|
ملک سلیم اکبر پچھلے دو ہفتوں سے ہمارے قارئین ہم سے مسلسل پوچھ رہے ہیں کہ آپ پاکستان کی سیاست پر کیوں نہیں لکھ رہے ہماری مجبوری یہ ہے کہ ہم اپنے ضمیر کے مطابق دل کی آواز کو آپ تک پہنچاتے ہیں اور کیونکہ سچی بات بری لگتی ہے لہٰذا ہمارے سیاسی کارکن ہم سے ناراض ہو جاتے ہیں۔ چپ رہنا بھی منافت ہے اور آپ کا حکم بھی ہے کہ پاکستان کے سیاسی حالات پر لکھیں تو پھر کوئی ناراض ہو یا خوش کھرا کھرا تبصرہ ایماندارانہ رائے پیش خدمت ہے۔ ججوں کی بحالی کے سیدھے سادھے اور آسان سے مسئلے کو جس سیاسی منافقت کے ذریعے پیچیدہ بنا دیا گیا ہے۔ ہمارے نزدیک اس کی تمام تر ذمہ داری آصف زرداری اور نوازشریف کو جاتی ہے۔ کہتے ہیں کہ MAJORITY IS AUTHORITY پھر جب عوام نے ان دونوں پارٹیوں کو واضح اکثریت دی ہے۔ اس کے باوجود مختلف حیلوں بہانوں سے ججوں کو بحال نہیں کیا جا رہا۔ ہمارے نزدیک ججوں کی بحالی کے راستے نہیں ڈھونڈے جا رہے بلکہ بہانے ڈھونڈے جا رہے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو 1973ءکا متفقہ آئین دیا تھا جسے ضیاءالحق اور جنرل مشرف نے اپنے ذاتی اقتدار کی طوالت کی خاطر ترامیم کرکے آئین کو ”بے حال“ کردیا۔ آصف زرداری اور نوازشریف محض ایک آرڈر کے ذریعے اس بے حال آئین کو بحال کرسکے تھے جس سے وطن عزیز کو درپیش تمام خرابیوں کا مداوا ہو سکتا تھا۔ عدلیہ سمیت تمام ادارے مستحکم ہو سکتے تھے لیکن غالباً نوازشریف اور آصف زرداری کو اپنی اپنی ذات پر وہ یقین و اعتبار ہی نہیں جس کا اتنی بڑی سیاسی جماعت کے قائدین کو ہونا چاہیے۔ عین ممکن ہے کہ اپنے اداروں میں پختگی اور یقین کے نہ ہونے ہی کی وجہ سے آصف زرداری کی اہلیہ بینظیر بھٹو نے اپنے بچوں کے باپ کی موجودگی کے باوجود اپنے تینوں بچوں بلاول‘ آصفہ اور بختاور کی قانونی سرپرستی LEGAL GARDGAIN آصف زرداری کے بجائے بچوں کی پھوپھی کو بنایا جو باپ کی زندگی میں کسی دوسرے کو گارڈین بنانے کا ایک ایسا معاملہ ہے جس کی مثالیں آسانی سے نہیں ملا کرتیں۔ بیوی سے زیادہ خاوند کو بھلا کون جان سکتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ بینظیر بھٹو نے اپنی زندگی میں ہونے والے پاکستانی الیکشن میں اپنے خاوند آصف زرداری کو سینٹ یا قومی اسمبلی کی ٹکٹ تک دینا پسند نہیں کی لیکن بینظیر بھٹو کے بعد حالات نے محترمہ کی دن رات کی محنت کی کمائی پی پی پی کو آصف زرداری کی گود میں ڈال دیا لیکن آصف زرداری کی قوت فیصلہ میں کمی کی صلاحیت نے تمام تر عوامی حمایت کے باوجود آصف زرداری کو پاکستان کے کمزور ترین شخص پرویزمشرف کی گود میں لا پھینکا۔ آصف زرداری خود وزیراعظم بننا چاہتے ہیں۔ امین فہیم کو راستے سے ہٹایا، اعتزاز احسن کی مقبولیت سے خوفزدہ ہو کر بھری محفل میں انہیں ڈانٹا اور جان بوجھ کر ججوں کے مسئلے پر الجھاﺅ پیدا کرتے ہوئے کہا کہ مجھے ججوں کی بحالی کا مینڈیٹ نہیں ملا، روٹی‘ کپڑا اور مکان کا ووٹ ملا جبکہ بینظیر نے خود چیف جسٹس افتخار چودھری کو بحال کرنے اور چیف جسٹس کے گھر پاکستان کا پرچم لہرانے کا وعدہ قوم سے کیا تھا۔ کیا زرداری کے نزدیک بینظیر کے قوم سے کیے گئے وعدے کی کوئی حیثیت کوئی وقعت نہیں؟ آصف زرداری نے خود اعلان مری میں 30 اپریل تک ججوں کو بحال کرنے کا وعدہ کیا تھا پھر اپنی ان کی تسکین اور نوازشریف پر سیاسی برتری حاصل کرنے کی خواہش نے دبئی میں شہبازشریف کی عزت اور مرتبے کی بدلحاظی کرتے ہوئے ان کی عزت ہاتھ میں دےکر مذاکرات ناکام بناتے ہوئے نوازشریف کو یہ کھلا پیغام دیا کہ میرے نزدیک آپ کی اور آپ کے اعلانات کی قطعی کوئی حیثیت نہیں نوازشریف مجبور ہوگئے کہ وہ خود دبئی جا کر آصف زرداری کی سیاسی برتری کو تسلیم کریں جسے سیاسی مبصرین نے نوازشریف کی توہین اور آصف زرداری کی سیاسی کم ظرفی سے تعبیر کیا کہ آصف زرداری نے گھنٹوں کے مذاکرات کے بعد نوازشریف کے ساتھ 12 مئی کی نئی تاریخ کے اعلان کرنے کی بھی تکلیف گوارہ نہیں کی۔ 718-692-0707 یہ دوپہر بارہ سے شام سات بجے تک فون کرکے یا پاک یو ایس ٹریول ایٹ جی میل ڈاٹ کام پر ای میل کرکے میں بتائیں کہ کیا آپ سینئر ترین سیاسی مبصرین کی اس رائے سے متفق ہیں کہ آصف زرداری اپنے ذاتی اقتدار کے حصول کی خواہش کی تکمیل کیلئے پرویزمشرف کی گود میں جاگرے ہیں۔ زرداری چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے پرویزمشرف کی گیم کھیل رہے ہیں اور نوازشریف اپنے انتخابی وعدوں سے دامن چھڑا کر آصف زرداری کی گود میں جا گرے ہیں اور 3 نومبر کے بعد پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کو بھی قبول کرنے پر تیار ہیں جبکہ بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے خود جنرل مشرف تسلیم کر چکے ہیں کہ 3 نومبر کو انہوں نے بالکل غیر آئینی کام کیا تھا۔ جب ایک آرڈر کے ذریعے جنرل مشرف آئین کیخلاف آرڈر دے سکتے ہیں تو پھر عوام کے ووٹوں سے اقتدار میں آنے والے حکمران ایک آرڈر کے ذریعے غیرقانونی قدم کو ختم کیوں نہیں کر سکتے۔ اصل میں آصف زرداری سندھی چیف جسٹس ڈوگر کو ہٹانا ہی نہیں چاہتے جو دن رات بلکہ اوورٹائم کام کرکے زرداری کے خلاف تمام کیس ختم کروا رہے ہیں ان کی جائیدادیں بحال کررہے ہیں۔ زرداری کے الیکشن میں حصہ لینے کے لیے بی اے کی ڈگری کی شرط ختم کروا چکے ہیں اب نہ وزیراعظم کو علم ہے نہ نوازشریف کو معلوم ہے لیکن الیکشن کمیشن نے اگست تک ضمنی الیکشن ملتوی کر دیئے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شہبازشریف‘ اعتزاز احسن اور عمران خان کو اسمبلیوں سے دور رکھنے کیلئے زرداری کی اجازت سے یہ کام ہوا۔ اب جون میں ضمنی الیکشن ہو رہے ہیں اس قدم کو آصف زرداری نے سازش قرار دیا لیکن یہ سازش کون کر رہا ہے یہ اوپن سیکرٹ ہے کہ یہ سب کون کروا رہا ہے۔ آج ججز کی بحالی کی کمیٹی میں وزیرقانون فاروق نائیک کی اعتزاز احسن اور دوسروں کی کھری کھری باتیں سن کر طبیعت خراب ہوگئی۔ ایمبولینس منگوائی گئی۔ فخرالدین جیسے کھرے وکیل ججز کمیٹی سے علیحدگی اختیار کر چکے ہیں۔ اعتزاز احسن بھی کمیٹی سے علیحدگی کیلئے پرتول رہے ہیں۔ عوام نے الیکشن میں مشرف مخالف سیاستدانوں کو ووٹ کی طاقت سے چنا تھا لیکن اب عوام کو احساس ہو رہا ہے کہ قوم منافقوں میں پھنس گئی ہے۔ پرویزمشرف ابھی تک ڈوریاں ہلا رہے ہیں مشرف کیمپ کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔ نوازشریف کو زرداری کی گود سے چھلانگ لگانی ہوگی، عوام ان کے ساتھ ہوں گے۔ آصف زرداری کو بھی قوتِ فیصلے کے ذریعے مشرف کے گٹھ جوڑ سے جان چھڑانی ہوگی۔ پاکستان کے عوام نظام کی تبدیلی چاہتے ہیں۔ آصف زرداری اور نوازشریف کو عوام کی رائے کا احترام کرنا ہوگا۔ پاکستان زندہ باد‘ پاکستان پائندہ باد
|
|