اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Thu, 15 May 2008 09:01:00

گول دائرے کا سفر

گول دائرے کا سفر

عباس اطہر
ججوں کی بحالی کے مسئلے پر مذاکرات کا وہ طویل تماشا ختم ہوا جو کبھی اسلام آباد کبھی دبئی اور کبھی لندن میں لگتا تھا اور جس نے قوم کو ذہنی مریض بنا دیا تھا۔ عدلیہ بحال نہیں ہوئی، کوئی بات نہیں۔ ایک عذاب سے تو جان چھٹی جو پہلے سے ان گنت عذابوں میں دبی قوم کے سر پر بونس کے طور پر مسلط ہو گیا تھا۔
مسلم لیگ (ن) کابینہ سے الگ ہو گئی ہے لیکن اپوزیشن میں بیٹھنے کے بجائے بدستور حکومت کا حصہ بنی رہے گی۔ امریکہ نے بھی اس پر اطمینان ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ اسے امید ہے کہ حکمران اتحاد نہیں ٹوٹے گا۔ کئی اور تجزیہ نگاروں کا بھی یہی خیال ہے کہ ججوں کے مسئلے پر کوئی اتفاق نہ ہوتے دیکھ کر دونوں جماعتوں نے یہی فیصلہ کیا ہے کہ اتحاد تو برقرار رہے لیکن مسلم لیگ کابینہ سے نکل آئے۔اس لئے اتحاد برقرار رہے گا۔ سوال یہ ہے کہ امریکہ کی یہ امید اور تجزیہ نگاروں کا یہ خیال درست ہے؟ امریکہ کی حد تک تو بات صاف ہے۔ عدلیہ بحال نہیں ہوتی تو اسے اس سے کوئی غرض نہیں کہ اتحاد قائم رہتا ہے یا ٹوٹ جاتا ہے۔ اسکی فکرمندی کا سارا فوکس اس بات پر ہے کہ کہیں جج بحال نہ ہو جائیں۔ اب یہ خطرہ ٹل گیا ہے خواہ عارضی طور پر ہی سہی تو اسے اطمینان کی سانس لینے کا موقع مل گیا ہے۔ رہا تجزیہ نگاروں کا یہ خیال کہ اتحاد قائم رہے گا، یہ یا تو خوش امیدی پر مبنی ہے یا غلط فہمی پر۔ برسر زمین حقائق یر ہیں کہ قاف لیگ کو قابل قبول پارٹی بنانے کا منصوبہ حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ اطلاع ہے کہ حامد ناصر چٹھہ یا پیر صاحب پگاڑو نئی قاف لیگ کے سربراہ ہوں گے اور یہ لیگ مرکز ہی نہیں پنجاب میں بھی پیپلز پارٹی کی حکومت بنانے میں کردار ادا کرے گی۔ پنجاب میں قاف لیگ اور پیپلز پارٹی کے ارکان کی مجموعی تعداد سادہ اکثریت سے کچھ زیادہ ہی ہے۔ چند ایک قاف لیگی ارکان نے پیپلز پارٹی کا ساتھ نہ دینے کا فیصلہ کیا تب بھی اس نئے اتحاد کو اکثریت مل جائے گی۔ کچھ آزاد ارکان اس سے جا ملیں گے تو خود مسلم لیگ (ن) کے اندر سے بھی ضمیر کے قیدی کسی نہ کسی تعداد میں درآمد کر لئے جائیں گے۔ مرکز میں نئے اتحاد کیلئے اتنی بڑی تیاریاں نہیں ہو رہیں جتنی پنجاب میں ہو رہی ہیں۔ گورنر ہاﺅس پنجاب میں تبدیلی کیلئے منصوبہ سازی کا محور بنا ہوا ہے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق ایک ہفتے سے لے کر ایک مہینے تک کی مدت میں پنجاب میں بھی نئے اتحاد کی حکومت قائم ہو جائے گی یا کر دی جائے گی اور اگر خدانخواستہ کوئی رکاوٹ ہوئی یا قاف لیگ میں کسی بڑے دھڑے نے نئے اتحاد کا ساتھ نہ دیا تو گورنر راج لگا دیا جائے گا جس کے بعد مرضی کی نگران حکومت قائم کرکے حسب ضرورت مثبت نتائج حاصل کئے جائیں گے تاہم یہ احتیاط کی جائے گی کہ مسلم لیگ (ن) کے ارکان کی تعداد میں بہت زیادہ کمی نہ کی جائے تاکہ شفاف الیکشن کا تاثر بھی قائم رہے۔
 پنجاب میں تبدیلی کیلئے واضح نظر آنے والی کوششوں کے بعد مسلم لیگ (ن) مرکز میں کب تک حکومتی بنچوں پر بیٹھی رہے گی؟ ظاہر ہے بہت جلد اسے اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنا پڑے گا۔ پرانی عادتیں کب بدلتی ہیں۔ مشرف صاحب اس دوران پورا زور لگا کر مسلم لیگ (ن) کے کچھ ارکان اسمبلی کو توڑنے کی کامیاب یا ناکام کوشش بھی کریں گے۔ امریکی جریدے ٹائم نے لکھا ہے کہ دونوں پارٹیوں میں محاذ آرائی نہ صرف ہو کر رہے گی بلکہ یہ اسی سطح پر جا پہنچے گی جس پر یہ 1980ءاور 1990ءکی دہائی میں تھی۔ شاید جنرل مشرف کا یہی خواب تھا جو پورا ہونے والا ہے۔
آصف زرداری کے سامنے کیا فنی یا عملی مجبوریاں تھیں؟ وہ کون سے تلخ حقائق ہیں جو زرداری کو نہ آگے بڑھنے دے رہے ہیں نہ اس بات کی اجازت دے رہے ہیں کہ وہ ان حقائق کو عوام کے سامنے لا سکیں اور اپنی پوزیشن واضح کر سکیں۔ جو بھی ہو، خسارے کا زیادہ سامنا پیپلز پارٹی کو ہے۔ آصف زرداری کی یہ بات صحیح ہے کہ انہوں نے عوام سے ججوں کی بحالی کا مینڈیٹ نہیں لیا تھا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بینظیر شہید نے اپنی تقریروں میں عدلیہ، بشمول چیف جسٹس، کی بحالی کا وعدہ کیا تھا اور وہ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کر سکتے کہ الیکشن کے فوراً بعد انہوں نے نواز شریف سے مل کر اعلان بھوربن پر دستخط کئے تھے جس کا موضوع ہی ججوں کی بحالی تھا۔ بعد میں جو مجبوریاں یا رکاوٹیں سامنے آئیں، عوام ان سے لاعلم ہیں اسی لئے تنقید کرنے والوں کا ہدف آصف زرداری ہیں جبکہ نواز شریف عوامی ہمدردیاں سمیٹتے نظر آ رہے ہیں۔
یہ تو خیر ایک مرحلہ ہے اور سنگین سیاسی حقیقت کا ایک رخ، لیکن بات صرف یہی تک محدود ہوتی تب بھی شاید نظر انداز کی جا سکتی تھی۔ معاملہ اس سے آگے ہے۔ پنجاب میں حکومت کے خاتمے کے بعد عدلیہ کی بحالی کی جو تحریک چلنے والی ہے، اس کا زیادہ زور پنجاب اور پھر سرحد میں ہی ہو گا۔ سندھ میں بوجوہ اس تحریک کی سطح شاید تشویش ناک سطح تک نہ پہنچے اس تحریک کے اجزائے ترکیبی میں وکلائ، سول سوسائٹی، مسلم لیگ (ن) (پنجاب حکومت کے خاتمے کے بعد جس کی مظلومی اور بھی بڑھے گی) جماعت اسلامی، تحریک انصاف شامل ہوں گی اور اسے اسٹیبلشمنٹ کے بعض حصوں کی حمایت بھی مل سکتی ہے۔ اگر ٹائم کی یہ رپورٹ صحیح ہے کہ مشرف کو اب بھی فوج کے اندر قابل ذکر حمایت حاصل ہے تو اس کا سیدھا سادا مطلب یہ ہے کہ ایک قابل ذکر حصہ ان کا مخالف بھی ہے۔ جنرل کیانی کی یہ بات سو فیصد قابل اعتبار سہی کہ فوج غیر سیاسی اور غیر جانبدار ہو چکی ہے لیکن یہ بات وہ بھی جانتے ہیں کہ جب ملک ہنگامہ خیز حالات کا شکار ہوتا ہے تو بہت کچھ تبدیل ہو جاتا ہے۔ بہرحال، دیکھنے کی بات یہ ہے کہ آئندہ ہفتوں یا مہینوں میں سڑکوں پر کیا ہوتا ہے اور ایوانوں کے اندر کیا اور اس سے بھی اہم یہ کہ اقتدار کی خفیہ غلام گردشوں میں کیا چالیں چلی جاتی ہیں۔ اس ملک کی تاریخ بتاتی ہے کہ سڑکوں پر چلنے والی تحریک جب کامیاب ہوتی ہے تو کامیابی کا تمغہ تحریک کو نہیں ملتا۔ یہ ثمر کوئی اور لے اڑتا ہے جو کئی برسوں تک کیلئے قوم کا نجات دھندہ بن جاتا ہے یہاں تک کہ نئی تحریک کے حالات پیدا ہو جاتے ہیں۔
1958ءسے شروع ہونے والے گول دائرے کے اس سفر کا اختتام 2008ءمیں بھی نظر نہیں آتا۔


 










© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications
sponsors: air purifier