفاع رابرٹ گیٹس اور خود جارج بش اپنے ساتھیوں سے صلاح مشورہ نہیں کرینگے کیونکہ Republic اس گمان میں بھی ہیں کہ وہ یعنی سینٹر 2008 MECAM ءکا الیکشن جیت رہے ہیں۔
٭٭٭








  کھیل

 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications