شبیر احمد
روز گھٹتا ہے عمر کا اک روز
زندگی روز کا خسارہ ہے
کب گزاری ہے زندگی ہم نے
زندگی نے ہمیں گزارا ہے
صاحبو! ہم نے ایک ”دستک“ میں لکھا تھا کہ اکثر لوگ زندگی نہیں گزارتے بلکہ زندگی انہیں گزار دیتی ہے۔ اس کے جواب میں کینیڈا سے 24 سالہ سید رضوان علی نے اوپر کے دو اشعار لکھ بھیجے ہیں۔ بہت خوب‘ رضوان علی زندہ باد!
کینیڈا ہی سے محترمہ ماہ جبیں پوچھتی ہیں کہ سرشت سمندری کیا ہوتی ہے؟ علامہ اقبال نے یہ اصطلاح کسی شعر میں استعمال کی ہے۔
جواب: ایک تو سمندر ہوتا ہے پیش کے ساتھ یعنی ”بحر“ زبر کے ساتھ سمندر پارسی میتھولوجی میں ایک پتنگے کو کہتے ہیں۔ یہ پتنگا بھڑکتی ہوئی آگ میں سینکڑوں ہزاروں برس جیتا ہے۔ اسے صرف آتش کدے کے دستور یعنی پجاری دیکھ سکتے ہیں۔ مذہبی میتھولوجی میں یہی ہوتا ہے۔ افواہیں حقیقت بنا دی جاتی ہیں۔ سرشت سمندری کے معنی یہ ہیں کہ انسان اتنا مضبوط ہو جائے کہ اسے دنیا کا گرم و سرد پریشان نہ کر سکے۔
کوئی ایسی طرز طواف تو مجھے اے چراغ حرم بتا
کہ تیرے پتنگ کو پھر عطا ہو وہی سرشت سمندری
دنیا میں سب سے طویل بادشاہت کس کی رہی؟ ایوب خان اور لینڈو
جواب: فرانس کا لوئی 14‘( 72) برس تک بادشاہ رہا۔ 1643ءتا 1715ئ۔
کوہ نور ہیرا ملکہ الزبتھ سے پہلے کس کی تحویل میں تھا؟ نرگس قریشی‘ کیلیفورنیا
جواب: یہ تو ایک لمبی داستان ہے۔
ہے ہزاروں قافلوں سے آشنا یہ راہ گزر
چشم کوہ نور نے دیکھے ہیں کتنے تاجور
یعنی تخت و تاج کسی سے وفا نہیں کرتے۔ کوہ نور ملکہ الزبتھ سے پہلے کچھ انگریز بادشاہوں کی تحویل میں تھا۔ انگریزوں کو یہ رنجیت سنگھ کے بیٹے دلیپ سنگھ سے ملکہ وکٹوریہ کو ملا تھا۔ مشہور ہے کہ 1304ءمیں ریاست مالوہ کے راجہ کے ملازموں نے اسے ہمالیہ کے دامن سے نکالا تھا۔ پھر کوہ نور ہیرا علاﺅ الدین خلجی‘ نصیر الدین ہمایوں‘ محمد شاہ رنگیلا‘ نادر شاہ درانی‘ احمد شاہ درانی اور شاہ شجاع سے ہوتا ہوا رنجیت سنگھ تک پہنچا تھا۔ اگلے وقتوں میں ہیرے صرف برصغیر میں دستیاب ہوتے تھے۔ خیر دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ دلیپ سنگھ کی بیٹی بمبا نے لاہور میں سکونت اختیار کی اور انہوں نے برطانیہ سے کوہ نور حاصل کرنے کے لیے بہت کوششیں کیں۔ پاکستانی شہری کی حیثیت سے بمبا نے 1957ءمیں لاہور ہی میں بہ عمر 90 برس وفات پائی۔
محترمہ جمیلہ خاتون فرماتی ہیں ان کا 25 سالہ بیٹا صرف شاعری کرتا ہے اور کچھ نہیں کرتا۔
جواب:محترمہ! کیونکہ تفصیل ہمارے سامنے نہیں مقولہ ہے‘ شاعر کی شادی کردو اور اس کی زندگی اچھی ہو جائے گی یا شاعری۔
دنیا میں سب سے قدیم شہر کونسا ہے؟ حسرت علی خان‘ لندن
جواب: جناب عالی! آپ کے اسم گرامی سے حسرت موہانی اور حسرت جے پوری یاد آگئے۔ دنیا کا قدیم ترین مسلسل آباد شہر دمشق ہے۔ تقریباً تین ہزار سال پرانا ہے۔
محترمہ ذکیہ سلطانہ نے نیویارک سے خبر دی ہے کہ وزیراعظم پاکستان مخدوم سید یوسف رضا گیلانی نے اپنے نام سے مخدوم کا خطاب ہٹا دیا ہے‘ مخدوم کسے کہتے ہیں؟
٭ انہوں نے تواضع اور انکساری کا قابل ستائش کام کیا ہے۔ مخدوم اسے کہتے ہیں جس کی خدمت کی جائے یا جو خدمت کے لائق ہو۔ صوفیاءکے بہت سے گدی نشین مخدوم کہلاتے ہیں۔ ان کے بعض اہل خانہ بھی نسل در نسل خطاب یا لقب کے طور پر اپنے نام کے ساتھ مخدوم لکھتے ہیں۔ یہاں ایک مصرع عربی کا اور ایک فارسی کا یاد آیا۔
حضرت عمر فاروقؓ نے فرمایا: السید القوم خاد مھم (قوم کا لیڈر وہ ہوتا ہے جو قوم کی خدمت کرے)
شیخ سعدی نے بھی خوب فرمایا: ہر کہ خدمت کرد او مخدوم شد (جو خدمت کرتا ہے وہ خدمت کے لائق ہو جاتا ہے)
علامہ اقبال نے بھی خوب کہا
کس نہ باشد ایں جہاں محتاج کس
نکتہ شرع مبیس ایں است و بس
(کوئی شخص اس دنیا میں دوسرے شخص کا محتاج نہ ہو۔ شریعت اسلامی کا بنیادی نکتہ یہی کافی ہے)
امریکہ میں سب سے پہلی ہائی وے کہاں بنائی گئی؟ مرزا اصغر ربانی‘ ٹورنٹو
٭ سب سے پہلی ہائی وے مشی گن کے شہر ڈیٹرائیٹ میں بنی۔ یہ امریکہ کی سب سے پہلی پکی سڑک بھی تھی لہٰذا آج بھی اسے ایم 1 کہا جاتا ہے یعنی موٹروے نمبرون۔
دہلی سے محترمہ شیریں سہاگ لکھتی ہیں کہ انہوں نے بیروت کو چمکتے بھی دیکھا اور اجڑتے بھی‘ لبنان کو برباد کرنے والے کیسے بے رحم لوگ تھے۔ انہوں نے یہ تک نہ سوچا کہ کئی لحاظ سے یہ ملک دنیا بھر میں انوکھا ملک ہے۔ آپ کے محترم قارئین کے لیے کچھ خصوصیات عرض کرتی ہوں۔
لبنان واحد ملک ہے جہاں اٹھارہ مختلف مذاہب کے ماننے والے آباد ہیں۔
اس چھوٹے سے ملک میں 42 یونیورسٹیاں ہیں اور 40 اخبار روزانہ شائع ہوتے ہیں۔
لبنان میں پورے ایک سو علیحدہ علیحدہ بینک ہیں۔ علیحدہ بینکوں کی بات ہو رہی ہے نہ کہ شاخوں کی۔
اس ملک کے 70 فیصد طلباءپرائیویٹ سکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔
آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ پسماندہ ملکوں میں ہزار دو ہزار لوگوں پر ایک ڈاکٹر ہوتا ہے۔ یورپ اور امریکہ میں سو سوا سو پر ایک لیکن لبنان میں گیارہ افراد میں ایک ڈاکٹر ہوتا ہے یا ہوتی ہے۔
لبنان کو تباہ کرنے والے کیا اس کی تاریخی اہمیت کو بھی نہیں سمجھتے۔ بائیبل کے عہد نامہ عتیق میں لبنان کا ذکر 75 بار کیا گیا ہے۔
بیروت کو آٹھ مرتبہ برباد کیا گیا اور ہر بار وہ نئی شان نئی عظمت و رونق کے ساتھ بنا اور آباد ہوا۔ اسی لیے بیروت کو فینکس PHOENIX بھی کہتے ہیں۔ شاید آپ جانتے ہوں کہ فینکس اس پتنگے یا کیڑے کو کہتے ہیں جو پارسی روایات کے مطابق آتش کدے کی آڑ میں زندہ رہتا ہے۔ آپ کے ایری زونا میں جو شہر فینکس ہے اس کا نام شاید موسم گرما کی حدت کی وجہ سے رکھا گیا ہوگا۔ اتنی خوبصورت سرزمین میں سیاسی افراتفری کے باعث آدھے سے زیادہ لبنانی ملک سے باہر رہنے پر مجبور ہیں۔ معاف کیجئے آدھے سے کہیں زیادہ 35 لاکھ لبنانی اپنے ملک میں رہتے ہیں۔ ایک کروڑ ملک سے باہر۔
لبنان بے چارے نے کبھی کسی ملک پر حملہ نہیں کیا لیکن 16 ملکوں اور قوموں نے جنت نظیر لبنان کو اپنے قبضے میں رکھا۔ صدیوں پہلے مصر‘ آشوری‘ بابل اور اہل فارس نے سکندراعظم کی نظروں سے بھی یہ ملک نہ بچ سکا۔ سلطنت روما اور پھر باری آئی صلیبیوں کی‘ عربوں سلطنت عثمانیہ برطانیہ‘ فرانس‘ اسرائیل اور شام نے بے چارے لبنان پر حملے کیے۔
اتنے صدمے سہنے کے باوجود لبنان دنیا کا قدیم ترین ملک ہے جو مسلسل چار ہزار برس سے آباد ہے۔
ایشیا اور افریقہ میں لبنان واحد ملک ہے جہاں ریگستان کا نشان تک نہیں ملتا۔
محترمہ شیریں سہاگ فرماتی ہیں کہ مستقبل قریب میں وہ لبنان کے بارے میں دلچسپ اور مفید تفصیلات بھیجیں گی۔ محترمہ! آپ کا بہت شکریہ اور ہمارے معزز ریڈرز کی بہت نوازش!