وجاہت علی عباسی
پچھلے ہفتے پاکستان میں شائع ہونے والے شام کے ایک اخبار میں چھوٹی سی ایک خبر چھپی.... ایک آدمی نے اپنی بیوی اور دو بچوں سمیت چلتی ٹرین کے نیچے لیٹ کر اپنی جان دے دی۔ خبر اتنی چھوٹی تھی کہ شاید وہ بڑی بڑی شخصیات کی رنگین تصویروں کے ساتھ چھپنے کی وجہ سے صفحے پر سامنے ہونے کے باوجود کچھ گم سی گئی۔ آئیے آج ہم آپ کو اس چھوٹی سی خبر والے شخص سے ملائیں جو اپنی پوری زندگی سمیٹے ٹرین کی پٹڑی پر لیٹا موت کا انتظار کر رہا ہے۔
”ابو میں اسکول نہیں گیا تو بھی اپنی محنت سے کامیاب انسان بن جاﺅں گا“ یہی کہتا تھا وہ پانچ سال کا سلیم جو جانتا تھا کہ اس کے والد ایک غریب، اخبار کی دکان پر کام کرنے والے ہیں اور چاہتے ہوئے بھی اپنے بیٹے کو اسکول نہیں بھیج سکتے ہیں۔ اپنے والد کے ساتھ دکان پر بیٹھا وہ جب دوسرے بچوں کو اسکول جاتے دیکھتا تو اس کے والد کو اپنی بے بسی پر تکلیف نہ پہنچے اس لئے فوراً ایک اخبار اٹھاتا اور کہتا ”ابو دیکھ لیجئے گا ایک دن آپ کے بیٹے کا نام بھی اس اخبار میں ضرور چھپے گا۔ سلیم احمد کا نام اس ملک کے بڑے بڑے لوگوں کے ساتھ چھپے گا“ سلیم کے بے بس والد یہ جاننے کے باوجود کہ ان کے بیٹے کی ہر ضرورت کا انحصار ان پر ہی ہے مسکرا دیتے اور کہیں دل کے گوشے میں یہ یقین رکھتے کہ سلیم کی کہی بات ایک دن سچ ہو گی۔
آٹھ سال کی عمر سے سلیم نے پھول بیچنا شروع کر دئیے وہ بھیک نہیں مانگے گا.... پڑھ تو نہیں پایا تھا لیکن اس کے والد کی دکان کے پاس چائے کے ڈھابے پر رکھے ٹی وی نے اسے بہت کچھ سکھایا۔ قائداعظم، لیاقت علی خان اور علامہ اقبال کے کئی اقوال اسے زبانی یاد تھے۔ محنت سے قومیں آگے بڑھتی ہیں.... یہی تھا ان قولوں کا حاصل۔
سلیم صبح چار بجے اٹھتا ‘خود پھول چنتا ‘اس سے ہار بناتا اور پھر سارا دن اپنے ننھے ہاتھوں میں پھول تھامے ان گزرتی گاڑیوں کو امید سے دیکھتا جن میں اسی کی عمر کے بچے اسکول جا رہے ہوتے۔ امید اس بات کی کہ اس کی محنت کا پھل اسے ملے یعنی کوئی اس سے پھول خریدے بہت زیادہ ضرورت ہونے کے باوجود جب کوئی اسے پھول کی قیمت سے زیادہ پیسے دینے کی کوشش کرتا تو وہ مسکرا کر یہ کہہ کر لوٹا دیتا کہ مجھے میری محنت کا صلہ مل گیا ہے وہ عمر جب بچے بازار میں ملنے والی ہر چیز خریدنے کی والدین سے ضد کرتے ہیں اسی عمر میں سلیم کی زندگی کا سب سے اچھا دن وہ تھا جب اس نے اپنے والد کو اپنی کمائی سے نیا قلم خرید کے دیا تھا۔
اس بات کو پچیس سال گزر گئے وہ قلم آج بھی سلیم کے پاس ہے جو اس نے اپنے والد کو بچپن میں خرید کے دیا تھا۔ شاید اس قلم کو دیکھ کر اسے کبھی کبھی لگتا ہے کہ کامیابی کی طرف کم سے کم اس نے ایک قدم تو اٹھایا تھا۔ سلیم کی پھولوں سے شروع ہونے والی زندگی کو آج کے نظام نے روند کر رکھ دیا۔ سلیم آج سمجھ گیا ہے کہ غریب آدمی کا بیٹا صرف غریب آدمی بنتا ہے اور کچھ نہیں۔
سلیم کے بچے پچھلے کئی مہینوں سے ہفتے میں صرف ایک یا دو بار مشکل سے پیٹ بھر کے کھانا کھا پاتے ہیں ۔سلیم نے زندگی میں جو بھی کرنا چاہا.... اس کا اچھا قدم برے system کی بَلی چڑھ گیا‘ بچوں کو اسکول بھیجنا چاہا تو گورنمنٹ اسکول میں جگہ نہیں، پیسے جمع کر کے ٹھیلا لگایا تو وہ فساد کی نذر ہو گیا۔ قسطوں پر رکشہ خریدا تو وہ غلط کیس میں پولیس نے ضبط کر لیا۔ چھوٹی سے چھوٹی نوکری کرنی چاہی تو بغیر رشوت اور سفارش کے نہ ملی ہر نئی حکومت کے آنے پر مہنگائی کا مزید بڑھ جانا، سلیم روز اپنے بچوں کو بھوک سے مرتا دیکھتا روز اپنی سی ہر کوشش کر کے بھی سسٹم سے اتنا نہیں لڑ پاتا کہ اپنے بچوں کے لئے دو روٹیاں لا سکے۔ وہ روز اپنے بچوں کو مرتا نہیں دیکھ سکتا تھا سلیم کے پاس دو ہی راستے تھے یا تو وہ سڑک پر اپنے بچوں سے بھیک منگوائے یا پھر....
سلیم ریل کی پٹڑی پر لیٹا اپنی موت کا انتظار کر رہا ہے۔ وہ خوش ہے کہ اس کے والد اب دنیا میں نہیں ہیں ورنہ کل ان کو اپنے بیٹے کا نام اخبار میں لکھا نظر آتا، اسے ناز ہے اس بات پر کہ وہ اچھا شہری بن پایا.... اس نے اپنی قوم کے لئے کچھ کرنا چاہا، اپنی سی ہر محنت کی اچھا بیٹا بنا، اچھا باپ بننے کی ہرممکن کوشش کی، جھوٹ نہیں بولا، چوری نہیں کی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا ہمیشہ وہ کیا جو ایک اچھے انسان کو کرنا چاہئے.... ہمیشہ دوسروں کے لئے.... اور ٹرین آ گئی....
٭٭٭٭