اور پھر بیاں اپنا....قمر علی عباسی
تو اپنے انجام کو پہنچا
تونے ایسا جرم کیا تھا
تیرے ساتھ یہی ہونا تھا
اس دنیا کے امن و سکوں کو
خوش حالی کو
لوٹ لیا تھا
عمر تیری دو سال تھی لیکن
پھر بھی ایسا جرم کیا تھا
سارا مغرب کانپ رہا تھا
مشرق بھی سہما سہما تھا
رنگیں کپڑے
پاﺅں میں سینڈل
چہرہ بھولا
آنگن میں تو کھیل رہا تھا
لیکن دنیا خوفزدہ تھی
جانے تو کب راکٹ پھینکے
بم برسا دے
تو ایک دہشت گرد تھا ننھے
ہم نے تجھ کو مار دیا ہے
تا کہ ہم زندہ رہ جائیں
اپنی کھلی بے جان نظر سے
اب کیوں نوحہ لکھواتا ہے
کیوں سرگوشی میں کہتا ہے
مجھ پہ جو نوحہ نہ لکھے
اس پر شعر حرام ہو جائیں