اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Thu, 15 May 2008 08:59:00

ضرورت نظریہ ¿ ضرورت کی ماں

ضرورت نظریہ ¿ ضرورت کی ماں
(منو بھائی)
بلاشبہ یہ دلیل ایک بہانہ یا عذر ہے کہ ججوں کی بحالی سے زیادہ اہمیت روٹی، کپڑا اور مکان کی فراہمی کو حاصل ہے لیکن اس سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ججوں کی معزولی اگر غیرقانونی اور غیرآئینی ہے تو عوام کو ان کے جائز حقوق سے محروم رکھنا غیرانسانی ہے اور غیرانسانی بے عملی بھی اتنی ہی قابل نفرت ہے جتنی غیرقانونی اور غیرآئینی بدعملی ہوسکتی ہے۔ ہمارے حکمرانوں کی ترجیحات میں ان دونوں کو برابر اہمیت ملنی چاہئے۔ ان دونوں کو ایک دوسرے کے مقابلے میں لانا مناسب اور موزوں نہیں ہے۔ ججوں کی بحالی اور روٹی، کپڑا، مکان کی فراہمی کے معاملات کو صرف اسی صورت ایک دوسرے کے مقابلے میں لایا جاسکتا تھا جب ہمارے حکمران اپنے بھوکے ننگے اور بے گھر لوگوں کو روٹی، کپڑا اور مکان کی فراہمی کے منصوبوں میں ہمہ تن مصروف ہوتے اور وکلاءحضرات اور سول سوسائٹی ان پر دباﺅ ڈالتی کہ وہ پہلے ججوں کی بحالی پر توجہ دیں مگر فی الوقت ایسی صورتحال نہیں ہے۔ ابھی تو ہمارے حکمران اپنے اقتدار کو بچانے، ملک کے اصل حکمرانوں کے مزاجوں کو سمجھنے اور اپنے لباس فاخرہ سلوانے اور زیب تن کرنے میں مصروف ہیں۔ ان کی ترجیحات میں روٹی، کپڑا، مکان کی فراہمی کا ابھی دور دور تک کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی فرماتے ہیں کہ عوام نے ہمیں صرف روٹی، کپڑا اور مکان کی فراہمی کا ہی نہیں، عدلیہ کی بحالی اور آزادی کا مینڈیٹ بھی دیا ہے اور ہم عوام کی توقعات پر پورا اتریں گے۔ عدلیہ کی آزادی، ملک میں قانون کی حکمرانی، ملکی معیشت کی مضبوطی اور بجلی کے بحران پر قابو پانا حکومت کی اولین ترجیحات ہیں۔ کچھ واضح اشارے وزیراعظم صاحب کے ان ارشادات سے بھی ملتے ہیں کہ صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کےخلاف مواخذے کی تحریک ملک میں اقتصادی بحران پیدا کرسکتی ہے اور ملک و قوم کی نظریاتی سرحدوں کی محافظ ابھی تک (رن آف کچھ، چھمب جوڑیاں، مشرقی پاکستان اور کارگل کے معرکے سر کرنے والی) افواج پاکستان ہیں۔ یعنی گزشتہ 9 برسوں بلکہ 38 سالوں سے قوم کی تقدیر کی کشتی چلانے والے آج بھی ہمارے ناخدا ہیں۔
ہمارے دوست غلام اکبر کے خیال میں ہمارے ”ناخدا“ غذا کی قلت، تیل کی روزافزوں گرانی سے بڑھنے والی مہنگائی سے معیشت میں آنے والے زلزلوں اور گزشتہ 9سالوں کی ناکردہ کاری سے جنم لینے والے بجلی کے بحران اور ”لوڈشیڈنگ“ کے داغ داغ اجالے اور شب گزیدہ سحر میں ابھرنے والے بحرانوں کو کافی نہیں سمجھتے چنانچہ انہوں نے ملک اور قوم کی قوتِ مدافعت یا برداشت کی طاقت کا امتحان لینے کیلئے ایک اور بحران کے بیج بھی بو رکھے ہیں جن سے سیاسی عدم استحکام اور بے یقینی کی فصل اگنے لگی ہے اور آئند چند ہفتوں میں لہلہانے بھی لگے گی اور پھر شائد ناخداﺅں کی کسی اقتصادی یا معاشی ایمرجنسی کی درانتی کا انتظار بھی کرنے لگے گی۔
