روزن دیوار سے.... عطاءالحق قاسمی ان دنوں اخبارات میں جیلوں اور جیلوں میں دی جانے والی اذیتوں کا ذکر عام ہے۔ اس حوالے سے مجھے بھی کچھ باتیں یاد آ رہی ہیں۔ موازنہ آپ خود کر لیجئے کہ تب.... اور.... اب میں کیا فرق ہے۔ والد ماجد مولانا پیرزادہ بہاءالحق قاسمیؒ کو قیام پاکستان کے بعد بھی جیل جانے کا اتفاق ہوا۔ قیام پاکستان سے قبل انگریز کے خلاف باغیانہ تقریروں کے سلسلے میں دو مرتبہ جیل گئے اور قیام پاکستان کے بعد جنرل اعظم خان کے مارشل لاءمیں پہلے شاہی قلعہ لے جائے گئے اور پھر انہیں جیل بھیج دیا گیا۔ انگریز کے زمانے کی جیل کوئی آسان جیل نہیں تھی، سیاسی قیدیوں سے بھی مشقت لی جاتی تھی، صرف یہی نہیں بلکہ انہیں سخت ذہنی و جسمانی اذیتوں سے بھی گزارا جاتا تھا مگر یہ وہ قیدی ہوتے تھے جنہیں سخت خطرناک سمجھا جاتا تھا۔ ان خطرناک قیدیوں میں ایک شورش کاشمیری مرحوم و مغفور بھی تھے، جنہیں عین شب عروسی میں انگریز کے تنخواہ دار ہندوستانی سپاہی گرفتار کر کے لے گئے، اس مرد مجاہد نے اپنے شباب کے آٹھ سال قید و بند میں گزارے، یہ وہ لوگ ہیں، ہم آزاد پاکستان میں رہنے والے جن کا احسان کبھی نہیں اتار سکتے کہ پاکستان ہمیں ان لوگوں کی عدیم المثال قربانیوں کے نتیجے میں بھی حاصل ہوا۔ امیر شریعت سید عطاءاللہ شاہ بخاری کا بھی یہ عالم تھا کہ بقول ان کے ”میری آدھی عمر ریل (مختلف شہروں میں تقریروں کیلئے کئے جانے والے سفر کی وجہ سے) میں اور آدھی عمر جیل میں کٹ گئی“ والد مرحومؒ بتایا کرتے تھے کہ شورش کاشمیری کو جیل میں شدید اذیتوں کا نشانہ بنایا گیا۔ حتٰی کہ ان کے منہ پر غلاظت باندھ دی جاتی تھی مگر آزادی کے اس متوالے کے پائے استقلال میں رتی بھر لغزش نہیں آئی۔ امرتسر میں ہمارے مکان کے باہر سی آئی ڈی کا ایک اہلکار مستقل بیٹھا کرتا تھا، والد ماجدؒ جہاں جاتے، وہ سائے کی طرح ان کا پیچھا کرتا۔ والد ماجدؒ کے کوئی خفیہ عزائم نہیں تھے۔ انہوں نے جو کہنا ہوتا تھا، وہ بھرے جلسے میں کہہ دیتے تھے۔ چنانچہ کچھ عرصہ بعد سی آئی ڈی کا یہ اہلکار کافی Relaxed محسوس کرنے لگا، بلکہ کچھ عرصہ بعد والد ماجدؒ کے کردار کی وجہ سے اس کے دل میں ان کی عقیدت بڑھتی چلی گئی اور پھر وہ گاہے گاہے ہمارے لئے بازار سے سودا سلف بھی لینے چلا جاتا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد غالباً 1953ءمیں اینٹی قادیانی تحریک کا آغاز ہوا جس کے نتیجے میں جنرل اعظم خان کا مارشل لاءنافذ ہوا، میری عمر اس وقت صرف دس سال تھی۔ والد ماجد اور دوسرے علماءکو مسجد وزیر خان سے گرفتار کیا گیا اور تفتیش کیلئے شاہی قلعے لے جایا گیا۔ شاہی قلعے کا تہہ خانہ کسی زمانے میں پاکستان کا سب سے بڑا ٹارچر سیل تھا، ہم گھر والوں کو ڈیڑھ ماہ تک کچھ پتہ نہیں تھا کہ ابا جی کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں؟ میں تو بچہ تھا لیکن باقی گھر والے اس عرصہ میں جس اذیت سے گزرے، اس کا احوال وہ آج بھی بیان کرتے ہیں تو میں پریشان ہو جاتا ہوں، تفتیش کے دوران والد ماجدؒ کو شدید اذیتیں دی گئیں۔ انہیں کھانا کھلانے کے بعد ایک کرسی پر بٹھا دیا جاتا تھا اور سر پر نہایت تیز روشنی کا بلب جلا دیا جاتا، کرسی کے پیچھے ایک سنگین بردار کھڑا ہو جاتا۔ والد ماجدؒ پر جب غنودگی طاری ہونے لگتی تو وہ پیچھے سنگین کی نوک چبھوتا اور کہتا ”مولانا! جاگتے رہیں“ اس طرح مسلسل تین راتیں ابا جی کو سونے نہیں دیا گیا۔ اس طرح کی دیگر اذیتوں کے بعد ایک دن انہیں ٹارچر سیل کے انچارج کے حضور پیش کیا گیا، اس نے والد ماجدؒ کو دیکھتے ہی کہا ”آپ اپنا ایڈریس لکھوا دیجئے تاکہ آپ کی میت آپ کے گھر والوں کے سپرد کی جا سکے“۔ والد ماجدؒ نے پورے سکون سے جواب دیا۔ ”ایڈریس آپ کے پاس ہو گا، لیکن لکھ لیجئے کہ میری زندگی کا ایک لمحہ بھی آپ نہ گھٹا سکتے ہیں اور نہ بڑھا سکتے ہیں“۔ یہ استقامت دیکھ کر انچارج نے کہا ”میرا مطلب تھا، خدانخواستہ اگر آپ کی موت واقع ہو جاتی ہے“ یہ کہتے ہوئے اس نے قلعے کے ایک اہلکار کو ایک عالم دین کا نام لے کر انہیں لانے کیلئے کہا۔ والد ماجدؒ بتاتے ہیں کہ وہ مولانا کمرے میں داخل ہوتے ہی سیدھے انچارج کے پاﺅں میں گر گئے اور زار و قطار رونا شروع کر دیا اور معافی مانگنا شروع کر دی۔ انچارج نے طنز بھری نظروں سے والد محترمؒ کی طرف دیکھا اور پھر اہلکار سے ان مولانا کو واپس لے جانے کیلئے کہا۔ جب والد محترمؒ نے مجھے یہ واقعہ سنایا تو میں نے ان سے ان عالم دین کا نام پوچھا مگر والد ماجدؒ نے اپنی آخری سانسوں تک ان کا نام نہیں بتایا۔ اس کے جواب میں ہمیشہ یہ کہتے رہے کہ ایک تو اسلام ہمیں پردہ داری کا حکم دیتا ہے اور دوسرے خدا جانے ان پر کس درجہ مظالم ہوئے تھے کہ ان کی ہمت جواب دے گئی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ میں آج تک کسی ایسے شخص پر ہنس نہیں سکا اور نہ اس پر طعن پسند کیا جو اس قسم کے حالات سے دوچار ہونے کے بعد کسی کمزوری کا مرتکب ہوا ہو۔ اللہ تعالیٰ کسی کو امتحان میں نہ ڈالے۔ والد ماجدؒ کردار کی استقامت کے سلسلے میں مولانا عبدالستار خان نیازی کی بہت تعریف کرتے تھے۔ جب والد محترم شاہی قلعہ سے جیل میں منتقل کئے گئے تو ان دنوں فوجی عدالت نے مولانا عبدالستار خان نیازی کو موت کی سزا سنائی، وہ پھانسی والے لباس میں جب قیدیوں کی بیرک کے سامنے سے گزرے تو کچھ قیدیوں نے اس عالم میں انہیں دیکھ کر رونا شروع کر دیا۔ مولانا نے انہیں اپنی شیر جیسی آواز میں مخاطب کیا اور کہا ”روتے کیوں ہو.... اللہ پر بھروسہ رکھو!“