|
اور پھر بیان اپنا ۔۔۔ قمر علی عباسی امریکہ میں رہنے والے وہ پاکستانی جو گریجویٹ نہیں ہیں یوں خوش ہو رہے ہیں جیسے سپریم کورٹ نے انتخاب لڑنے کیلئے گریجویٹ کی پابندی ختم کرکے انہیں الیکشن میں حصہ لینے کا موقع دیا ہے۔ امریکہ میں انتخاب لڑنے کیلئے تعلیم یافتہ ہونے کی شرط نہیں، جب پاکستان کے صدر پرویزمشرف نے انتخاب میں حصہ لینے کیلئے گریجویٹ کی شرط رکھی تو امریکہ نے کچھ نہیں کہا کیونکہ پرویزمشرف ان کے پسندیدہ راہنما تھے۔ خیال یہ ہے کہ وہ اب بھی وہائٹ ہاﺅس کی آنکھ کا تارا ہیں۔ سپریم کورٹ نے جیسے ہی گریجویٹ کی شرط ختم کی لوگ کہنے لگے یہ جناب آصف زرداری کو سہولت دینے کیلئے کیا گیا ہے۔ یہ سراسر افواہ ہے۔ آصف زرادری سمجھدار، باصلاحیت اور مدبر سیاست دان ہیں۔ تعلیم یافتہ لوگ ان کے سامنے جھکتے ہیں۔ بھلا ایسے شخص کو ایک ایسے کاغذ کی کیا ضرورت جو ایک معمولی سی ملازمت نہ دلوا سکے۔ آصف علی زرداری اس وقت جسے چاہیں اور جس گریڈ میں چاہیں ملازمت دے سکتے ہیں۔ ان کیلئے یہ افواہ اڑائی کہ گریجویٹ ہونے کی شرط ان کی وجہ سے ختم کی گئی ہے۔ سراسر زیادتی ہے۔ یہ سچ ہے کہ وہ محترمہ کی سیٹ پر ضمنی انتخاب لڑیں گے، کامیاب ہوں گے اور جمہوریت کو ترقی دیں گے۔ ہم جانتے ہیں سپریم کورٹ نے گریجویٹ کی شرط مسرت شاہین کیلئے ختم کی ہے۔ یہ وہ باصلاحیت خاتون ہیں جو پشتو فلموں سے نکلیں تو عام زندگی میں حق و انصاف کیلئے مصروف ہوگئیں۔ یہ بات کوئی نہیں بھولا ہوگا کہ مولانا فضل الرحمن اور مسرت شاہین کا حلقہ انتخاب ایک ہے۔ جب گریجویٹ کی شرط نہیں تھی، مسرت شاہین نے مولانا فضل الرحمن کو الیکشن میں بری طرح ہرا دیا تھا خود بھی ہار گئی تھیں ان کی وجہ سے مولانا کو ہار کی شرمندگی اٹھانا پڑی۔ مسرت شاہین گریجویٹ نہ ہونے کی وجہ سے انتخاب نہیں لڑ سکتی تھیں حالانکہ قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ ان کی ضرورت ہے۔ مرد حضرات آپس میں دھکم پیل مکا ٹکر کھیلتے ہیں۔ خواتین اپنی اپنی نشستوں پر سہمی رہتی ہیں اگر مسرت شاہین اسمبلی میں ہوں تو خواتین بھی ہمت پکڑیں اور اپنی مخالف کو زیر کرلیں۔ سپریم کورٹ نے پیچھلی اسمبلی کے جائزے کے بعد مناسب سمجھا مسرت شاہین اسمبلی میں شامل ہوں تاکہ مرد حضرات اکیلے ہی بازی نہ لے جائیں۔ پاکستان کے الیکشن میں جب گریجویٹ کی شرط لگی تو تجربے کار کہنہ مشق سیاست دان ان کی وجہ سے مار کھا گئے اور نتیجہ یہ ہوا کہ بیوی بہن بیٹی اور بہو کو آگے بڑھانا پڑا۔ اسمبلی میں نئی نسل شامل ہوگئی۔ نئے خیالات اور نئے منصوبے سامنے آئے۔ ٹیلی ویژن کے کیمرہ بھی پرانے چہرے دکھا دکھا کر تھک گئے تھے انہیں بھی تازہ ہوا ملی۔ قومی اور صوبائی اسمبلی کی نئی نسل کی خواتین کی وجہ سے ملک میں آرائش جمال اور زیبائش لباس کی صنعت نے خاطر خواہ ترقی کی۔ ان کی وجہ سے حکومت کو خاصی بچت ہوئی۔ پرانے سیاست دان علاج معالجے اور میڈیکل کی مد میں اچھی خاصی رقم خرچ کراتے تھے۔ نئی نسل ابھی بیماریوں اور دواﺅں سے دور ہے۔ اس لئے اخراجات کا بوجھ کم ہوا۔ سپریم کورٹ میں جب گریجویٹ کی شرط ختم کرنے کی بحث ہوئی تو وہ ساری باتیں دہرائی گئیں جو تھیں ، ہیں اور رہیں گی۔ ملک میں پچیس لاکھ گریجویٹ ہیں ان میں سے اکثریت شہروں میں رہتی ہے۔ بلوچستان میں اٹھاون ہزار گریجویٹ ہیں۔ کچھ اور بھی ایسے اعداد و شمار عدالت میں پیش کئے گئے جن سے یہ ظاہر کیا گیا کہ گریجویٹ کی شرط سے ملک کی بہت کم آبادی جمہوری عمل میں حصہ لے سکتی ہے۔ عدالت نے اس بات کو مان لیا۔ ضروری نہیں کہ جو شخص گریجویٹ ہو وہ سوجھ بوجھ کا مالک بھی ہو اور عوام کی صحیح نمائندگی کر سکتا ہو۔ پاکستان میں عام طور سے یہ خیال ہوتا ہے کہ آدمی پڑھا لکھا ہو تو کوئی مستقل نوکری کرے اور اسمبلی کی مدت مختصر عارضی اور ناپائیدار ہوتی ہے۔ کچھ خبر نہیں ہوتی کس دن اسمبلی کی رکنیت ختم ہوجائے۔ مستقل ملازمت میں جو فوائد ہیں عام آدمی کو وہ زیادہ پسند آتے ہیں۔ گریجویٹ کی شرط کا اطلاق عام انتخابات پر نہیں ہوگا، جو ہو چکے ہیں اور جن کی بنیاد پر صوبائی اور قومی اسمبلیاں تشکیل پا چکی ہیں۔ ضمنی انتخابات میں جو چاہے کود پڑے تاکہ اسمبلی میں انہیں بھی اپنی کارکردگی دکھانے کا موقع مل سکے۔ ایک بات ہم ضرور کہیں گے کہ گپ، افواہ اور بے پر کی جناب آصف زرداری کیلئے نہ اڑائی جائے کیونکہ وہ پاکستان کی قوم کا مقدر اور جمہوریت کا سویرا ہیں۔ وہ ہیں تو وزارت، سفارت، مشاورت، امن و امان، خوشحالی ہے۔ یوں سمجھ لیںتو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے۔
|
|