اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Thu, 01 May 2008 15:04:00

30 دنوں میں ججز بحال نہ ہوئے تو !پھر کیا ہوگا ؟

30 دنوں میں ججز بحال نہ ہوئے تو !پھر کیا ہوگا ؟

عالم تمام ۔۔۔۔ ظہیر الدین بٹ
پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری جو آجکل دبئی میں مقیم ہیں نے کہا ہے کہ ہمیں اور ہماری پارٹی کو ججوں کی بحالی کیلئے مینڈیٹ نہیں ملا ہے بلکہ یہ مینڈیٹ تو عوام نے ہمیں روٹی کپڑا اور مکان کے باعث دیا ہے۔ اس بیان سے پاکستان مسلم لیگ ن گروپ کی صفوں میں ضرور ایک دھماکہ ہوا ہوگا۔ اب تو پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کی پالیسی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ پھر بھی مسلم لیگ ن کے ذمہ داران یہ اعلان کررہے ہیں کہ ججز کی بحالی تیس دن کے اندر ہی ہوگی لیکن اس کے آگے کچھ نہیں کہا جا رہا کہ اگر تیس دن کے اندر جج بحال نہ ہو سکے تو پھر کیا ہوگا ؟؟؟ اتحاد توڑ دیا جائے گا‘ حکومت سے وزیر واپس بلا لئے جائیں گے یا پھر عوام کے غیض و غضب کیلئے تیاری شروع کردینی ہوگی ؟؟؟
ججوں کی بحالی کے بارے میں پوری قوم جانتی ہے کہ کئی ہفتوں سے دونوں بڑی پارٹیوں میں مذاکرات جاری ہیں اور ہمیشہ قوم کو اچھے کی امید دلائی جا رہی ہے حالانکہ آف دی ریکارڈ جو باتیں سننے کو مل رہی ہیں اس میں کوئی امید افزاءبات نظر نہیں آ رہی۔ اب تو پاکستان پیپلز پارٹی کا مو¿قف کھل کر سامنے آ گیا ہے کہ وہ آئینی ترمیم کے ذریعے اس مسئلے کو حل کریں گے اور شاید آئندہ دو ہفتے تک اس کی توقع کی جا سکتی ہے۔ آصف علی زرداری دبئی جا کر کیوں بیٹھ گئے اور اپنے دورے کو کیوں طویل کرلیا اور پھر پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف ایک وفد کے ہمراہ کیوں دبئی گئے یہ اب سوالیہ نشان نہیں رہا ؟؟؟
اب جبکہ یہ بات کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن نے تو قوم سے اس لئے ووٹ حاصل کئے تھے کہ وہ ججوں کو بحال کروائیں گے لیکن پاکستان پیپلز پارٹی نے صاف صاف کہہ دیا ہے کہ انہوں نے یہ مینڈیٹ دوسری وجوہات کی وجہ سے حاصل کیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ دونوں پارٹیوں کے اقدامات اٹھانے اور مسائل حل کرنے کی ترجیحات میں فرق ہے اور وہ مختلف مسائل کو مختلف طریقے سے حل کرنے کیلئے اولیت دیں گے۔
میاں نوازشریف کو اب یہ بات سمجھ لینی چاہئے کو وہ جو سوچ رہے ہیں شاید ایسا ہونا ممکن نہ ہو کیونکہ اب تو جو وقت بحالی کیلئے رکھا گیا تھا وہ ختم ہونے کو ہے۔ ادھر وکلاءبھی پر تول رہے ہیں کہ پھر سے تحریک کا آغاز کیا جائے لیکن ابھی وہ انتظار میں ہیں کہ دیکھیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔
صدر پاکستان پرویز مشرف نے لگتا ہے کچی گولیاں نہیں کھیلی ہوئیں۔ انہوں نے پہلے سے ہی سب کچھ طے کررکھا ہے شاید ایسا کوئی خفیہ ایگریمنٹ ہو چکا ہے جس کی بدولت پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن (مرحومہ) بینظیر کا پاکستان آنا ممکن ہو سکا تھا۔ یہی نہیں ہم نے پہلے بھی انہی کالموں میں ذکر کیا تھا کہ آصف علی زرداری نے امریکی سفارتخانے میں جا کر پہلی حاضری دی ہے پھر شاید حاضریوں کا سلسلہ چلتا رہا ہے۔ لگتا ہے کہ ملک اور قوم کی تقدیر لکھنے والوں نے شاید ان سے کھلا مذاق کیا ہے۔ کیونکہ مہنگائی کا شور مچانے والوں نے ووٹ حاصل کرکے کامیابی تو حاصل کرلی لیکن آج عوام کو بتایا جا رہا ہے کہ دنیا میں تیل کی قیمتیں آسمانوں کو چھو رہی ہیں اس لئے جون سے پہلے پاکستان میں بھی قیمتیں بڑھانی پڑیں گی۔
انہوں نے کہا ہے کہ پچھلی حکومت تیل پر سبسڈی دے رہی تھی جو کہ اب ناقابل برداشت ہے۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ وہ حکومت عوام کے فائدے کیلئے رقم خرچ کررہی تھی اور اب عوام کو عالمی سطح پر حسب روایت مہنگائی کا رونا رو کر چکی میں پیسنے کا ارادہ کرلیا گیا ہے۔ عوام نے تو مہنگائی کم کرنے‘ آٹا بجلی جیسے مسائل حل کرنے کیلئے عوامی نمائندے چنے ہیں لیکن لگتا ہے اب ان اسمبلی ممبران کو عوام اور ان کے ووٹوں کی ضرورت نہیں رہی۔ اس لئے چند سال تک تو وہ اپنی مرضی سے وقت گزار سکتے ہیں کیونکہ فوری طور پر انہیں ووٹوں کی ضرورت نہیں ہوگی۔ لیکن انہیں سابق حکومت کے نمائندوں کے بارے میں یاد رکھنا ہوگا کہ آخرکار انہیں بھی عوامی عدالت میں حاضری دینی ہوگی۔ اس لئے ہر قدم پھونک پھونک کر ہی اٹھانا ہوگا۔
ضمنی انتخابات میں میاں نوازشریف کے الیکشن لڑنے کے چانسز معدوم ہو چکے ہیں جبکہ آصف علی زرداری کے گریجویٹ نہ ہوتے ہوئے بھی الیکشن لڑنے کے چانسز روشن ہوگئے ہیں۔ کیا یہ بائی چانس ہو رہا ہے ؟؟ یا اس کے پیچھے کوئی خفیہ ہاتھ یا ایگریمنٹ ہے؟
یہ خبر سبھی نے سن اور پڑھ بھی لی ہوگی کہ دبئی مذاکرات بھی ناکام ہوگئے ہیں اور یہ آخری کوشش بھی کامیابی سے ہمکنار نہ ہو سکی۔
یوں لگتا ہے کہ پرویز مشرف کے ججوں کی بحالی کے بارے میں دعوے کوئی ہوائی باتیں نہیں تھیں بلکہ اس کے پیچھے جو راز تھا وہ آج کھل کر سامنے آ گیا ہے۔
قوم کے ہر فرد نے محسوس کیا ہے کہ میاں نوازشریف کے دل میں غصے اور انتقام کی آگ آج بھی بھڑک رہی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح سے بدلہ لے لیں۔ کبھی بیان آتا ہے کہ اسمبلیاں توڑنے والوں کے ہاتھ توڑ دیئے جائیں گے تو کبھی کچھ !!!!
سیاست میں غصہ کرنا اور انتقام لینا اور یا پھر اس کے بارے میں سوچنا کامیاب سیاستدان کی نشانی نہیں ہے بلکہ بسا اوقات مسلمان ہونے کے ناطے اسے صبر اور معافی دینے کا حوصلہ بھی پیدا کرنا چاہئے اور اللہ تعالیٰ پر ایسے معاملات کو چھوڑ دینا چاہئے کہ ظلم کرنے والے کو اللہ تعالیٰ خود ہی سزا دے گا۔
ہمارے خیال میں انہیں ملک اور قوم کو مقدم رکھتے ہوئے اب بھی کسی فیصلے پر پہنچنا ہوگا اور وقت کے انتظار کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ ذاتیات اور کئے گئے ظلم و زیادتی کو پس پشت ڈال کر خدمت کا جذبہ لیکر کمر کس لینی ہوگی۔ کسی مسئلے کو ضد نہیں بلکہ اس کے قانونی پہلوﺅں پر نظر رکھ کر اسے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ جذبات میں آ کر ہمیشہ انسان غلط ہی فیصلہ کرتا ہے اس لئے سوچ سمجھ کر ٹھنڈے دل و دماغ سے پھر سے حالات، ملک اور عوام کے بارے میں کوئی لائحہ عمل تیار کیا جائے کہ جس سے سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔


 










© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications
sponsors: air purifier