|
غیر سیاسی باتیں.... عبدالقادر حسن پہلے پاکستان کے اندر اور پھر جناب آصف علی زرداری کے ملک سے باہر چلے جانے کے بعد دبئی میں اتحادی پارٹیوں میں مذاکرات کا دور شروع ہوا جس میں پہلے تو میاں شہباز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ نواز کی ایک ٹیم شریک ہوئی لیکن طویل مذاکرات کے بعد بھی جب کامیابی کی کوئی صورت پیدا نہ ہوئی تو میاں نوازشریف بذات خود دبئی پہنچ گئے۔ ان کے ساتھ بھی دو روز تک مذاکرات جاری رہے جن کے بعد میاں صاحب نے اعلان کیا کہ 12 مئی کو جج بحال ہو جائیں گے۔ پہلے اسمبلی میں ایک قرارداد پاس ہو گی پھر اس قرارداد کو نافذ کرنے کے لئے حکومت ایک حکم جاری کرے گی اور اس طرح اعلان مری کے مطابق جج صاحبان بحال ہو جائیں گے۔ اعلان مری میں دی گئی تیس روز کی میعاد ختم ہو جانے کے بعد جب عملاً کچھ نہ ہوا تو نئے مذاکرات شروع ہو گئے۔ جناب آصف زرداری اور ان کی پارٹی ابھی تک کھل کر بات نہیں کر رہی بلکہ وہ یہ کہہ رہی ہے کہ اسمبلی میں ایک آئینی پیکیج بھی پیش کیا جائے گا۔ یعنی ججوں کی بحالی کی قرارداد کے ساتھ ساتھ۔ میاں نوازشریف ججوں کی بحالی کے بارے میں بہت پرجوش ہیں۔ جبکہ آصف علی زرداری صاحب نہایت ہی احتیاط کے ساتھ چل رہے ہیں۔ ایک سیاسی مدبر کی طرح جو کسی فیصلے کا ہر پہلو سامنے رکھتا ہے اور پھر بات کرتا ہے۔ نازک قومی مسائل میں جذبات سے کام نہیں چلتا۔ میاں صاحب کو ان مذاکرات کے کامیاب ہونے میں اس قدر دلچسپی تھی کہ انہوں نے اپنی بیگم صاحبہ کا آپریشن ملتوی کرا دیا جو لندن میں ہو رہا تھا اور میاں صاحب وہاں جا رہے تھے۔ دبئی سے واپسی کے بعد میاں صاحب اپنے بعض اہلخانہ کے ہمراہ لندن تشریف لے گئے ہیں اور اس سے پہلے ایک پریس کانفرنس میں مذاکرات دبئی کی کامیابی کا اعلان کر گئے ہیں۔ اعلان مری کے مطابق ابھی تیس دنوں کی گنتی ختم نہیں ہوئی تھی کہ 12 مئی کی تاریخ کے بعد ایک اور گنتی شروع ہو گئی ہے اور خیال یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ضروری نہیں 12 مئی تک یہ کام مکمل کر لیا جائے۔ دونوں پارٹیوں کے لوگ اس میں کئی دنوں کے اضافے کی بات کر رہے ہیں اور اندازہ یہی ہے کہ 12 مئی کوئی حتمی تاریخ ثابت نہیں ہو گی۔ اس ضمن میں نواز لیگ کے لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں ججوں کے مسئلے پر ووٹ ملے تھے جبکہ پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ ہمیں روٹی کپڑا مکان کے لئے ووٹ دئیے گئے ہیں اس لئے ہم پابند ہیں کہ اپنے مینڈیٹ کے مطابق عمل کریں۔ یوں دیکھیں تو دونوں پارٹیوں میں اتفاق رائے نہیں ہے لیکن پیپلز پارٹی اس اختلاف کے باوجود نواز لیگ کے مطالبے سے انکار نہیں کر رہی اور ججوں کی بحالی میں دلچسپی لے رہی ہے۔ اس دوران یہ بات بار بار کہی جا رہی ہے کہ دونوں پارٹیاں اتحاد کو قائم رکھنے کی پوری پوری کوشش کر رہی ہیں۔ یہ حکومتی اتحاد چار پارٹیوں پر مشتمل ہے۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نواز، اے این پی اور جمعیت علمائے اسلام۔ تعجب ہے کہ مری اور دبئی کے مذاکرات میں صرف دو پارٹیاں شریک ہوئیں ان میں اے این پی اور جمعیت کو مدعو نہیں کیا گیا بلکہ مذاکرات کی باضابطہ طور پر ان کو رپورٹ بھی نہیں دی گئی۔ اس پر مولانا فضل الرحمن نے بار بار ناراضگی کا اظہار کیا ہے چنانچہ آصف زرداری ان سے ملنے گئے اور کوئی وضاحت بھی پیش کی لیکن وہ دونوں کو مطمئن نہ کر سکی۔ اس چار جماعتی حکومتی اتحاد کو ایک کمزور اتحاد سمجھا جا رہا ہے لیکن اس کے باوجود اس اتحاد میں ایک اور پارٹی ایم کیو ایم بھی فی الحال سندھ کی حد تک شامل ہو گئی ہے۔ نواز لیگ نے یہ کہہ رکھا ہے کہ سندھ حکومت اپنی سیاسی ضرورت کے تحت ایم کیو ایم کو مقامی طور پر شامل کر سکتی ہے مگر اسے مرکز کی حکومت میں شامل نہیں کیا جا سکتا اس طرح پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں اختلاف کا ایک اور پہلو بھی سامنے آ چکا ہے۔ تاہم یہ اتحاد ہر پارٹی کی ضرورت ہے اس لئے خیال یہی ہے کہ فی الحال اسے کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن سیاست کی خود غرض دنیا میں کوئی بات حتمی نہیں ہو سکتی۔ حکومت سازی کا عمل اپنی جگہ لیکن ووٹر سخت بے تاب ہیں کہ نئی حکومت نے ابھی تک ان کے ایسے عوامی مسائل کی طرف بھی مناسب حد تک توجہ نہیں دی جو انتظامی بہتری اور مستعدی کے ساتھ حل ہو سکتے ہیں۔ مثلاً گندم کی نئی فصل منڈیوں میں آنی شروع ہو گئی ہے اور حکومت بھی دھڑا دھڑ خرید رہی ہے لیکن صارفین اب تک آٹے سے محروم ہیں۔ گرانی اپنی جگہ، آٹے کی دستیابی بھی مشکل ہو رہی ہے۔ اسی طرح گندم اور آٹے کی سمگلنگ بھی جاری ہے۔ یہ سب انتظامی مسئلہ ہے جسے حل کرنے کے لئے کسی بیرونی امداد کی ضرورت نہیں ہے۔ اسی طرح منڈیوں اور بازاروں میں گرانی اور بعض ضروری اشیاءکی نایابی بھی ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے اور سب سے بڑھ کر تیل کی قیمتیں ہیں۔ بھارت میں تیل سستا کیا جا رہا ہے پاکستان میں مہنگا۔ بازاروں کے اس حال کے ساتھ ساتھ پاکستان میں ایک بڑا مسئلہ بدامنی کا ہے۔ ڈاکے، قتل، چوریاں ایک معمول بن گئی ہیں اور بدامنی کی ان خبروں کی کثرت کی وجہ سے اخبارات کو صفحات مخصوص کرنے پڑے ہیں۔ عوام کے ان مسائل کے باوجود ہمارے حکمران مذاکرات میں مصروف ہیں۔ سیاسی جوڑ توڑ جاری ہیں اور ایوان صدر ایک پیر تسمہ پا بن کر قوم کو لاگو ہے۔ صدر صاحب سازشوں میں مصروف ہیں اور اب انہوں نے قاف لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین سے کہا ہے کہ وہ پارٹی سے استعفیٰ دےدیں۔ چودھری صاحب نے انکار کر دیا ہے، بالکل اسی طرح جیسے چودھری افتخار محمد چیف جسٹس نے کیا تھا۔ اس نئی صورتحال پر آئندہ ہفتے۔
|
|