اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Thu, 15 May 2008 09:06:00

شاید کہ اترجائے تیرے دل میں میری بات....قرض بھی اور فرض بھی

شاید کہ اترجائے تیرے دل میں میری بات....قرض بھی اور فرض بھی
(ملک سلیم اکبر)
ہر معاشرے کی طرح امریکی قوم میں اچھائیاں بھی ہیں اور برائیاں بھی۔ امریکی قوم بھی خوب ہے پہلے گرل فرینڈ بناتے ہیں پھر گرل فرینڈ کو بیوی بناتے ہیں اور بیوی بنانے کے بعد گھر سے باہر دو تین گرل فرینڈز بھی پال کر رکھتے ہیں۔ گرل فرینڈ کو خوش کرنے کیلئے VELENTINES DAY منایا جاتا ہے۔ اس پیار بھرے دن گھر بیٹھی بیوی کو ہلکا اور گرل فرینڈ کو بھاری بھر کم تحفہ دیا جاتا ہے۔ وہ لوگ جو WORK AHOLIC یعنی جو کام‘ کام اور صرف کام کرنے کے عادی ہوتے ہیں انہوں نے کیونکہ اپنا ہر کام آفس یا JOB ہی سے چلانا ہوتا ہے لہٰذا آفس میں ان کی سیکرٹری آفس کے کام کے علاوہ ”اندر باہر“ کے کام بھی کر دیتی ہے۔ معاف کیجئے گا فری میں نہیں بلکہ انتہائی معقول بونس کی وجہ سے .... سیکرٹری کو خوش کرنے کیلئے SECRETARY DAY منا کر سیکرٹری کو اوپر کے کام کرنے کے احسانات کو ایک تحفے کی صورت میں LEGALIZE کردیا گیا ہے لیکن صاحبو! شاباش ہے کہ بیوی‘ سیکرٹریوں اور گرل فرینڈوں کے چکروں میں امریکی عوام اپنی ماں کو نہیں بھولی .... بس فرق صرف اتنا ہے کہ بیوی‘ سیکرٹری اور گرل فرینڈ کے حقوق سال کے 365 دن پورے کرتے رہتے ہیں.... ماں کو روز روز کون ملے؟ لہٰذا ماں کو سال کے364 دن خود سے دور رکھتے ہیں اور سال میں ایک دن MOTHER`S DAY اس دھوم دھام سے مناتے ہیں کہ حاتم طائی کی قبر پر دوچار لاتیں مارتے ہوئے ماں کیلئے HALL MARK کا خوبصورت سا کارڈ اور SALE پر لگے پھول لیکر اپنی ماں کے گھر یعنی ADUCT HOME جاتے ہیں جن کو اپنی ماں سے ”قدرے زیادہ پیار“ یا لگاﺅ ہوتا ہے وہ اپنی ماں کو بوڑھے لوگوں کے گھر سے باہر لے جا کر کھانا کھلا کر اپنے زیراحسان لے آتے ہیں اور اگلے سال تک اللہ اللہ خیر سلا....
امریکی معاشرے کی بنیاد مضبوط ترین معاشی ڈھانچوں اور کھوکھلے ترین انسانی رشتوں پر رکھی گئی ہے یہاں ڈالر کی قدروقیمت اور عزت زیادہ اور بنیادی رشتوں کی بے قدری ناقدری اس حد تک کم ہے یہاں کتا مہنگا اور انسان سستا ہے ہمیں افسوس تو اس بات کا ہے کہ ہم میں سے اکثر پاکستانی بھی ڈالر کی چمک دمک میں اپنی اسلامی‘ ثقافتی‘ معاشرتی اور روایتی اطوار سے منہ موڑتے جا رہے ہیں۔ بناوٹ کے اس کھوکھلے معاشرے میں رہتے ہوئے وہ شاید یہ بھولتے جا رہے ہیں کہ صرف ہمارے مذہب ہی میں نہیں بلکہ ہمارے معاشرے میں بھی ماں کا کس قدر اعلیٰ و ارفع اور عزت و احترام کا مقام ہے میں سوچتا ہوں کہ کیا ماں کے جلیل القدر مقام کو بھی امریکی معاشرے کی نظر لگتی جا رہی ہے یا ہمارا ضمیر بے غیرتی کے اس ماحول میں رہ کر اس قدر بے عزت ہوگیا ہے کہ ہم شعوری یا لاشعوری طور پر اپنی ہی نظروں سے گرتے جا رہے ہیں اور اب پستی اور زوال کے اس مقام پر پہنچ چکے ہیں کہ ہم نے بھی اپنی ماں کو ADULT HOME میں داخل کروانا اپنا معاشرتی رتبہ سمجھنا شروع ہوگئے ہیں اور بہانہ یہ کرتے ہیں کہ ہم میاں بیوی کام کرتے ہیں لہٰذا بوڑھی ماں کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں۔ میرا دل یہ سوچ کر ہی کانپ جاتا ہے کہ اپنی ماں کی ناقدری‘ بے عزتی اور ان کے حقوق ادا نہ کرکے ہم اپنی اولادوں کو کیا یہ سبق نہیں سکھا رہے کہ بیٹا! آج ہم نے اپنی ماں کو گھر سے نکال باہر کیا ہے کل تم بھی ہمیں اپنے دل اور اپنے گھر سے نکال باہر کرنا۔ مجھے تو صرف رونا ان بدبختوں پر آتا ہے جنہوں نے اپنی ماﺅں کو سالہا سال تک USE کرنے کے بعد اب باقاعدہ طور پر ABUSE کرنا شروع کردیا ہے جنہوں نے اپنی ماں کو اپنے بچوں کی دیکھ بھال کیلئے BABY SITTAR اور گھر کی دیکھ بھال اور صفائی وغیرہ کیلئے HOUSE KEEPER کے طور پر رکھا ہوا ہے یا اپنے بچوں کی باقاعدہ آیا NANNY بنا کر رکھا ہوا ہے۔
جب میں سڑک پر یا مختلف تقریبات میں خوش لباس میاں بیوی کو آگے آگے چلتے اور چند گز دور کسی مہربان چہرے کے حامل بوڑھی خاتون کو اپنی بوڑھی ہڈیاں گھسیٹتے ہوئے ان کے پیچھے پیچھے آتے اور اپنی اولادوں سے قدم ملانے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھتا ہوں تو میں اکثر سوچتا ہوں کہ یہ ان بچوں کی وہی ماں نہیں ہے کہ جب اس کا ننھا منا معصوم سا بچہ بخار میں پھنک رہا تھا تو یہی ماں اپنی نیند اپنے آرام کی پرواہ کیے بغیر اسے گود میں اٹھائے ساری ساری رات جاگتی رہی تاکہ اس کا شہزادہ سوتا رہے۔ میں سوچتا ہوں کہ اس کا شہزادہ ابھی تک خواب غفلت کی نیند میں سو رہا ہے۔ 718-692-0707 پر دوپہر بارہ سے شام سات بجے تک فون کرکے پاک یو ایس ٹریول ایٹ جی میل ڈاٹ کام پر ای میل کرکے ہمیں بتائیں کہ کیا آپ ہماری اس رائے سے اتفاق نہیں کرتے کہ آج آپ کامیابیوں کی جس منزل کو چھو رہے ہیں اس کے پیچھے آپ کی والدہ کی تسبیوں کے وہ دانے نہیں ہیں جنہیں وہ نماز کے بعد تمہاری کامیابیوں کیلئے پڑھتی ہے کیا آپ میرے اس خیال سے متفق ہیں کہ دنیا میں صرف اور صرف ماں ہی وہ عظیم ہستی ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں بیوی کا انتقال ہو جائے تو اچھی بری دوسری بیوی مل جاتی ہے۔ اولاد مر جائے تو اللہ دوسری اولاد دے دیتا ہے لیکن ماں کا کوئی نعم البدل نہیں‘ ماں کی عزت ہی میں آپ کی دنیا و آخرت میں عزت ہے
مجھے تو جو بھی ملا وہ خدا سے ملا
خدا سے جو بھی ملا ماں تیری دعا سے ملا
یاد رکھیں آپ کی ماں آپ کے پیسوں کی نہیں پیار کی بھوکی ہے۔ بیٹے عموماً ماں سے پیار کرتے ہوئے شرماتے ہیں آج سے ماں کو ”جھپی“ ڈال کر بغل گیر ہو کر ٹوٹ کر پیار کریں ماں کو کار میں اگلی سیٹ پر اپنے ساتھ بٹھائیں۔ ہاتھ پکڑ کر سڑک پار کروائیں۔ یاد رکھیں ساس بھی ماں ہوتی ہے۔ ماں پر محبت بھری نظر ڈالنا بھی حج اکبر کے برابر ہے۔ ہر جز کی ابتدا ضروری ہوتی ہے۔ میرا کالم پڑھ کر ماں کو چور چور نظروں سے نہ دیکھیں وہ آپ کو معاف کر چکی ہے آج سے اپنے اٹوٹ پیار کا اظہار کرکے جنت کمائیں۔ یہ آپ کا فرض بھی ہے اور ماں کا آپ پر قبضہ بھی ہے۔
چھپ گیا چاند سا چہرہ میری ماں کا کب سے
دل کو گھیرے ہے مگر یاد کا ہالہ اب تک








  کھیل

 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications