اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Thu, 01 May 2008 14:48:00

کب عقل آئے گی ہم پاکستانیوں کو؟کب سدھریں گے ہم؟

کب عقل آئے گی ہم پاکستانیوں کو؟کب سدھریں گے ہم؟
(ملک سلیم اکبر)
دنیا بھر میںلاتعداد پاکستانی غیرممالک میں تلاش معاش اور بہتر مستقبل کے خواب کی تکمیل کے لیے ہجرت کرکے آئے۔ 70 ءاور 80ءکی دہائی میں عمومی طور پر یورپ میں پاکستانیوں نے نقل مکانی کی لیکن 1980ءسے 1996ءکے عرصے میں یورپ سے بھی پاکستانیوں نے امریکہ ہجرت کرنی شروع کردی یہی وہ عرصہ رہا جس میں امریکہ کی مختلف ریاستوں میں پاکستانیوں نے انتہائی کامیابی کے ساتھ قدم جمائے اور حقیقی معنوں میں مضبوط امریکی معیشت میں بجا طور پر حصے دار بنے۔ 1980 سے 1996 کے دوران پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد اس خوبصورتی کے ساتھ امریکی معاشرے کا حصہ بنے کہ نیویارک‘ شکاگو‘ ہوسٹن سمیت امریکہ کے ہر اہم شہر میں پاکستانی یا تو مختلف بزنس کے مالکان بن چکے ہیں یا امریکہ کی تمام اہم اور Visible انڈسٹریز میں پاکستانی نمایاں طور پر دکھائی دینے لگے۔ مختلف کاروباری یعنی گیس اسٹیشن‘ ٹیکسی، نیوز پیپر‘ اسٹینڈ‘ گروسری اسٹوروں اور کنسٹرکشن کے کاموں میں پاکستانی چھا گئے اور اپنی محنت لگن کام میں ایمانداری‘ مالک کے ساتھ وفاداری اور اپنے اچھے اخلاق اور حسن کارکردگی کی وجہ سے امریکی عوام میں پاکستانی قبولیت اور پھر مقبولیت کا شرف حاصل کرتے چلے گئے۔ امریکی عوام جب کسی گیس اسٹیشن پر گیس ڈالنے جاتے تو پاکستانی Attendent گیس ڈالنے کے ساتھ ہیلو، ہائے اور بائے کرکے ان کا دل یوں بھی موہ لیتا کہ وہ گیس ڈالنے کے ساتھ ہی ساتھ ان کی ونڈ شیلڈ بھی صاف کر دیتا۔ امریکی عوام اخبار یا سگریٹ خریدنے کے لیے نیوزی پیپر سٹینڈ پر جاتے تو پاکستانی انتہائی اخلاق کے ساتھ گڈ مارننگ بھی کہتا اور جاتے ہوئے مسکرا مسکراتے Have A Nice Day کہہ کر ان کے دلوں میں جگہ بنا لیتا۔ امریکی عوام اپنے مکانات کی کنسٹرکشن کی ضرورت ہوتی تو پاکستانی کنسٹرکشن ورکرز انتہائی کم قیمت پر دل و جان لگا کر کام کر دےگی۔ ڈیڈی الئن سے پہلے ہی کام ختم کرکے داد تحسین اور شاباش بھی وصول کرتے اور محلے کے دوسرے کے مکانات کے مالکان ان کا کم قیمت پر اچھا کام دیکھ کر پاکستانیوں کو مزید ٹھیکے بھی دےدیتے۔
امریکہ کے تمام بڑے ائرپورٹس پر جب کوئی مغربی سیاہ فام یا امریکی شہری اترتے تو انہیں ییلو ٹیکسی سے لیکر لیموزین سروس اور پرائیویٹ کار سروس کے لیے پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور مسکرا کر استقبال کرتے اور اخلاق کے ساتھ ان کا سامان اٹھا کر ڈگی میں رکھتے نظر آتے۔ امریکہ کے تمام اہم شہروں اور سبربز میں پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور مالکانہ حقوق کے ساتھ ٹیکسی چلاتے یا کار سروس کمپنیوں میں ٹیکسی ڈرائیورز کی صورت میں ٹیکسی بزنس پر چھائے چھائے نظر آتے ہیں۔
1980 سے لیکر 2000ءتک امریکی معیشت میں پاکستانی ایک ایسا اہم ترین حصہ بن چکے تھے جس کا نعم البدل یا متبادل ڈھونڈنے سے بھی نہ ملا ہو گویا لمبے Hours تک کام کرنے والے تمام کاروباروں پراپنی بے پناہ محنت دل لگا کر کام کرنے کی لگن اور اپنے اچھے اخلاق اور حسن کارکردگی سے اور اوور ٹائم میں ایمانداری سے کام کرنے کی بنا پر تمام منافع بخش کاروباروں پر پاکستانیوں کی گرفت مضبوط ہوتی چلی گئی لیکن امریکہ کے سرکاری دفاتروں میں امریکہ کے اہم شہروں کے آفسوں میں ہسپتالوں اور پبلک ریلشن میں امریکی عوام کے ساتھ Interact اور امریکی عوام کے ساتھ روابط بڑھانے کے لیے کام کرنے والے دفاتر وغیرہ میں پاکستانی چہرے کم بلکہ بہت ہی کم دکھائی دیتے جس کی اہم وجوہات میں سے شاید دفتری کاموں سے ناواقفیت یا انگریزی زبان پر مکمل عبور کا نہ ہونا یا آپ کہہ سکتے ہیں کہ دفتروں اور آفسوں کے کاموں میں کم آمدنی اور قلیل انکم کا ہونا اہم ترین وجوہات ہو سکتی ہیں حتیٰ کہ ہمارے اعلیٰ تعلیم یافتہ تارکین پاکستانیوں نے بھی دفتری اداروں میں ملازمت کے حصول کے بجائے لمبے Hours لگا کر اوور ٹائم کرکے زیادہ منافع بنانے والے کاموں میں خود کو ڈھال دیا۔ ہمارے اعلیٰ پروفیشنل یعنی پاکستانی ڈاکٹروں‘ انجینئروں اور اکاﺅنٹنٹ اور سرجن وغیرہ کی تعداد بھی اتنی زیادہ نہیں کہ امریکی معاشرے میں وطن عزیز پاکستان یا بحیثیت مجموعی پاکستانیوں کے حق میں کسی بھی قسم کی رائے عامہ پر اثرانداز ہو سکتی گویا ہم امریکی معاشرے سے اپنا حصہ تو وصول کرتے رہے لیکن امریکی سیاست میں ہمارا حصہ آٹے میں نمک کے برابر تو کیا بلکہ بالکل ہی نہ ہونے کے برابر رہا جس کا سب سے زیادہ نقصان ہم پاکستانیوں کو گیارہ ستمبر 2001ءکے سانحے کے بعد ہوتا نظر آیا۔ ہم پاکستانیوں کی پاکستانی پریڈ اور پاکستانی میلوں میںشرکت تو چالیس پچاس ہزار تک رہتی لیکن ہزاروں کی یہ تعداد امریکی کانگریس مینوں اور امریکی سفیروں کو یوں متاثر نہ کر پاتی کہ ہم پاکستانیوں کی امریکی الیکشن میں ووٹوںکی تعداد آٹے میں نمک سے بھی کم ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم امریکہ میں ایک متحد اور مضبوط قوت بن کر اپنا مثبت اور بہترین کردار ادا کریں۔ 718-692-0707 پر فون کرکے اپنی رائے کا اظہار فرمائیں۔








  کھیل

 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: air purifier