/ ہفتہ وار کالم

  

    

پرنٹ اخبار
سیاست
تجارت و معیشت
کھیل اور کھلاڑی
فن و فنکار
سائنس اور ٹیکنالوجی
کمیونیٹی خبریں
سپیشل کونٹینٹ
بچوں کے لیے
خواتین کے لیے
مذہب کے متعلق
  
Thu, 08 May 2008 00:53:00

دولیکچر‘ ایک مقرر‘واحد سامع

دولیکچر‘ ایک مقرر‘واحد سامع
ڈاکٹر ظہور اعوان
میں جس کھڑکی کے سامنے بستر پر لیٹا ہوں وہاں سے جھیل ایری کا منظر تاحد نگاہ نظر آتا ہے مگر اس وقت رات ہے اور تاریکی میں دور دور تک پھیلے ننھے منے جزیرے جگنوﺅں کی طرح جگمگاتے نظر آ رہے ہیں۔ ان جزیروں میں مالدار امریکی اکیلے اکیلے رہتے ہیں۔ گرمیوں میں کشتیاں اور سردیوں میں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے باقی دنیا سے ان کا رابطہ قائم ہوتا ہے۔ میرا مسئلہ اس صبح کاذب کے وقت یہ تھا کہ کمرے میں دوسرا ذی روح بھی موجود ہے۔ اس لیے بتی کیسے جلاﺅں‘ غسلخانے میں قالین بھی نہیں بچھا تھا اور بیٹھنے کا معقول انتظام نہ تھا۔ اس لیے چاروناچار برہنہ پا ٹپ ٹو باہر نکلا ، ہو کا عالم‘ سیڑھیاں اتر کر نیچے آیا تو ہوٹل کے کاﺅنٹر پر میم کبھی خراٹے لیتی تو کبھی کمپیوٹر میں ہاتھ مارتی نظر آتی۔ میں ایک بڑے ٹیبل لیمپ کے نیچے بیٹھ کر اپنا کام کرنے لگا۔ اتنے میں میم جاگی اور میرے پاس آ کر پوچھنے لگی خیریت تو ہے، میں نے کہا آپ کی خیریت خداوند تعالیٰ سے نیک مطلوب ہے۔ عادت سے مجبور ہو کر نیچے آ بیٹھا ہوں۔ اس نے کہا کافی لا دوں۔ میں نے کہا خیر ہو آپ کی۔ میں کافی نہیں پیتا‘ اس نے کہا پھر ریلیکس ہو کر لکھیں پڑھیں۔ اس چھوٹی سی بستی کے اس سو دو سو سال قدیم ہوٹل پر ایک پراسراریت سی چھائی ہوئی تھی۔ اگر وہ میم وہاں نہ ہوتی تو میں بھی ہول کھا جاتا۔ لابی کے ایک کمرے میں ایک چھوٹی سی لائبریری بھی قائم تھی۔ میں اندر گیا تو بے شمار کتابیں رکھی تھیں۔ ایک جگہ مجھے مشہور زمانہ روسی ناول نگار لیوٹالسٹائی کے ناول وار اینڈ پیس کا انگریزی ترجمہ نظر آگیا۔ میں کتابوں کے مطالعے میں مصروف تھا کہ جھیل کنارے کی کھڑکیوں میں سے کچھ سائے حرکت کرتے نظر آئے۔ اب یہ بستی جاگنے لگی تھی، ہلکے اندھیرے اور روشنی کے سماں میں لوگ نکلنے لگے تھے۔ کچھ خواتین اپنے کتوں کو نہلانے آگئی تھیں تو کچھ صبح کی سیر کے رسیا لمبی واک کے لیے چلے آئے تھے۔ مگر زیادہ تر لوگ مچھلیاں پکڑنے کا سامان لیے جھیل کی طرف بڑھ رہے تھے شاید صبح جب روشنی پھیلنے لگتی ہے تو مچھلیاں بھی سطح کی طرف آتی ہیں اور اس طرح ماہی گیری کا عمل آسان ہو جاتا ہے۔ میں نے دس دس سال کے بچوں کو بھی وہاں کنڈیاں پھینکتے دیکھا۔ ایک لکڑی کا طویل پشتہ کافی دور تک جھیل کے اندر چلا گیا تھا۔ اس پر جگہ جگہ بنچ اور پلاسٹک کی کرسیاں رکھی تھیں۔ میں ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔ سینکڑوں آبی پرندے آ کر میرے قدموں میں پھرنے لگے‘ مجھے سردی لگنے لگی تھی۔ میں سورج جھیل سے نکلتے دیکھ کر طلوع آفتا کے زریں نظارے سے لطف اندوز ہو سکتا تھا۔ روشنی پھیلتے ہی رات والے جزیرے بجھ گئے تھے۔ اس چھوٹی سی بستی میں کسی بھی جھیل کنارے کے گھر کی قیمت دو تین ملین ڈالر سے کم نہیں۔ اس چھوٹی سی بستی میں زیادہ تر ریٹائرڈ لوگ رہتے ہیں یا کچھ مالدار ریٹائرڈ لوگ دوسری ریاستوں سے آ جاتے ہیں جو گرمیاں بہت اچھے موسم میں گزارنے کے شوقین ہوتے ہیں۔ یہ بابے زیادہ تر فلوریڈا سے آتے ہیں۔ لیک سائیڈ بستی ایک خوابوں کی سرزمین نظر آتی ہے۔ خاموش پرسکون قرار آفریں‘ ٹانویں ٹانویں مردو زن‘ گھروں کے باہر کرسیاں ڈالے چائے کافی پیتے یا فٹ پاتھوں اور پانی کے کنارے ٹہلتے ہیں لیکن کسی بھی سیمینار ،تفریحی پروگرام یا دوسرے عوامی مواقع پر اکٹھے ہو کر ہزاروں کی تعداد میں نکل آتے ہیں۔ اس بستی میں داخلے کا ٹکٹ مقرر ہے۔ ایک دفعہ ٹکٹ لے لیا جائے تو پھر ہر تفریح‘ ہر سیمینار میں داخلہ مفت مل جاتا ہے یہ واحد بستی ہے جہاں میں نے گالف موٹروں کو باقاعدہ چلتے ہوئے دیکھا۔ اس بستی میں مکینوں کے علاوہ دوسرے لوگوں کی موٹروں کو آنے نہیں دیا جاتا۔ اس جگہ ہمارا قیام مختصر تھا۔ مگر جی چاہتا تھا کہ آدمی یہاں بس جاتے۔ اتفاق سے اس آبادی میں ہم ہی دو ایشیائی تھے اس لیے سب نگاہیں لامحالہ ہماری طرف ہی اٹھتی تھیں۔ بستی کے مکین ہم کو مہمان سمجھ کر ہی ہم سے مخاطب ہوتے تھے۔ سب لوگ اچھے تھے، مہذب و ملنسار تھے۔ اس بستی میں ڈاکٹر امجد حسین نے دو لیکچر دینے تھے ایک صبح ایک شام‘ صبح کا لیکچر اسلام کی بنیادی حقیقتوں کے بارے میں تھا۔ ایک بہت بڑے ہال میں سو دو سو سے زیادہ لوگ جمع اس تھے۔ سارے لیکچر کو بڑے غور سے بنا گیا۔ اگرچہ اس میں بڑی بنیادی اور سامنے کی باتیں ہوئیں۔ مگر تقریر کے بعد سوال جواب سے معلوم ہوا کہ امریکہ کے عام لوگ اسلام کے بارے میں بنیادی باتیں بھی نہیں جاتنے‘ کہ کرید کرید کر نماز روزہ حج زکوٰة کے بارے میں پوچھ رہے تھے اور ہمارا ڈاکٹر مطالعے سے مسلح ان کے ہر سوال کا تسلی بخش جواب دے رہا تھا۔ ایک دوسرے ہوٹل کے ایک ہال میں دوسرا لیکچر اسلام اور دہشت گردی کے موضوع پر شام کو دیا گیا۔ اس میں حاضرین کی تعداد کافی زیادہ تھی۔ اس لیکچر میں امریکی لوگوں کی دلچسپی زیادہ تھی۔ ڈاکٹر امجد نے بڑے کھلے انداز میں بتایا کہ حقیقی اسلام کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ چند لوگوں کا انفرادی فعل ہے اور وہ بھی بڑی حد تک ردعمل ہے۔ امریکی حکومت کی اسلام دشمن پالیسیوں کا سوال کیا گیا کہ اس کا خاتمہ کیسے ہوگا۔ امجد نے کہا امریکی حکومت بدلو اور اس کی پالیسیاں تبدیل کرو۔ دہشت گردی کی بنیادی وجوہات کی جڑوں سے ختم کرنا ہے تو فلسطین‘ کشمیر‘ عراق اور افغانستان کے مسائل حل کرو۔ فلسطینیوں کو اپنی ریاست بنانے دو‘ عراق و افغانستان سے اپنی فوجیں نکالو۔ ساری بحث بڑے علمی انداز میں غیرجذباتی طریقے سے ہو رہی تھی۔ ڈاکٹر امجد کی انگریزی خطابت اپنے عروج پر تھی۔ امجد نے مذہبی رواداری کے حوالے سے بڑے مزے کی بات کہی۔ اس نے کہا سوال ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا نہیں۔ ایک دوسرے کو قبول و منظور کرنے کا ہے۔ اس پر بڑی تالیاں بجیں۔ اس کے بعد سوال و جواب کی گرما گرم محفل برپا ہوئی۔ امریکیوں کے سوالات سے نظریہ آتا تھا کہ وہ اپنی حکومت کی خارجہ پالیسی کے عواقب و نتائج سے بے خبر خواب غفلت میں مبتلا ہیں ان کو پتہ ہی نہیں کہ ان کی حکومت پورے امریکہ کو کس دلدل میں دھکیل رہی ہے۔ شام کو اس بستی سے نکلے تو دل اداس تھا ایسا لگتا تھا کہ جنت کے کسی گوشے سے نکل رہا ہوں۔ اس بستی سے بھی ایک اخبار نکلتا ہے جو مفت بٹتا ہے۔ اس اخبار میں اس روز ہونے والی سرگرمیوں کی پوری تفصیل درج ہوتی ہے، میں صرف واﺅ ہی کر سکا۔

   کھیل
راجر فیڈرر کو کوارٹر فائنل میں اپ سیٹ شکست

راجر فیڈرر کو کوارٹر فائنل میں اپ سیٹ شکست

سلیم ملک کو سزا کیخلاف اپیل کرنے کی اجازت مل...

سلیم ملک کو سزا کیخلاف اپیل کرنے کی اجازت مل گئی

فرنچ اوپن میں بھارت کے روہن بھوپانا کے ساتھ...

فرنچ اوپن میں بھارت کے روہن بھوپانا کے ساتھ حصہ لوں گا: اعصام الحق

چیمپیئنز ٹرافی انتظامات کا جائزہ لینے آئی سی...

چیمپیئنز ٹرافی انتظامات کا جائزہ لینے آئی سی سی وفد کی آئندہ ماہ پاکستان آمد

ہربھجن نے سری سانتھ کو تھپڑ مار کر اپنی...

ہربھجن نے سری سانتھ کو تھپڑ مار کر اپنی اصلیت ظاہر کردی‘ رکی پونٹنگ


  تازہ ترین

  اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications