/ ہفتہ وار کالم

  

    

پرنٹ اخبار
سیاست
تجارت و معیشت
کھیل اور کھلاڑی
فن و فنکار
سائنس اور ٹیکنالوجی
کمیونیٹی خبریں
سپیشل کونٹینٹ
بچوں کے لیے
خواتین کے لیے
مذہب کے متعلق
  
Thu, 08 May 2008 00:52:00

پاپ موسیقار شاکرہ کی اصل پریشانی

پاپ موسیقار شاکرہ کی اصل پریشانی

گریبان.... منو بھائی
مغربی دنیا کی پاپ (پاپولر) موسیقار اور گلوبل مہم برائے تعلیم کی اعزازی چیئرپرسن شاکرہ کا یہ دعویٰ بے بنیاد نہیں ہے کہ موجودہ نسل انسانی تاریخ کی پہلی نسل ہے جو پوری دنیا سے ناخواندگی ختم کرنے کی اہلیت اور وسائل رکھتی ہے۔ بلاشبہ ہماری نسل اگر کرہ¿ ارض کے تمام تاریک براعظموں کو روشن نہیں کر سکتی تو کم از کم عالمی سطح پر جہالت، غربت، پسماندگی اور بنیاد پرستی کی تمام بیماریوں کے خاتمے کی ٹھوس بنیاد ضرور رکھ سکتی ہے موجودہ نسل نے ابھی پوری طرح ہوش نہیں سنبھالا تھا جب بائیں بازو کے عظیم دانشور ٹیڈ گرانٹ نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ دنیا کے دس امیر ترین لوگوں کے پاس اتنی دولت جمع ہو چکی ہے کہ جس کے مناسب اور موزوں استعمال سے پوری دنیا کی جہالت، غربت اور بیماری کو کم از کم عرصے میں ختم کیا جا سکتا ہے۔ بہت ہی زیادہ محتاط زبان اور الفاظ استعمال کرنے والے بائیں بازو کے اس دانشور نے پوری دنیا کی جہالت، غربت اور بیماری ختم کرنے کے لئے دنیا کے دس امیر ترین لوگوں کی دولت کو ”مناسب اور موزوں“ طریقہ پر استعمال کرنے کی شرط جان بوجھ کر عائد کی ہو گی کیونکہ دائیں اور بائیں بازو کے دانشوروں میں دولت کے مناسب اور موزوں استعمال کے بارے میں بنیادی اختلاف پایا جاتا ہے۔ وہی اختلاف جو ”بازاری معیشت“ یا معیشت بازار (مارکیٹ اکانومی) اور انسانی ضروریات کی معیشت یا سوشلسٹ معیشت کے درمیان ہے۔
وضاحت اس کی یوں کی جا سکتی ہے کہ اگر دنیا کے دس امیر ترین لوگوں کی دولت عالمی سطح پر جہالت، غربت اور بیماری ختم کرنے کے لئے گلوبلائزیشن والوں کے حوالے کر دی جائے تو پتہ چلے گا کہ ٹھیکیداری نظام کی اجارہ داریوں نے دنیا کو پہلے سے بہت زیادہ جہالت، غربت اور بیماریوں میں مبتلا کر دیا ہے اور ساری دولت دس امیر ترین لوگوں کے قبضے میں پہلے سے دوگنی ہو کر واپس چلی گئی ہے اور وہی دولت اگر عام لوگوں کو اپنی بنیادی اور اہم ترین ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے دے دی جائے تو وہ دنیا بھر کے صحراﺅں اور ریگزاروں کو گلزاروں میں تبدیل کر دیں گے۔ جو مدرسے وہ اپنے بچوں کو تعلیم کے لئے اپنے ہاتھوں سے بنائیں گے ان کی چھتیں ان کے بچوں پر نہیں گریں گی۔ جو سڑکیں جو خود اپنے چلنے کے لئے تعمیر کریں گے وہ ان کی اولاد کا مستقبل سنوارنے کے کام بھی آئیں گی۔ بلاشبہ شاکرہ بی بی کی نسل پوری دنیا سے ناخواندگی ختم کرنے اور جہالت، غربت اور پسماندگی دور کرنے کی اہلیت، صلاحیت اور توفیق رکھتی ہے مگر مارکیٹ اکانومی کی گلوبلائزیشن اسے یہ کرنے نہیں دے گی اسے یہ کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی کیونکہ اس سے منڈی میں ارزانی، فراوانی اور بہتات کی ایک ایسی یخ بستہ لہر دوڑ جائے گی جو برفانی دور کی طرح سرمایہ داروں کی حرص و ہوس کو یکسر منجمد کر کے رکھ دےگی۔ پاپ موسیقار کی اپنی ”پاپ معیشت“ دنیا میں غربت، جہالت اور بیماری کے خاتمے کی بجائے ”تاریخ کے خاتمے“ کی خواہش رکھتی ہے۔
شاکرہ ”گارجین“ میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں بڑے اذیت ناک الفاظ میں حیرت اور افسوس کے ساتھ بتاتی ہیں کہ بہت مشکل سے یقین کرنا پڑتا ہے کہ اکیسویں صدی عیسوی میں بھی دنیا کے سات کروڑ بیس لاکھ بچوں کے والدین کے پاس ان کو تعلیمی اداروں تک لے جانے کی صلاحیت اور مالی استعداد نہیں ہے اور دنیا کے بائیس کروڑ ساٹھ لاکھ نوجوانوں کو ثانوی تعلیم کے اداروں کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ وہ تعلیم جیسی بنیادی ضرورت کو خریدنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ سرمایہ داری نظام کا یہ دعویٰ جو اس نے ادارہ اقوام متحدہ سے گزشتہ صدی کے آخر میں وعدے کی صورت میں کیا تھا کہ سال دو ہزار پندرہ تک تمام دنیا سے ناخواندگی دور کر دی جائے گی آج دیوانے کا بہت ہی احمقانہ خواب لگتا ہے۔
شاکرہ توقع رکھتی ہیں کہ امریکی کانگریس ”ایجوکیشن فار آل“ (تعلیم سب کے لئے) کے عنوان سے زیر بحث بل کو منظور کر لے گی جس کے ذریعے عالمی خواندگی کی مہم میں امریکی حصہ سال دو ہزار بارہ تک ساڑھے چھیالیس کروڑ ڈالروں سے بڑھ کر تین ارب ڈالروں تک پہنچ جائے گا مگر وہ اس شبے سے باہر نہیں نکل سکیں گی
یہ فصل امیدوں کی ہم دم
اس بار بھی غارت جائے گی
سب محنت صبحوں شاموں کی
اب کے بھی اکارت جائے گی
وہ جو جہالت کے اندھیروں میں پیدا ہوئے ہیں جہالت کے اندھیروں کی قبروں میں ہی اتریں گے جو غریب پیدا ہوئے ہیں وہ غربت میں ہی وفات پائیں گے۔ انہیں غربت کے اندھیروں سے باہر نکلنے میں کوئی مدد نہیں دی جائے گی۔ خواندگی یا تعلیم کا تعلق ابھی کل تک کی مارکیٹ اکانومی میں صحت اور انصاف کے حصول کی طرح لوگوں کی قوت خرید کے ساتھ تھا مگر اب تعلیم حاصل کرنا عیاشی کے زمرے میں داخل ہو چکا ہے۔ جو لوگ عیاشی افورڈ کر سکتے ہیں وہی تعلیم، صحت اور انصاف بھی حاصل کر سکیں گے۔ بارک اوباما کے صدر امریکہ بن جانے اور چودھری افتخار محمد کے چیف جسٹس پاکستان بن جانے سے انسانی حقوق اور انصاف ہمارے گھروں کی دہلیز پر ڈیلور نہیں ہونے لگے گا۔ بازار اور کچہری سے خریدنے پڑیں گے جیسے کہ خریدے جا رہے ہیں۔
شاکرہ یہ بتاتے ہوئے بہت پرامید لگتی ہیں کہ چند سال پہلے تک نو کروڑ ساٹھ لاکھ بچے تعلیمی اداروں تک نہیں پہنچ سکتے تھے جبکہ ان کی تعداد اب سات کروڑ بیس لاکھ رہ گئی ہے یعنی چند سالوں میں تعلیم حاصل کرنے والوں میں دو کروڑ چالیس لاکھ کا اضافہ ہوا ہے۔ مگر خواندگی کے حصول اور جہالت سے چھٹکارے کی منزل ابھی بہت دور ہے۔ شاکرہ بی بی جو نظام معیشت میں سانس لیتے ہوئے برطانوی وزیراعظم کے ساتھ دوستی اور نظریاتی ہم آہنگی کا دعویٰ کرتی ہیں ان کی اصل پریشانی یہ ہے کہ دنیا کی نصف سے زیادہ آبادی براہ راست اور بالواسطہ دونوں طریقوں سے سرمایہ داری نظام کے مقابلے میں ایک متبادل معاشی نظام کے کارنامے دیکھ چکی ہے اور پیدائشی اندھے کے مقابلے میں اس اندھے کی اذیت بہت زیادہ صبر آزما ہوتی ہے جو بہت کچھ دیکھنے کے بعد بینائی سے محروم ہوا ہو۔

 



© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications