|
( ڈاکٹر ظہور اعوان) جیالوں کا جیالا پشاور کا غریب ترین سابق وزیر اور سیاستدان بہت پیارا پورے شہر کا دلارا فارغ بخاری جیسے زعیم شاعر و ادیب کا بیٹا قمر عباس شہید کر دیا گیا۔ پیپلز پارٹی کی جان، آن، شان اور پہچان، اس کی امانت، ضمانت، شہادت، جرا¿ت، قدامت، شناخت، افسانوی کردار کا حامل غریب شہر، جیا تو جیبیں خالی تھیں، مرا تو دونوں ہاتھ خالی تھے۔ دو مرتبہ وزیر بنے، سارے شہر اور صوبے کو گھر اور پلاٹ دینے والے محکموں کے مگر اپنے لئے کوئی پلاٹ کوئی گھر نہ بنا سکے۔ ان کے عظیم والد ان کے لئے 5 مرلے کا ایک گھر نہ بنا جاتے تو وہ سڑک پر خیمہ لگا کے رہتے، اس شہر کا اوریجنل باسی ہمارے شیردل شاعر، ادیب کالم نگار، عاجز، منکسرالمزاج، ملنسار جس کے دل میں کوئی کدورت نہ تھی نفرت نہ تھی صرف پیار تھا اور اس کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر، جیلیں کاٹیں، ماریں کھائیں، حتٰی کہ ضیاءالحق کے سیاہ مارشل لاءنے انہیں مار کر تقریباً ختم کر دیا، ان کے ناخن تک کھینچ ڈالے گئے، پھر انہیں مرا ہوا سمجھ کر لا کر سڑک پر ڈال دیا، جہاں سے بوڑھے پرعزم پہاڑوں جیسا حوصلہ رکھنے والے فارغ بخاری نے انہیں پھر اٹھایا، سینے سے لگایا، پیار کی پھونکوں سے ان کے زندہ زخموں پر مرہم رکھ کر اسے آہستہ آہستہ زندہ کیا۔ جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے، عجیب شخص تھے، اپنے نظرئیے، اپنی بے لوث سیاست اور اپنی پارٹی کے لئے سرکاری عقوبت خانوں اور تہہ خانوں میں الٹا لٹکایا جانے والا جیدار، جس کے سفید بے داغ لباس پر بدعنوانی، بے ایمانی اور بدکرداری کا ایک دھبہ نہ تھا۔ جس کی غربت نے بھرے سرکاری خزانوں سے ایک حرام کی پائی اپنے لئے وصول نہ کی۔ جو بھوکا پیاسا رہا مگر قومی خزانے کو امانت سمجھتا رہا۔ بی کام، ایم اے، ایل ایل بی قمر عباس اس شہر، صوبے اور ملک میں چالیس برس سے سرگرم عمل تھے۔ سٹوڈنٹ لیڈر سے قومی لیڈر تک کے درجے انہوں نے اپنے خون پسینے اور خدمت و شجاعت کے زور پر پاس کئے۔ ان کی ذات کے ساتھ نجانے کتنی کہانیاں وابستہ ہیں اب وہ خود ایک کہانی بن گئے، کئی کتابوں کے مصنف تھے۔ جیل میں بیٹھ کر کتابیں لکھتے رہے۔ ایک دن اپنے والد کی پرانی ڈائری نکال کر مجھے دی اور کہا لالے ظہور باقی آپ کا کام ہے، وہ مجھے اس نام سے پکارتے تھے، میں نے شبانہ روز محنت کی۔ کتاب کی ترتیب و تدوین کی اس پر بھرپور مقدمہ لکھا اور پھر وہ مسافتیں کے نام سے چھپی، فارغ بخاری کی خودنوشت سوانح جس کے خالی حصوں کو قمر عباس نے اپنی یادداشتوں اور تحقیقات سے مکمل کیا تھا۔ جیل میں قمر عباس مذہبی کتابوں اور قرآن پاک کا مطالعہ کرتے رہتے تھے۔ مجھ سے بھی ایسی ہی کتابیں منگواتے، میں جب بھی ان سے ملنے جاتا وہ کاغذ قلم کتاب کی باتیں کرتے۔ وہ وزیر جیل خانہ جات بھی رہے۔ ان دنوں میں انہیں کہتا کہ جیل کے لئے اصلاحات کر لو۔ بعد میں تمہیں ہی اس کے اندر بار بار آنا ہو گا۔ وہ یہ سن کر مسکراتے تھے۔ وہ بہت مسکراتے تھے۔ انہوں نے جیل خانوں کے لئے کافی کام کئے۔ جو بعد میں ان کے بھی کام آئے۔ وہ ہاﺅسنگ کے وزیر تھے تو مجھے کہتے آپ مجھ سے ملنے نہیں آتے۔ میں کہتا کہ میں وزیروں سے نہیں ملتا۔ تو وہ مسکرا کر کہتے۔ وہ تو میرے والد بھی اب مجھے نہیں ملتے۔ قمر مجھ سے عمر میں زیادہ چھوٹا نہ تھا وہ میرے بھائی منظور کا کلاس فیلو تھا۔ مگر وہ مجھے اپنے بزرگوں والا احترام دیتے تھے۔ کیونکہ میں ان کی نگاہ میں فارغ بخاری کا دوست تھا۔ یہ بات فارغ بخاری کے تینوں بیٹوں میں یکساں موجود ہے۔ باپ کے دوست کو وہ باپ کا درجہ دیتے ہیں۔ غریب باپ نے افلاس کا شہد چٹا کر اپنے بچوں میں احترام، غیرت اور جرا¿ت کاشت کی تھی۔ وزارت کے زمانے میں ایک مرتبہ مجھے کہا لالے ظہور آپ حیات آباد میں کوئی پلاٹ کیوں نہیں لیتے، آپ درخواست لے کر آئیں۔ میں انہیں کہتا تم خود اپنے لئے کیوں نہیں لیتے۔ تو وہ کہتے میں تو کبھی نہیں لوں گا۔ میں بھی مسکرا کر کہتا جب تم نے اپنے لئے لے لیا تو ساتھ میرے لئے بھی ایک آدھ لے لینا، وہ وزیر تھے تو گلبہار میں ان کے والد کا پانچ مرلے کا گھر جس کا دروازہ ہر وقت کھلا رہتا تھا۔ صبح و شام لوگ آتے جاتے، چھوٹے سے ڈرائنگ روم میں اس وزیر کے لئے بیٹھنے کی جگہ نہ ہوتی۔ مہمان بیٹھے ہوتے اور وزیر کھڑا ان کی باتیں سنتا۔ درخواستوں پر دستخط کرتا۔ انہوں نے گھر کے باہر ایک ڈبہ بھی لگایا تھا جس میں لوگ اپنی درخواستیں ڈال جایا کرتے تھے۔ قمر عباس نے سیاست میں بڑے دکھ سہے، جیلیں کاٹیں مگر سر نہیں جھکایا۔ میں جب بھی امریکہ جاتا لاس اینجلس میں مجھے ظفر عباس کہتا آپ قمر سے کہیں کہ وہ امریکہ آ جائے۔ یہاں دونوں بھائی محنت مزدوری کریں گے، اس کے بچوں کو بھی بلا لیں گے۔ میں آ کر قمر سے کہتا تو وہ اپنی دھیمی دلآویز مسکراہٹ کے ساتھ مجھے کہتے لالے ظہور اپنا شہر، اپنی پارٹی، اپنی سیاست کیسے چھوڑ کر جاﺅں، میں اکیلا تو نہیں ہوں۔ میں نے ایک امانت بھی اٹھائی ہوئی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے نظرئیے کی امانت، اپنے عظیم والد کی ترقی پسند سوچ کی امانت، وہ ایک روشن خیال انسان تھا۔ ہر قسم کے تعصبات سے پاک اور دور۔ کسی کے لئے اس کے دل میں کوئی عناد نہ تھا۔ سب سے وہ اس طرح ملتے جس طرح وہ ان کا اپنا ہو۔ سیاسی سٹیج پر وہ شیر کی طرح گرجتے تھے۔ ان کی تقریر سننے لوگ دور دور سے آتے تھے۔ ان کے نظریاتی اثبات کی قسمیں کھائی جا سکتی تھیں۔ مگر شخصی زندگی میں ان سے بات کرو تو آنکھیں جھکا کر ایسے دھیمے شائستہ لہجے میں بات کرتے کہ حیرت ہوتی۔ قمر عباس کی بے شمار یادیں اور باتیں دل میں سجی ہوئی ہیں، ان کی خون آلود شہادت نے دل برما دیا ہے۔ سب دوست انہیں محتاط رہنے کا مشورہ دیتے۔ مگر وہ ہر جگہ پہنچتے تھے۔ سیاسی مخالفوں کی غم، شادی اور ذاتی تقریبات میں دل و جان سے شریک ہوتے تھے۔ چند دن پہلے وہ قصہ خوانی کے شہیدوں کے بارے میں منعقدہ ایک سیمینار میں کئی گھنٹے تک میرے ساتھ بیٹھے رہے۔ ہم نے ڈھیروں باتیں کیں۔ انہوں نے شہدائے قصہ خوانی کی قربانیوں پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی۔ ان کی ہی تقریر سب سے عمدہ تھی۔ وہ پوری تیاری کر کے آئے تھے۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ دو چار دن کے بعد وہ بھی پشاور شہر کے شہیدوں میں شامل ہو جائیں گے۔ وہ صحیح معنوں میں سرفروش تھے جنہوں نے اپنی سیاست و نظرئیے کے لئے اپنے سر کو داﺅ پر لگایا ہوا تھا۔ بقول فیض ترے غم کو جان کی تلاش تھی، ترے غمگسار چلے گئے۔ وہ ان دنوں ایک اخبار میں شہر پشاور کی شخصیتوں کو زندہ کرنے کے لئے مسلسل کالم لکھ رہے تھے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ ان کالموں کو کتابی صورت میں چھاپیں گے۔ انہیں کیا پتہ تھا کہ ان کی کتاب کا آخری مضمون اور کالم خود ان کے بارے میں ہو گا۔ ان کی موت کی خبر سن کر سارا شہر سڑکوں پر امڈ آیا۔ رات بھر ان کے گھر میں واویلا کے قیامت خیز منظر جاگتے رہے ان کا جنازہ اٹھا تو ہزاروں لوگ پتہ نہیں کہاں کہاں سے آ کر شریک ہوئے سو سو برس کے بزرگ بابے، بچے، جوان، سیاستدان، دانشور، شاعر، صحافی، اہلِ قلم، عام شہری، وہ کسی کے دشمن نہ تھے۔ ان کے کوئی دشمن نہ تھے۔ وہ تو صرف پیار کرنے والا انسان تھا۔ جب پیپلز پارٹی کے جھنڈے میں لپٹا اس کا جنازہ آیا تو فضا میں چیخیں بلند ہو گئیں۔ انجانے لوگ ایک دوسرے سے گلے لگ لگ کر رو رہے تھے۔ قمر کے پیار کے رشتے میں سب ایک دوسرے کے رشتہ دار بن گئے تھے۔ ہر طرف پی پی پی کے ترنگے اور سیاہ ماتمی جھنڈے لہرا رہے تھے۔ ایک شور و غوغا تھا کہ کانوں پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ ظفر عباس امریکہ سے چل چکا تھا مگر وہ جناح پارک نہیں پہنچا تھا۔ طاہر عباس بھی اس ہجوم میں گم تھا۔ شہر کے سفید پوشوں کے ہجوم میں ایک شہید کا سرخ جنازہ رکھا تھا اور ہر طرف ماتمی صدائیں تھیں ہر آنکھ پرنم تھی۔ قمر عباس کی زندگی عاجزی، انکساری ناداری اور خاکساری کی تصویر تھی۔ جب ان کے گھر پر سرکاری پہرہ بیٹھا اور انہیں سرکاری تحفظ فراہم کیا گیا تو ایک دن مجھ سے کہنے لگے یار ان کو کہاں سے کھلاﺅں۔ میں گارڈ چوکیدار، گن مین، پہریدار کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتا۔ اکثر لوگ حیران ہوتے کہ پھر یہ آدمی سیاست کیوں کر رہا ہے۔ سیاست و حکومت تو لوگ دولت کمانے کے لئے کرتے ہیں۔ قمر عباس تو اپنا سب کچھ لٹا رہا ہے اور آخر میں اپنے لہو کا آخری قطرہ بھی لٹا کر انہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ اس میں قمر عباس جیسے گھر پھونک تماشہ دیکھ قسم کے لوگ بھی موجود ہیں۔ قمر کے بارے میں بہت کچھ لکھنا چاہتا ہوں مگر میرا قلم گنگ ہے اور اس کی آنکھوں سے بھی آنسو رواں ہیں۔ الوداع اے دوست الوداع! ٭٭٭
|
|