اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Thu, 15 May 2008 09:04:00

نئی حکومت کہاں ہے

نئی حکومت کہاں ہے
(غیر سیاسی باتیں.... عبدالقادر حسن)
پاکستان کے عوام اپنی سابقہ فوجی حکومت سے بہت تنگ تھے۔ اس قدر کہ اس حکومت کو ایک عذاب سمجھتے تھے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے تھے کہ کب اس سے نجات ملے گی۔ سابقہ حکومت کے لئے اس کے بغیر کوئی چارہ نہ رہا کہ پانچ برس کی مقررہ آئینی مدت پوری کرنے کے بعد اسمبلیوں کے عام انتخابات کرائے جائیں چنانچہ 18 فروری کی تاریخ طے ہوئی اور اس طرح عوام کو نجات کی ایک راہ دکھائی دی۔ حکمرانوں نے چار و ناچار انتخابات کا اعلان تو کر دیا لیکن ایسا بندوبست بھی ساتھ ساتھ کر دیا کہ انتخابات کے نتائج ان کی ضرورت کے مطابق سامنے آئیں۔ دوسری طرف سیاسی پارٹیاں اعلان کر رہی تھیں کہ ہم کسی حال میں بھی دھاندلی نہیں ہونے دیں گی۔ کہا جا رہا تھا کہ جب تک پولنگ سٹیشن سے تصدیق شدہ نتائج جاری نہ ہوں کارکن وہیں ڈٹے رہیں۔ اس سے پہلے کہ کوئی ناگوار صورت سامنے آ جاتی فوج کے نئے سربراہ نے مہربانی کی اور انتخابات سے عین پہلے اپنے اہلکاروں کو ہدایات جاری کر دیں کہ وہ الیکشن میں دھاندلی کے منصوبے پر عملدرآمد بند کرا دیں چنانچہ ملک بھر میں کم و بیش منصفانہ الیکشن ہو گئے اور قوم ان کے نتائج دیکھ کر خوش ہو گئی۔ انتخابی نتائج کے پیش نظر پیپلز پارٹی پہلے درجے پر آئی۔ اس کے بعد مسلم لیگ نواز اور پھر دوسری پارٹیاں، اس سے پہلے لندن میں میاں نوازشریف اور شہید بے نظیر بھٹو کے درمیان میثاق جمہوریت نام کی ایک متفقہ دستاویزتیار ہوئی جس سے ان دونوں پارٹیوں کے درمیان سیاسی اتحاد کی بنیاد رکھ دی گئی۔ چنانچہ الیکشن کے بعد ان دونوں بڑی پارٹیوں نے اتحاد بنا لیا اور اپنی مخلوط حکومت میں صوبہ سرحد سے اے این پی کو بھی قائل کر لیا اور مولانا فضل الرحمن کی جمعیت کو بھی۔ اس طرح قومی اسمبلی میں اس حکومت کو دوتہائی سے بھی زیادہ اکثریت حاصل ہو گئی اور لوگ مطمئن ہو گئے کہ اب یہ نئی حکومت ان کے مسائل پر بھرپور توجہ دے گی کیونکہ اس کو مینڈیٹ بھی یہی ملا ہے کہ وہ عوامی مسائل کو حل کرے، عوام نے سابقہ حکومت کو رد کر دیا۔
یہ پس منظر میں اس لئے عرض کر رہا ہوں کہ ہماری اس منتخب حکومت نے اور تو بہت کچھ کیا ہے اور کرتی چلی جا رہی ہے مگر عوامی مسائل کو حل کرنے کی عملاً کوئی کوشش نہیں کی۔ آٹے، بجلی اور امن و امان وغیرہ کے مسئلے سرفہرست تھے، اب بھی ہیں۔ صورت حال یہ ہے کہ آٹے کی سمگلنگ جاری ہے اور اب تو ایران کو چاول بھی سمگل کیا جا رہا ہے۔ ہماری ایک لاکھ سے زیادہ فوج افغان سرحد پر متعین ہے۔ رینجرز وغیرہ اس کے علاوہ ہیں اور پولیس تو ہے ہی لیکن ہر روز خبر آتی ہے کہ فلاں سرحد پر اتنے ٹرک پکڑے گئے لیکن جو سرحد پار کر کے چلے گئے ان کی خبر نہیں آتی گویا اس طرح حکومت ہر روز یہ اعلان کرتی ہے کہ گندم اور آٹے کی سمگلنگ جاری ہے۔ دوسری طرف ملک کے اندر آٹے کی گرانی دن بدن بڑھ رہی ہے اور گندم کی نئی فصل آنے کے باوجود بازار میں آٹے کی دستیابی نہیں ہے۔ یوٹیلیٹی سٹوروں کے سامنے قطاریں ہیں اور کھلے بازار میں آٹا جس قیمت پر دستیاب ہے وہ ہر کسی کے بس میں نہیں۔ حکومت گندم کی درآمد کی خوشخبریاں سنا رہی ہے اور نئی فصل کی خریداری کی لیکن عوام کی وہی حالت ہے جو گزشتہ حکومت میں تھی اور کسی کو کچھ معلوم نہیں کہ اس میں کوئی خوشگوار تبدیلی کب آئے گی۔ یوں کہیں کہ آٹا اگر موجود ہے تو حکومت کی انتظامی مشینری اس قابل نہیں کہ اسے عوام تک پہنچا سکے۔ یہی حال بجلی کا ہے اور یہ چونکہ نئے پیداواری منصوبوں کی تکمیل کے بعد ہی ضرورت کے مطابق ملے گی اس لئے عوام اس پر صبر شکر کر کے بیٹھ گئے ہیں۔ اب ان کا مطالبہ صرف یہ ہے کہ جتنی ہے اسے انصاف کے ساتھ فراہم کیا جائے اور صنعت کو ترجیح دی جائے۔ رہا امن و امان تو قاتل، چور، ڈاکو سب دیدہ دلیر ہو چکے ہیں اور کسی کو حکومت کا خوف نہیں ہے۔ یہی حال دوسرے تمام عوامی مسائل کا ہے۔ نئی حکومت نے کسی تبدیلی کی اطلاع نہیں دی۔
اب ذرا حکومت کی سرگرمیاں ملاحظہ فرمائیں، ججوں کا مسئلہ سرفہرست ہے۔ اگر دلوں میں کھوٹ نہ ہو اور ججوں کے ساتھ سیاستدانوں کے ذاتی مسائل وابستہ نہ ہوں تو ان کی بحالی چند دنوں کا کام تھی۔ کوئی قرارداد بھی آ سکتی تھی اور کوئی حکم بھی جاری ہو سکتا تھا لیکن دونوں بڑی پارٹیوں کے سربراہوں کے ججوں کی بحالی پر اختلافات ہیں۔ اسلام آباد، دبئی اور اب شاید لندن میں بھی اس ضمن میں سرگرمیاں جاری ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ 12 مئی تک نتیجہ برآمد ہو گا لیکن اس مسئلے میں ایک اور فریق بھی پوری طرح ملوث ہے اور وہ ہے صدر مملکت اور بتایا جاتا ہے کہ امریکہ بھی اس میں شامل ہے۔ جب سے نئی حکومت قائم ہوئی ہے تب سے یہ مسئلہ سرفہرست ہے اور عوام کسی کو یاد نہیں۔
قومی معاملات میں حکومت کی غیر سنجیدگی کی ایک حیران کن مثال ضمنی الیکشن کے دوسری بار التواءکی صورت میں سامنے آئی ہے۔ ایک سرکاری افسر جو سیاستدان بن چکے ہیں رحمان ملک صاحب، انہیں زرداری صاحب نے ایک مشیر داخلہ بنا کر ملک کا امن و امان ان کے سپرد کر دیا ہے۔ انہوں نے سرحد حکومت سے کہا کہ دوسری حکومتیں تو الیکشن ملتوی کرانا چاہتی ہیں کہ امن و امان کی صورتحال درست نہیں آپ بھی اس التواءپر راضی ہو جائیں چنانچہ الیکشن کمیشن نے اعلان کر دیا اور جب سرحد حکومت پر نکتہ چینی شروع ہوئی تو اس نے بھانڈا پھوڑ دیا کہ ہمیں تو رحمن ملک نے یہ اور وہ کہا تھا۔ عوام کو اس سے یہ پتہ بھی چلا کہ جناب رحمن ملک زرداری صاحب کے نہیں صدر صاحب کے آدمی ہیں جنہوں نے ان کے بارے میں کہا کہ ”وہ ایک مفید آدمی ہیں“۔ اس مسئلے پر سیاسی لوگوں نے اس قدر برہمی ظاہر کی کہ اب یہ الیکشن ہونے والا ہے۔ دو چار دن اس قدر ہنگامہ اور پریشانی رہی جس کو خواہ مخواہ پیدا کیا گیا اور اب اس کی وجہ ایوان صدر کو قرار دیا جا رہا ہے جو کچھ لوگوں کو الیکشن میں ناکام کرانا چاہتے ہیں۔
مختصر الفاظ میں عرض کریں تو یوں ہے کہ حکومت اگرچہ عوامی سیاستدانوں کی ہے مگر عوام سے بہت اوپر اوپر اور عوام بدستور محروم۔
٭٭٭








  کھیل

 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications