اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Thu, 01 May 2008 15:04:00

اسرائیل کی چوری پھر پکڑی گئی

اسرائیل کی چوری پھر پکڑی گئی
(وکیل انصاری)
اسرائیل کی حکومت ایک بار پھر امریکہ کیخلاف جاسوسی کرتی پکڑی گئی ہے۔ امریکی حکومت اپنی پوری کوششوں میں ہے کہ اس خبر پر پردہ ڈال دیا جائے جبکہ ری پبلکن اور ڈیموکریٹ صدارتی امیدواروں نے امریکہ کی سکیورٹی پامال ہونے پر گہری خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔
خبر یہ ہے کہ ایف بی آئی نے ایک امریکی یہودی بی انی کاڈش (Ben Ani Cadish) کو امریکہ کیخلاف اور اسرائیل کیلئے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ کاڈش پر الزام ہے کہ اس نے اسرائیلی قونصلیٹ کے ایک اتاشی کو امریکی جدید ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کی تفصیل، ایف 16 طیاروں میں نئی ترامیم اور پیٹریاٹ میزائل ٹیکنالوجی اور اس قسم کی تقریباً 50 سے لیکر 100 تک خفیہ کاغذات کی کاپیاں فراہم کی ہیں۔ عدالت میں پیش کئے گئے مقدمہ میں بتایا گیا ہے کہ کاڈش امریکن آرمی میں مکینیکل انجینئر کے عہدے پر فائز تھا جہاں امریکی خفیہ ہتھیار بنائے جاتے ہیں اور ریسرچ کی جاتی ہے۔ اسکی لائبریری سے اپنے عہدے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ خفیہ کاغذات چرائے گئے اور پھر اپنے گھر لاکر انکی فوٹو کاپیاں بناکر اسرائیلی اتاشی کو فراہم کی گئی۔ ایف بی آئی کی تحقیقات کے بعد کاڈش نے اقبال جرم کیا ہے اور بتایا ہے کہ یہ جرم اس نے پیسوں کیلئے نہیں کیا ہے۔
گو کہ اس خبر کو نیویارک ٹائمز جیسے اخبار نے بھی اپنے میٹرو سیکشن میں دیا ہے مگر ایف بی آئی کے مقدمہ سے پتہ چلتا ہے کہ اس کیس کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائیگا۔ ایف بی آئی نے مزید بتایا کہ اسرائیلی حکومت نے گزشتہ ماہ تک کاڈش سے رابطہ کیا اور اسے کہا ہے کہ ایف بی آئی کو اصل حقائق بتانے سے گریز کرو۔ ایف بی آئی کاڈش کے سب فون یقینی طور پر ٹیپ کررہی ہے۔ کاڈش کی اسرائیل کیلئے جاسوسی کے الزام میں گرفتار ہونا ہم سب کو جوناتھن پالارڈ کا کیس یاد دلاتا ہے۔ پولارڈ بھی امریکی نیوی کا ملازم تھا اور اسرائیل کیلئے جاسوسی کرتے پکڑا گیا تھا اور آج تک امریکی جیل میں اپنی بقیہ زندگی گزار رہا ہے۔ جوناتھن پولارڈ کی گرفتاری کے بعد اسرائیل نے امریکی حکومت سے وعدہ کیا تھا کہ آئندہ اسرائیلی حکومت اس قسم کی جاسوسی نہیں کریگی اور تمام خفیہ معلومات جو اس نے جاسوسوں سے حاصل کی ہیں وہ امریکہ سے شیئر کریگی۔ مگر واقعی وہ وعدہ ہی کیا جو نبھا کیا جائے!
اسرائیل کی حکومت نے کاڈش کی گرفتاری کے بعد کہا ہے کہ ”یہ سب پرانی باتیں ہیں“ اور اس گرفتاری کو نظرانداز کرنے کی کوشش کی ہے۔
امریکی حکومت کی کمزوری یہ ہے کہ وہ اسرائیل اور اسرائیلی لابی سے اتنے خوفزدہ ہیں کہ وہ کسی قسم کا ردعمل کرنے سے بھی قاصر ہیں اور پھر سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے جو ردعمل ظاہر کیا ہے وہ اتنا مبہم ہے کہ کاش وہ کچھ نہ کہتے۔ اسرائیل کی ہٹ دھرمی اور اخلاقی جرائم سے کون واقف نہیں ہے مگر جرائم پیشہ افراد بھی اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے ہٹ کر جرم کرتے ہیں اور اب اس امریکی پریس کا رویہ دیکھئے کہ ان کی تکلیف دہ خاموشی اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ یہودی لابی کیخلاف یا اسرائیل کے مفادات کیخلاف بات کرنا خودکشی کے مترادف ہے۔
امریکی ملٹری کو اس جاسوسی سے کیا نقصان ہوا ہے؟ اس کا ابھی کسی کو بھی اندازہ نہیں ہے۔ یقینی طور پر نقصان کا پتہ لگانے کیلئے ملٹری حرکت میں آچکی ہے مگر اسکی تحقیقات کبھی بھی منظرعام پر نہیں آئیں گی۔ ان تمام باتوں کا لب لباب یہ ہے کہ
Things gets worse before they get bed.
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ عوامی ردعمل بھی کچھ خاص نہیں ہے۔ اقتصادیات کے مسائل یعنی پٹرول کی قیمتیں، مارگیج کے مسائل، مہنگائی نے عوام کو اتنا مصروف کردیا ہے کہ وہ مزید باتوں پر توجہ دینے کے قابل نہیں رہے ہیں۔ مگر حیرت ہے اس حکومت پر کہ جو دہشت گردی کی روک تھام کیلئے افغانستان اور عراق پر حملہ کرتے ہیں۔ وہ اس ملک کی سکیورٹی کی پامالی پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔
ایک دن عوام کا ردعمل ہوگا، ضرور ہوگا اور اس ملک کو اندر سے کھوکھلا کرنے والوں کا بھی حساب کتاب ہوگا۔









© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications
sponsors: air purifier