|
غیر سیاسی باتیں.... عبدالقادر حسن کیا ساڑھے آٹھ برسوں کی آمریت کے بعد جمہوریت کی صورت میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔ دانشور اس سال کا جواب ہاں میں دیتے ہیں لیکن عوام الناس کے مسائل میں کوئی خاص افاقہ نہیں ہوا اس لئے وہ کوئی بڑی تبدیلی محسوس نہیں کر رہے اور اس سوال کا جواب نہ ہاں میں دے سکتے ہیں نہ نفی میں۔ ملک بھر میں جبر کے ماحول میں اگرچہ تبدیلی واضح طور پر محسوس کی جا رہی ہے لیکن نئی حکومت ابھی تک اپنے اختیار کو نافذ نہیں کر سکی۔ مثلاً گندم اور آٹے کی سمگلنگ جاری ہے اور پاکستان سے افغانستان کی طرف ٹرکوں ایک قطار رواں دواں دکھائی دیتی ہے۔ پکڑ دھکڑ ہو رہی ہے لیکن سمگلنگ رک نہیں سکی۔ ذخیرہ اندوزی بھی موجود ہے تبھی تو ان ذخیروں سے سمگلنگ ہو رہی ہے۔ 1972ءتک پاکستان خوراک کے معاملے میں خودکفیل تھا لیکن مشرف حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے گندم کا گھر پاکستان دانے دانے کا محتاج ہو گیا۔ ڈیزل اور کھادوں کی مہنگائی کی وجہ سے گندم کی کاشت میں نقصان شروع ہو گیا اور حکومت نے چونکہ کاشت سے پہلے کبھی گندم کی امدادی قیمت کا اعلان نہیں کیا اور اس کی حکمت آج تک معلوم نہیں ہو سکی اس لئے گندم کی کاشت کاشتکار کی نجی ضرورت تک محدود ہو گئی اور منڈیوں میں گندم کی ضرورت کے مطابق اور رک گئی اس کے ساتھ افغانستان کی طرف گندم اور آٹے کی سمگلنگ بھی جاری رہی یعنی رہی سہی کسر اس سمگلنگ نے نکال دی۔ آج پاکستانی آٹے کے لئے جگہ جگہ لڑ رہے ہیں اور اس طرح سابقہ حکومت کی نااہلی جسے کچھ لوگ بدنیتی بھی کہتے ہیں نئی جمہوری حکومت کے لئے ایک پریشان کن مسئلہ بن گئی جس کا فوری حل اس کے پاس موجود نہیں ہے۔ جن لوگوں کا پیٹ خالی ہے وہ کسی منطق کو قبول نہیں کرتے۔ اگرچہ ملک نے آمریت سے نجات پا لی ہے لیکن آمریت کے پیدا کردہ بحرانوں میں پھنس چکا ہے اس لئے عوام کے لئے نئی جمہوری حکومت کے بارے میں کچھ کہنا بہت مشکل ہو رہا ہے وہ نہ تو اس کی مذمت کر سکتے ہیں اور نہ ہی اس کی تعریف، نئی حکومت کو ابھی دو ماہ سے کچھ ہی زیادہ وقت گزرا ہے اس لئے نئے حکمرانوں کے بارے میں کچھ کہنے سے پہلے انتظار کرنا پڑے گا۔ ابتدائی طور پر صوبائی حکومتیں ابھی گزشتہ ہفتے مکمل ہوئی ہیں صرف وفاقی حکومت کو کچھ وقت گزرا ہے اور اس چند ہفتوں کے عرصے میں بہت ہی ابتدائی نوعیت کے اقدامات ہو سکے ہیں۔ انتظامی معاملات کی بہتری میں وقت چاہئے لیکن اس حکومت کو بعض ایسے مسائل کا سامنا ہے جن پر اس نے الیکشن لڑا ہے، ان مسائل میں ججوں کی بحالی کا مسئلہ سرفہرست ہے۔ حکومت کی بڑی اتحادی پارٹی مسلم لیگ (ن) نے اعلان کیا تھا کہ وہ اقتدار میں آتے ہی ججوں کی بحالی کا کام شروع کر دےگی چنانچہ عجلت میں ایک اجلاس ہوا جس میں ایک اعلان تیار کیا گیا اس میں مذکور ہے کہ حکومت مکمل ہو جانے کے بعد تیس دن کے اندر جج بحال ہو جائیں گے۔ گزشتہ ہفتے اس اعلان پر عمل کا جائزہ لیا گیا اور میاں نوازشریف کے الفاظ میں ”مجھے تو بہت جلدی ہے مگر آصف صاحب ڈھیلے ہیں“۔ آصف صاحب کی مجبوری اپنی جگہ مگر وہ ججوں کی بحالی پر خوش نہیں ہیں لیکن انہیں یہ کام کرنا پڑے گا ورنہ ان کا اتحاد خطرے میں پڑ سکتا ہے کیونکہ میاں صاحب اپنے اس مو¿قف میں سستی دکھانے پر تیار نہیں ہیں۔ ججوں کی بحالی کے سوال پر وکیل صاحبان میں بے چینی پھیلتی جا رہی ہے لیکن وہ فی الوقت انتظار کر رہے ہیں کہ حکمران اپنا وعدہ کب پورا کرتے ہیں۔ اس طرح عوام اگر آٹے بجلی کی قلت سے پریشاں ہیں تو حکمران ججوں کی بحالی جیسے مشکل مسئلے سے دوچار ہیں۔ آمریت نے اس ملک میں اتنے بڑے بڑے مسائل پیدا کر دئیے ہیں کہ عوام کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کرنے والی جمہوری حکومت کی سمجھ میں نہیں آتا کہ ان گوناگوں مسائل میں کام کہاں سے شروع کرے اور کیسے کرے۔ پاکستان کی جمہوری حکومت آزاد نہیں ہے۔ امریکہ اور اس کے ساتھیوں کی دلچسپیاں بدستور موجود ہیں اور وہ کسی نہ کسی طرح اس خطے میں اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے دباﺅ ڈال رہے ہیں۔ امریکی عہدیدار پاکستان جا رہے ہیں اور یہاں کا امریکی سفارت خانہ بہت سرگرم ہے۔ پاکستان میں امریکہ کا نمائندہ پرویز مشرف جتنا کمزور ہوتا جا رہا ہے اس پر انحصار کرنے والے اتنے ہی پریشان ہو رہے ہیں۔ ایک سفارتکار نے کہا ہے کہ پرویز مشرف کے مو¿ثر نہ ہونے سے امریکہ اور بھارت دونوں پریشان ہیں۔ امریکہ کی خدمت تو ہم پاکستانی شروع دن سے ہی کرتے آ رہے ہیں لیکن بھارت کی خدمت پرویز مشرف نے شروع کی تھی اس پاکستانی حکمران نے سب سے پہلے بھارت کا سب سے بڑا مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی اور وہ تھا کشمیر کا مسئلہ۔ جنرل مشرف نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہم مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادیں پرے رکھ کر بات کریں گے۔ اگر یہ قراردادیں پرے رکھ دی جائیں تو پھر بات کس پر ہو گی۔ دریں اثنا کشمیر کی سرحد پر پاکستان نے یکطرفہ اقدامات شروع کر دئیے، جنگ بندی کر دی گئی جس سے فائدہ اٹھا کر بھارت نے سرحد پر باڑ لگا دی۔ کشمیری مجاہدین کی امداد سے ہاتھ کھینچ لیا اور اس طرح کشمیریوں کی آزادی کی تحریک کو بہت بڑا نقصان پہنچایا۔ ایک فوجی نے پاکستان کے تین دریا تو پہلے ہی بھارت کو دے دئیے تھے پاکستانی دریاﺅں کے اوپر بھارت نے بند باندھنے شروع کر دئیے ہیںاور حکومت پاکستان صرف زبانی کلامی احتجاج کر رہی ہے۔ بھارت کی خوشنودی کے لئے اور بھی بہت کچھ کیا گیا ہے۔ بھارت اگر آج کچھ پریشان ہے جو غلط نہیں ہے اور وہ بذریعہ افغانستان بلوچستان میں براہ راست مداخلت کر رہا ہے۔ اس طرح نئی حکومت کے لئے امریکہ اور بھارت دونوں سے معاملہ کرنا پڑ رہا ہے۔ ہماری حالت تو یہ ہو گئی ہے کہ ایک بھارتی دہشت گرد کو پھانسی سے بچانے کے لئے پاکستان سزائے موت ہی ختم کرنے کی سوچ رہا ہے۔ غرض ہماری جمہوری حکومت کو آمرانہ حکومت کے بچھائے ہوئے کانٹے پلکوں سے چننے پڑ رہے ہیں۔
|
|