اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Thu, 01 May 2008 14:42:00

کیا حقیقت واقعی حقیقت ہے؟

کیا حقیقت واقعی حقیقت ہے؟
گریبان.... منو بھائی
کیا حقیقت واقعی حقیقت ہوتی ہے؟ (IS REALITY REALLY REAL)
یہ عنوان ہے اس لیکچر کا جو ڈاکٹر سعادت انور صدیقی کی صدارت میں فکر افروز سائنسی اور معاشرتی موضوعات پر مذاکرے منعقد کرانے والے خوارزمی سائنس سوسائٹی کے زیر اہتمام انسٹی ٹیوٹ آف کوانٹم (QUANTUM) سٹڈیز ٹیکساس یو ایس اے کے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر اور پروفیسر آف فزکس ڈاکٹر سہیل زبیری پانچ مئی 2008ءکی صبح گیارہ بجے انسٹی ٹیوٹ آف کیمیکل انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی قائداعظم نیو کیمپس پنجاب یونیورسٹی لاہور میں سائنس کے طلبا، طالبات اور اساتذہ کو دیں گے۔
ڈاکٹر سہیل زبیری تو خوارزمی سائنس سوسائٹی کے اعلان کے مطابق اپنے اس لیکچر کو آئن سٹائن سے جان بیل تک ان کے بعد بیان کئے جانے والے سائنسی حقائق کے اندر کے حقائق کے تجزئیے تک محدود رکھیں گے مگر زندگی کے بعض دیگر شعبوں میں بھی ایسے حقائق کی موجودگی کا دعویٰ کیا جاتا ہے جو شکوک اور شبہات سے یکسر محفوظ اور مبرا نہیں ہوتے، خاص طور پر سیاست اور معیشت کے شعبوں میں بیشتر حقائق کو صحیح معنوں میں بطور حقائق تسلیم نہیں کیا جا سکتا بلکہ بعض حقائق تو نا خالص اور نقلی ادویات سے بھی زیادہ مضر صحت اور زہریلے ہو سکتے ہیں۔
عدالتوں میں حلفیہ بیان دینے والوں کو ان کی آن، ضمیر یا کلام پاک کی قسم اٹھا کر اعلان کرنا پڑتا ہے کہ وہ سچ بتائیں گے، مکمل سچ بتائیں گے اور سچ کے علاوہ کچھ نہیں بتائیں گے۔ اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے، سچ کتنا اور کہاں تک سچ ہو سکتا ہے؟ حقیقت میں کتنی ملاوٹ ہو سکتی ہے؟ صداقت تک رسائی کتنی مشکل ہو چکی ہے؟
ان کالموں میں ایک سے زیادہ مرتبہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایک قول کے حوالے سے سچ اور صداقت کا فرق اور فاصلہ بیان کیا گیا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ ”ہر شخص کا ایک سچ ہوتا ہے مگر ضروری نہیں کہ وہ صداقت بھی ہو“۔ وضاحت یہ کی گئی ہے کہ سچ وہ ہوتا ہے جو ہمیں بتایا، سکھایا یا پڑھایا جاتا ہے جس کے صحیح اور درست ہونے کا ہمارے پاس کوئی ثبوت یا یقین نہیں ہوتا۔ صحیح اور درست وہ ہوتا ہے جو ہم زندگی کے تجربات اور حادثات سے سیکھتے ہیں۔ مثال اس سلسلہ میں مرغی کے ڈربے اور ٹوکری کے اندر چوزوں کی دی جاتی ہے کہ جن کی سچائی ڈربے یا ٹوکرے اور مرغی کے پروں تک محدود ہوتی ہے اس سچائی میں صحن میں گھومنے والی بلی اور آسمان پر اڑنے والی چیل کی صداقت شامل نہیں ہوتی اور جب اس صداقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے جس کے بعد کسی مزید سچائی یا صداقت کی ضرورت نہیں رہتی۔
