اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Thu, 15 May 2008 09:05:00

ہندوستان ذمہ دار ہے

ہندوستان ذمہ دار ہے
اور پھر بیاں اپنا ۔۔۔ قمر علی عباسی
امریکہ میں اس بات پر حیرت ہو رہی ہے کہ ہندوستان کو کیا ہوا، اس کے پاس کون سی ایسی طاقت ہے کہ وہ امریکی صدر جارج بش کے بیان کو غلط کہیں۔
دنیا بھر میں ان دنوں غذائی بحران آیا ہوا ہے۔ قیمتیں ناقابل برداشت حد سے بڑھ گئی ہیں۔ خاص طور سے آٹا، چاول تقریباً ناپید ہیں۔ اس پر سب کو تشویش ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون بھی پریشان ہیں۔
پچھلے دنوں امریکی صدر جارج بش نے کہا تھا کہ غذائی اشیاءکی قیمتوں میں اضافے کے پیچھے ہندوستان کا ہاتھ ہے۔ وہ امریکی ریاست میسوری میں معیشت پر منعقد ہونے والے ایک سیشن سے خطاب کررہے تھے۔ جس میں انہوں نے کہا کہ بھارت کی طرح دوسرے ملکوں میں بھی خوشحالی آئی ہے۔ خوراک کے مطالبات بھی تیزی سے بڑھے ہیں قیمتیں بلندی پر پہنچی ہیں جس کا ہندوستان ذمہ دار ہے۔
ہم سمجھتے ہیں جب امریکی صدر نے کہہ دیا تو کہہ دیا وہ سوچ سمجھ کر حقائق کو مدنظر رکھ کر بیان دیتے ہیں۔ دنیا کچھ بھی کہے ۔جارج بش کو یقیناً صحیح صورتحال معلوم ہے اس کی ایک وجہ یہ ہے ہندوستان سے جو غذائی اجناس امریکہ آتی ہیں ان کی قیمت میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مہنگائی کے پیچھے ہندوستان کا ہاتھ ہے۔
امریکی صدر کے بیان کے فوری بعد اے کے انتھونی بھارت کے وزیر دفاع نے صدر بش کے اس بیان کو سفاکانہ مذاق قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر زرعی زمین کے کمرشل اور بائیو فیول کاشت کاری کی وجہ سے عالمی سطح پر خوراک کی قلت ہوئی ہے۔ اس کی ذمہ داری امریکی پالیسی پر بھی عائد ہوتی ہے۔ اسے اور دیگر ممالک کو بھی اپنی غلطیاں دور کرنی چاہئیں۔ انہوں نے اس حقیقت کو مانا کہ ہندوستان میں گندم اور چاول کی پیداوار میں کمی آئی ہے جس کی وجہ سے قیمتیں بڑھی ہیں۔
امریکی صدر کے بیان پر اگر کوئی بات کرنی تھی تو ہندوستان کے وزیراعظم یا صدر کو بات کرنی چاہئے تھی۔ وزیردفاع کو اس معاملے میں پروٹوکول کے حساب سے بھی بولنے کا حق نہیں ہے۔ یہ نامناسب بات ہے۔ بڑے آدمی کا جواب چھوٹا دے۔
لوگوں کا یہ خیال بھی ہے کہ دنیا میں ڈالر کی قدر روزبروز کم ہوتی جاتی ہے اور کیونکہ تجارت اسی کی بنیاد پر ہوتی ہے لہٰذا قیمتیں بڑھ گئی ہیں لیکن جس رفتار سے اشیاءمہنگی ہوئیں وہ قابل یقین نہیں ہے۔ اچانک غذائی اجناس کا غائب ہونا‘ ذخیرہ اندوزی کے علاوہ کچھ نہیں۔
پاکستان سے ہر روز خبر آتی ہے، گندم کے ٹرک ایک علاقے سے دوسری طرف جاتے پکڑے گئے۔ گوداموں پر چھاپہ مار کر غذائی اجناس قبضے میں کی جاتی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے غذائی اجناس کی قیمتیں مصنوعی قلت پیدا کرکے بڑھائی جا رہی ہیں۔ پاکستان میں امید کی جا رہی ہے کہ ججوں کے بحال ہوتے ہی بھاجی اور کھاجا ٹکے سیر بکے گا۔ بعض لوگوں نے اس پر یقین کرکے روزے رکھنے شروع کردیئے ہیں۔ بارہ مئی کے بعد رج کر کھائیں گے۔
لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ دنیا میں تیل کی قیمتیں بڑھنے سے مہنگائی ہوگئی ہے۔ ایسا بھی ممکن ہے لیکن قیمتیں اس مناسبت سے نہیں بڑھیں بعض علاقوں میں جہاں تیل اثرانداز نہیں ہوتا اشیاءوہاں بھی مہنگی ہیں۔ اس کا مطلب ہے تیل بھی نرخ بڑھانے میں اکیلا ذمہ دار نہیں ہے۔
امریکہ میں غذائی اجناس کی کمی نہیں اور ان کی قیمت میں بھی کچھ زیادہ اضافہ نہیں ہوا لیکن جو لوگ برصغیر سے آئے ہیں وہ اپنے ہی ملکوں کا آیا اجناس استعمال کرتے ہیں۔ آج سے کچھ سال پہلے آٹا انتہائی سستا تھا‘ چاول کا ایک تھیلا خریدنے پر دوسرا مفت تھا۔ لوگ اس کی قدر نہیں کرتے تھے۔ انجام یہ ہوا کہ ایک تھیلے کی قیمت میں آدھے سے کم ملتا ہے۔ کینیڈا میں چاول کی شدید قلت ہوگئی ہے۔ امریکہ کے بعض اسٹورز پر ایک وقت میں ایک آدمی کو چاول کا ایک تھیلا ہی مل سکتا ہے۔
ڈالر کی قدر میں کمی بیشی سے بین الاقوامی مارکیٹ پر اثر ہو سکتا ہے۔ لیکن مقامی طور سے اشیاءکی قیمتیں اچانک بڑھ جانا حیرت کی بات ہے۔
امریکی صدر بش نے مہنگائی کا ذمہ دار ہندوستان کو قرار دیا ہے اور اس کے جواب میں وہاں سے تہمت امریکہ پر لگائی گئی ہے۔ عام خریدار یہ بات سمجھنے سے قاصر ہے کہ کون ذمہ دار ہے اور مہنگی اشیاءخریدتے وقت وہ کسے برا بھلا کہے۔
امریکہ کے علاوہ دوسرے ممالک پر بھی ہندوستان نے الزام لگایا ہے کہ ان کی پالیسیوں کی وجہ سے مہنگائی بڑھی ہے۔ حالانکہ دوسرے ممالک بھارت پر کوئی الزام نہیں لگاتے۔ ہندوستان کے صدر، وزیراعظم اور کانگریس کے صدر کو اپنے وزیردفاع کی گوشمالی کرنی چاہئے جو ہر بڑے پر الزام لگا رہے ہیں۔
ہندوستان کو ادھر ادھر تنقید کرنے سے باز آنا چاہئے اور اپنی توانائی کھیت کھلیانوں میں لگانی چاہئے تاکہ غذائی اجناس بہتات سے پیدا ہوں اور جو خامیاں وزیر دفاع نے بتائی ہیں وہ خود دور کریں تاکہ امریکہ ان پر تنقید نہ کر سکے۔









© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications
sponsors: air purifier