ہمارے دوست کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ وہ اس چوتھے یا پانچویں بحران کو کیا نام دیں مگر بحرانوں کو ناموں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ گلاب کو کوئی بھی نام دیدو، وہ گلاب ہی رہیگا اور کانٹا ہر اسم شریف کے ساتھ کانٹا ہوگا۔ ہمارے دوست کے علم میں ہوگا کہ وطن عزیز میں ہر بحران کا مقابلہ ایک اور بحران کے ذریعے کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پے در پے ناکامیوں کے باوجود یہ کوشش جاری ہے۔ خواہش ہوتی ہے کہ ایک ”نان ایشو“ سے پیدا کیا جانیوالا بحران ایک اور ”نان ایشو“ سے پیدا کئے جانیوالے بحران میں دب کر رہ جائے۔ ہمارے ارباب بست و کشاد فروعی مسائل سے جنم لینے والے بحرانوں کو دبانے کیلئے مزید فروع مسائل کے بحرانوں کو جنم دیتے ہیں تاکہ اصلی، حقیقی اور بنیادی مسائل ان فروعی مسائل کے بحرانوں کے ملبے تلے دب کر دم توڑ دیں۔ وہ ایسے بحرانوں کو نظریہ ضرورت کے بحران سمجھتے ہیں اور ہمیں بھی سمجھنا چاہئے کہ ضرورت ایجاد کے علاوہ نظریہ ضروت ایجاد کرنیوالوں کی بھی والدہ صاحبہ ہیں۔
پیپلز پارٹی بھی شائد کسی نظریہ ضرورت کے زیراثر عوامی، انقلابی، سوشلسٹ یا سوشل ڈیموکریٹ پارٹی سے مخدوموں کی پارٹی بن چکی ہے۔ اس کے یکے از مخدومین سید یوسف رضا گیلانی کی کابینہ میں ایک روشن خیال وزیر تعلیم احسن اقبال اگر عظیم شاعر فیض احمد فیض کے ”گرائیں“ ہیں تو ایک نیک دل خاتون آپا نثار فاطمہ مرحومہ کے حوالے سے میرے عزیز دوست اور مہربان بھی ہیں۔ پتہ نہیں وہ اس کابینہ میں کب تک رہیں گے مگر جب تک ہیں کچھ نہ کچھ کرتے رہیں گے اور عوام کو مایوس نہیں کریں گے۔ گزشتہ روز انہوں نے تیرہویں بین الصوبائی تعلیم کے وزیروں کی کانفرنس میں بتایا کہ وطن عزیز کی کم و بیش چھ ہزار یونین کونسلوں میں لڑکیوں اور لڑکوں کا کوئی ایک بھی ہائی سکول نہیں ہے۔ 70 فیصد سے زیادہ ہائی سکولوں میں سائنس کی تعلیم ضروری نہیں سمجھی جاتی اور 95 فیصد ہائی سکولوں میں کمپیوٹر کا کوئی وجود بلکہ نام و نشان بھی نہیں ہے۔
کانفرنس میں بتایا گیا کہ جنرل پرویز مشرف کی سربراہی میں فوجی حکومت نے 8 سالوں میں اعلیٰ تعلیمی سطح کے سرکاری اخراجات میں تو دس فیصد اضافہ کیا ہے مگر گراس روٹس تک حکمرانی لے جانے کا دعویٰ کرنے والوں نے پرائمری تعلیم کو یکسر اور مکمل طور پر نظرانداز کیا ہے۔ 9 سالوں کی اس اذیت ناک اور خوفناک غفلت نے تعلیم کے شعبہ سے توازن کو بہت ہی زیادہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے، چنانچہ اس خوفناک عدم توازن کو دور کرنے اور توازن واپس لانے اور بہتر بنانے کیلئے نچلی سطح اور ابتدائی درجے کی تعلیم پر خصوصی اور ہمہ گیر توجہ دینی پڑے گی مگر ان حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے کیا ہمیں اس پر فخر نہیں کرنا چاہئے کہ اس کے باوجود ہم پورے عالم اسلام کی پہلی ایٹمی قوت بن چکے ہیں اور دور مار میزائلوں کے کامیاب تجربے کررہے ہیں اور دعوے کرتے ہیں کہ ہمارے ایٹمی اثاثے اور ان کی تنصیبات محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔ ہمارے قومی شاعر نے کہا ہے کہ
کافر ہے جو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
ہماری کوشش یہ معلوم ہوتی ہے کہ ہم یہ ثابت کریں کہ شمشیر یا تیغ کے علاوہ ہاتھوں، بانہوں اور ذہنی صلاحیتوں کے بغیر بھی جنگ لڑی جاسکتی ہے بلکہ ستاروں پر کامیابی سے کمندیں بھی ڈالی جاسکتی ہیں۔
٭٭٭









© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications
sponsors: air purifier