کچھ حقائق غریبوں کے ہوتے ہیں امیروں کے نہیں ہوتے۔ کچھ حقائق غلاموں کے ہوتے ہیں آقاﺅں کے نہیں ہوتے۔ کچھ حقائق حاکموں کے ہوتے ہیں محکوموں کے نہیں ہوتے۔ کچھ حقائق مجرموں کے ہوتے ہیں جرائم کی زد میں آنے والوں کے نہیں ہوتے۔ کچھ حقائق پسندیدہ ہوتے ہیں اور کچھ حقائق ناپسندیدہ ہوتے ہیں۔ کچھ حقائق کی ضرورت ہوتی ہے اور کچھ حقائق غیر ضروری ہوتے ہیں۔ کچھ حقائق تک رسائی میں فخر ہوتا ہے اور کچھ حقائق کو بیان کرتے وقت شرم محسوس ہوتی ہے۔ کچھ حقائق کا بیان کرنا ضروری ہوتا اور کچھ حقائق کو چھپانا لازمی ہوتا ہے۔ امریکی صدر جارج ڈبلیو بش اور نائب صدر ڈک چینی کے پاس یہ حقائق تھے کہ عراق کے صدر صدام حسین کے القاعدہ تنظیم کے سربراہ اسامہ بن لادن سے گہرے مراسم ہیں مگر ان حقائق سے صدر صدام حسین اور اسامہ بن لادن کو جاننے والوں کو کوئی آگاہی نہیں تھی۔ صدر بش اور نائب صدر ڈک چینی کی صداقت تھی کہ صدر صدام حسین کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے کیمیاوی ہتھیاروں کے بھاری ذخیرے ہیں مگر ان کی یہ صداقت دنیا بھر کے ماہرین نے پرلے درجے کی حماقت قرار دی۔
کچھ ایسے ہی اختلافات پوری دنیا کے تجربے میں آنے والی حالیہ تاریخ میں بھی پائے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر سامراجی ملکوں کو انسانی حقوق کی پاسداری کا دعویٰ ہے مگر وہ ہیرو شیما اور ناگاساکی کے ایٹم بم کی زد میں آنے والے جاپانیوں کو انسان تسلیم کرنے کو تیار نہیں اور ان کے حقوق کی پاسداری بھی نہیں کر سکتے۔ کچھ ایسے ہی جاندار فلسطین میں بھی رہتے ہیں مگر انسانی سلوک کے حقدار قرار نہیں دئیے جا سکتے۔ فلسطین اور بیروت کی جمہوریت کو بھی جمہوریت تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ وینزویلا کے بالغ رائے دہندگان نے گزشتہ آٹھ عام انتخابات میں جو فیصلے دئیے ہیں وہ بھی امریکی حکمرانوں کے نزدیک جمہوری نہیں ہو سکتے کیونکہ مجرم وہ ہوتا ہے جو پکڑا جائے اور سچ وہ ہوتا ہے جس کو اقوام غالب سچ تسلیم کر لیں چنانچہ یہ مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے کہ تمام حقائق دراصل حقیقی نہیں ہوتے جب تک کسی حقیقت کو دنیا کے اصل حکمران طبقے بطور حقیقت تسلیم نہیں کریں گے وہ حقیقت نہیں ہو گی محض مفروضہ ہی رہے گی۔ فی زمانہ تمام کے تمام حقائق اور صداقتیں امریکہ اور اس کے حواریوں میں قبضے میں ہیں، دیگر سب لوگوں اور قوموں کے پاس جو صداقتیں ہیں وہ مفروضوں سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتیں مگر پوری دنیا میں ایسے حالات بھی رونما ہو رہے ہیں کہ جن میں حقیقت خرافات میں کھو سکتی ہے اور جو چیز اب تک خرافات سمجھی جا رہی ہے یا زیادہ سے زیادہ خوش فہمی کی ذیل میں آتی ہے حقیقت اور صداقت کا روپ دھار سکتی ہے۔








  کھیل

 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications