اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Thu, 15 May 2008 09:02:00

پینترے بدلنے والے!

پینترے بدلنے والے!
(عطاءالحق قاسمی)
خواجہ بے وفا لاہوری میرے پرانے دوست ہیں۔ ان کی زندہ دلی شہر بھر میں مشہور ہے۔ چنانچہ شہر بھر کے زندہ دل شام کو ان کی بیٹھک میں جمع ہوتے ہیں اور رات گئے تک گپ شپ کی محفل جاری رہتی ہے۔
خواجہ صاحب کی بے مثال خوبی اپنی ذات پر طنز کرنا ہے بلکہ وہ اپنے ساتھ عملی مذاق کرنے سے بھی باز نہیں آتے جس کی ایک مثال یہ ہے کہ وہ اب تک اپنے تین نام خود ہی بدل چکے ہیں۔ چند برس پیشتر وہ ایک حکومتی پارٹی کے رکن تھے اور ہر جلسے میں اپنے لیڈر کو مخاطب کرکے کہتے تھے ”شاہ جی، ڈرو نہیں، پے جاﺅ“ (شاہ جی مخالفوں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں، ان پر حملہ آور ہوجائیں) ان دنوں خواجہ صاحب نے ازراہ تفنن خود کو ”خواجہ پے جا لاہوری“ کہلانا شروع کردیا۔ شاہ صاحب کی حکومت کمزور ہوئی تو انہوں نے جملہ بدل لیا، اب وہ ہر میٹنگ میں اپنے لیڈر کو مخاطب کرکے کہتے ”شاہ جی، ہن بے جاﺅ“ (اب بیٹھ جاﺅ) چنانچہ اس دوران جو خواجہ بے جا لاہور کے نام سے دوستوں کے حلقے میں مشہور ہوگئے، جب ان کی حکومت گئی تو موصوف نے اگلے ہی روز چھلانگ لگا کر حکومت اور اپنے سابقہ لیڈر شاہ جی کے لتے لینا شروع کردئیے اور اپنے ساتھ عملی مذاق اس سے زیادہ کیا ہو سکتا تھا کہ اس کے بعد انہوں نے کھلم کھلا خود کو خواجہ بے وفا لاہوری کہلانا شروع کردیا بلکہ ایک موقع پر تو وہ خود کو خواجہ کی بجائے سر کہلانا چاہتے تھے مگر دوستوں نے منع کردیا۔ دوستوں کا کہنا تھا کہ یہ مذاق مناسب نہیں، کیونکہ اس مذاق کی رینج بہت زیادہ ہے۔
خواجہ پے جا لاہوری، خواجہ بے جا لاہوری اور اب خواجہ بے وفا لاہوری اپنی زندگی سے بہت مطمئن ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انسان کو ضمیر وغیرہ کے چکر میں نہیں پڑنا چاہئے اور وہ اس ضمن میں ایک جملہ بھی ”کوٹ“ کرتے ہیں کہ ”ضمیر انسان کو گناہ سے نہیں روکتا، صرف گناہ کا مزا کرکرہ کرتا ہے“ اس حوالے سے خواجہ صاحب کا ایک باقاعدہ تھیسز ہے، وہ بتاتے ہیں کہ جب وہ سیاست میں آئے اس وقت ان کے پاس صرف سائیکل تھی۔ انہوں نے حکومت وقت کی حمایت کی تو وہ سائیکل سے کار پر آگئے۔ نئی حکومت کا ساتھ دیا تو ایک بڑی حویلی کے مالک بن گئے اور اس کے بعد آنے والی نئی حکومتوں کا ساتھ دینے کے نتیجے میں اب وہ کروڑوں کے مالک ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ سب کچھ جائز ذریعے سے کمایا۔ ٹھیک ہے اب عام لوگ انہیں لوٹا لوٹا کہتے ہیں مگر جنہوں نے ساری عمر رزق حلال پر گزارہ کیا اور ساری زندگی اپنے اصولوں کے مطابق گزاری، معاشرے نے انہیں کون سے سُرخاب کے پَر لگا دئیے ہیں، وہ بھی بغیر کسی ثبوت کے ایک الزام کی مار ہیں۔
میں گزشتہ روز خواجہ بے وفا لاہوری کی مزیدار باتیں سننے ان کی بیٹھک پر گیا تو وہاں اور بھی زندہ دلان لاہور موجود تھے۔ میں نے کہا ”خواجہ صاحب، آپ کی حد تک تو ٹھیک ہے کہ آپ ماشاءاللہ کھلے بے غیرت ہیں لیکن لاہوری کے ساتھ ”بے وفا“ تو نہ لگائیں۔ اس سے ہم لاہوریوں کو فیصل آباد، ملتان، پشاور اور کراچی والے ”مہنے“ مارتے ہیں اس پر خواجہ صاحب نے اپنا روایتی بھرپور قہقہہ لگایا اور کہا ”لوگوں کے مہنے ہی پڑتے ہیں ناں پولیس کے ڈنڈے اور چھتر تو نہیں پڑتے“۔
محفل میں چودھری افسر بے اصول صاحب بھی موجود تھے۔ وہ بھی بڑے زندہ دل انسان ہیں اور انہوں نے بھی کچھ عرصے سے اپنا اصلی نام بدل کر خود ہی چودھری افسر بے اصول رکھ لیا ہے۔ چودھری صاحب نے مجھے مخاطب کیا اور بولے ”جناب ہمیں چین سے روٹی کھانے دیں، آپ ایسی باتیں کرتے ہیں تو کئی کئی دن اس بازار میں پھجے کے پائے کھانے کیلئے جانے کو دل نہیں چاہتا“ میں نے کہا ”چودھری صاحب، اب تو پھجا بھی اس بازار سے باہر آگیا ہے“ اس جملے پر چودھری صاحب نے میرا منہ چوم لیا اور کہا
”یار تم بڑے مخولئے ہو“
میرے استاد محترم انصاف مرحوم، خواجہ بے وفا لاہوری کے چچیرے بھائی تھے۔ خواجہ صاحب کو ان کی زندگی میں ان کے ساتھ کچھ اختلافات تھے جو انصاف کے اس دنیا سے اٹھ جانے پر ختم ہوگئے۔ خواجہ صاحب کہنے لگے ”کچھ لوگوں کی موت ان کی زندگی سے بہتر ہوتی ہے، بالکل اسی طرح جس طرح زندہ ہاتھی لاکھ کا اور مرا ہوا سوا لاکھ کا ہوتا ہے۔ میرا چچیرا بھائی انصاف اب سوا لاکھ کا ہے، تم دیکھنا اس کے ریٹ میں دن بدن اضافہ ہوگا“۔
٭٭٭








  کھیل

 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications