|
دل پشوری.... ڈاکٹر ظہور احمد اعوان امریکہ میں ایک حیران کن عیسائی فرقہ پایا جاتا ہے، آمش۔ یہ لوگ اصل میں جرمن ہیں۔ کوئی دو سو سال قبل وہاں سے نقل مکانی کر کے امریکہ آئے اور امریکی ریاستوں پنسلوانیا، اوہائیو، انڈیانا اور کینیڈا کے کچھ حصوں میں آباد ہو گئے۔ ان کی تعداد لاکھوں میں نہیں شاید ہزاروں میں ہو۔ یہ لوگ سولہویں صدی کے سوئس مین نائٹ بشپ جیکب امان Ammann کے مقلد ہیں۔ جو آگے کے پادری مینو سائمن (1159۔1492ئ) کا پیروکار تھا۔ یہ لوگ پروٹسٹنٹ فرقے کی ایک شاخ ہیں مگر اپنے آپ کو کیتھولک عقائد کے زیادہ قریب سمجھتے ہیں۔ یہ لوگ گھروں میں صرف جرمن اور گھروں سے باہر انگریزی بولتے ہیں جبکہ تعلیم صرف آٹھویں جماعت تک حاصل کرتے ہیں وہ بھی اپنے عقائد کے نجی سکولوں میں۔ یہ لوگ آج سے چار پانچ سو سال پرانی دنیا میں رہتے ہیں۔ وہی لباس وہی طور اطوار، ویسا ہی اخلاق و کردار، جدید سائنس کی کوئی چیز استعمال نہیں کرتے، بجلی نہ گیس نہ ٹیلی فون نہ موٹر نہ پکی سڑکیں، پرانے زمانے کی طرح کچی سڑکوں پر گھوڑے گدھے اور اس قسم کی گاڑیاں استعمال کرتے ہیں، صرف آپس میں شادیاں کرتے ہیں اور درجنوں بچے پیدا کرتے ہیں۔ ان کی خواتین سروں کو ڈھانپ اور پورے کپڑے پہن کر بھرپور پردہ کرتی ہیں صرف چہرے نہیں چھپاتیں عورتیں رنگین لباس نہیں پہنتیں۔ ان کا لباس صرف کالا ہوتا ہے۔ ان کے ہاں بے شمار بچے ہوتے ہیں۔ شادیاں کم عمر میں بڑوں کے حکم اور انتظام کے تحت کرتے ہیں ان کے ہاں شادی سے پہلے مرد عورت کے ملاپ یا ملاقات کا امکان نہیں ہوتا۔ بالعموم اکٹھے رہتے ہیں۔ جس لڑکے کی شادی ہو اسے قریب ہی گھر بسا کر دیتے ہیں مگر ایک دوسرے کے کام میں ہاتھ بٹاتے ہیں ان کا کوئی گرجا وغیرہ نہیں ہوتا۔ کسی ایک گھر میں اتنے لوگ جمع ہوتے ہیں جتنے اس گھر کے اندر آ سکتے ہیں وہیں مذہبی عبادات کرتے ہیں۔ آدمی زیادہ ہو جائیں تو تقسیم کر کے دوسرے گھر میں ایسا ہی سلسلہ شروع کر دیتے ہیں۔ کھیتی باڑی میں بھی صرف گھوڑے استعمال کرتے ہیں لکڑیاں جلاتے ہیں۔ کپڑے ہاتھ سے دھوتے ہیں۔ کھانا صرف گھروں میں پکتا ہے۔ اپنی فصلیں خود اگاتے خود بوتے کاٹتے ہیں۔ اپنی ہی دکانوں پر اپنی پکائی ہوئی چیزیں فروخت کرتے ہیں عجیب محیرالعقول لوگ ہیں۔ مجھے جب بھی موقع ملتا ہے ان کو دیکھنے ان کو ملنے جاتا ہوں۔ پنسلوانیا ریاست میں بھی ایک دفعہ ان کی بستی میں گیا تھا اور ان کی بغیر دکاندار کی دکان سے کچھ چیزیں خریدی تھیں۔ انہوں نے اپنے علاقے میں ایک دکان سڑک کے کنارے بنا دی تھی جس میں گھر کی پکی ہوئی چیزیں، روٹی، کیک، جام جیلی، پھل فروٹ رکھے تھے۔ خریدار خود ہی چیز اٹھا کر قیمت وہاں رکھ جاتا۔ مجھے جب بھی اوہائیو میں ڈاکٹر امجد کے پاس جانا ہوتا ہے تو وہ مجھے لےکر اپنے آمش دوستوں کے پاس جاتے ہیں ڈاکٹر نے ان سے اچھی خاصی دوستی گانٹھ لی ہے یہ لوگ ان کے جنگل میں آ کر فالتو لکڑیاں اور درخت کاٹ کر لے جاتے ہیں امجد کو گھر کے بنے بسکٹ اور روٹیاں دیتے ہیں امجد کرسمس کے مواقع پر ان کے لئے تحائف لے کر جاتا ہے وہ اب اسے اپنے گھروں کے اندر بھی بلا کے بٹھاتے ہیں اور چائے کافی پیش کرتے ہیں جو کسی بھی غیر آمش کے لئے ایک اعزاز ہے۔ ورنہ یہ لوگ اپنی زندگی میں کسی کو داخل ہونے نہیں دیتے میں گزشتہ سات آٹھ برس سے کوشش کر رہا ہوں کہ ان کی کوئی تصویر بناﺅں۔ وہ بالکل نہیں مانتے، البتہ گدھوں گھوڑوں، در و دیوار اور کھیتوں کی تصویریں بنانے دیتے ہیں پچھلی بار بھی ان کے گھوڑوں کی تصویریں ہی بنا سکا تھا۔ اس مرتبہ ہم چار درویش ان سے ملنے ان کی بستی گئے تو خاندان کے سربراہ ہنری سے میں نے تصویر بنانے کی اجازت مانگی جو اس نے حسب معمول نہیں دی۔ میں نے دوستوں سے کہا کہ میں خفیہ طور پر تصویر بناتا ہوں۔ انہوں نے منع کر دیا کہ یہ لوگ خفا ہو جائیں گے۔ مگر اس بار میں نے ارادہ کر لیا تھا کہ ہرچہ بادا باد تصاویر ضرور بناﺅں گا۔ ہنری کی بیوی بڑی خوش اخلاق ملنسار عورت تھی۔ اس نے مجھے دیکھتے ہی پہچان لیا کہ میں پہلے بھی آیا تھا۔ اس کی ایک بیٹی جس کی منگنی میری پچھلی امریکی یاترا کے دوران ایک آمش لڑکے سے ہوئی تھی اب شادی کر چکی تھی اور ایک بچی گود میں اٹھائے ہمارے پاس آئی، بچی صرف چند دن کی تھی اور ماں سولہ سترہ برس سے زیادہ کی نہ تھی۔ ماں بیٹی دونوں اتنی حسین تھیں کہ فرشتوں حوروں کا تقدس ان کے چہروں سے نور کی طرح برس رہا تھا۔ مسکراہٹ اور ملنساری میں ایسی مٹھاس، معصومیت اور اپنائیت تھی کہ احساس ہوتا تھا ہم ان کے اور وہ ہمارے اپنے ہی۔ ماں مادام ہنری بڑے فخریہ انداز میں اپنی بیٹی اور نواسی کو ہم سے ملانے کے لئے لائی۔ امجد نے بچی کے چھوٹے سے کمبل میں منہ دکھلائی کے پیسے رکھے، وہ بڑے خوش ہوئے۔ مادام ہنری اپنے پاور فل شوہر کی اجازت سے مجھے اور امجد کو لے کر گھر کے اندر داخل ہوئی۔ جہاں ایک لحاف بنایا اور اس پر گل بوٹے کاڑھے جا رہے تھے اور خاندان کی ساری عورتیں، ساری بچیاں اس کام میں مشترکہ طور پر مصروف تھیں۔ وہاں کوئی ایک درجن کالے لباس میں ملبوس لڑکیاں تھیں۔ ان کے اردگرد سروں پر کالی ٹوپیاں پہنے کوئی بیس پچیس چھوٹے چھوٹے برہنہ پا بچے کھیل رہے تھے۔ سب کا لباس ایک جیسا بلکہ صورتیں بھی ایک جیسی سب ایک ہی دادا دادی کی اولاد تھے۔ میں نے زمین پر بیٹھ کر نیچے ہی نیچے ان سے ہائے کیا مگر نام پوچھا تو کوئی بچہ نہ بولا پھر پابشکہ مادام نے سب کے نام ایک ایک کر کے لئے، مادام ہنری بہت پیاری تھی اس کے چہرے سے مروت، محبت، اخلاص اور معصومیت سفیدی اور لالی بن کر ٹپک رہی تھی۔ اس کا سر فخر سے بلند ہو رہا تھا کہ اس کے اتنے پوتے نواسے اور خاندانی بچے ہیں۔ نیا لحاف دو چار دن میں بن کر تیار ہو جاتا تھا۔ پھر کسی ایک خاتون کو مل جاتا جس کو ضرورت تھی۔ اس طرح سب کے لئے لحاف اور دوسرا سامان سب نے مل کر تیار کرنا ہوتا تھا۔ یہ ان کا طرز حیات تھا۔ آج میں نے ارادہ کر لیا تھا کہ تصویر خواہ مخواہ لینی ہے کئی مرتبہ کیمرہ نکالا پھر جیب میں ڈال لیا۔ معاً میرے ذہن میں کوندا لپکا موبائل فون پر بیٹے کو مس کال دی۔ جواباً اس کی کال آئی۔ میں نے ایک منٹ ایک طرف کھڑے ہو کر اسے سنا پھر موبائل فون کیمرہ آن کر کے بچوں کی ایک تصویر بنا ڈالی۔ ان کو پتہ نہ چلا وہ سمجھے میں فون پر بات کر رہا ہوں۔ امجد بچوں کے ساتھ گیند کھیلنے لگے میں ان کے کھلونوں سے کھیلنے لگا تو کرنل ارشاد اور لالہ عتیق ہنری سے سنجیدہ گفتگو کرنے لگے۔ عجیب بستی عجیب لوگ صرف نیکیاں اچھائیاں تھیں پیار، محبت، محنت اور انسانیت تھی، میرا جی اس بستی سے نکلنے کو نہیں چاہتا تھا۔ کاش یہ لوگ ہمیں چائے پر بلا لیں۔ کھانے پر مدعو کر لیں اپنے پاس بٹھا لیں تاکہ ہم ان کے بارے میں مزید جانیں۔ مگر بوڑھا ہنری ایک عقاب کی طرح خاندان کے سروں پر پیار بھرے پر پھیلائے کھڑا تھا۔ ہم وہاں سے نکلے تو کچی سڑکوں پر دھواں اڑاتے چند میل آگے انہی لوگوں کی ایک دکان میں گئے جہاں سے ہم نے تازہ تازہ گرم گرم روٹیاں خریدیں۔ میٹھی مزیدار پولی ایسی کہ ہم اسی وقت کھانے لگے۔ جتنے دن ہم کاٹیج میں ٹھہرے روٹیاں ہم آمش لوگوں کے ہاتھ کی بنی ہوئی ہی کھاتے رہے۔ ہمارے عتیق صاحب بڑے متاثر تھے۔ ان کا تکیہ کلام ناقابل یقین ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ وہ بات بات پر کہتے ناقابل یقین، یہ کیسے ممکن ہے۔ امریکہ کی گونجتی بجتی جدید ترین تہذیب کے اندر وہ اپنی ثقافت کو کس طرح قائم رکھے چلے آ رہے تھے۔ نہ سیاست، نہ جمہوریت، نہ ووٹ، نہ الیکشن، نہ تھانے، نہ کچہریاں، مذہب کی سچائیوں پر حقیقی انداز میں یہی لوگ عمل پیرا تھے۔ آج کے دن کی کامیابی میرے لئے یہی تھی کہ ان لوگوں سے مل آیا تھا اور تصویر بنا ڈالی تھی۔ آج سہ پہر ہم نے ڈایانا جھیل کے اندر کشتی رانی کرنی تھی۔ ڈاکٹر کے جھیل کنارے کھونٹے سے ایک جدید نئی نویلی قیمتی مشینی کشتی بندھی تھی۔ ہم نے چائے کا سامان ساتھ رکھا اور چل پڑے اس جھیل کے اندر جو ہاتھ کی انگلیوں کی طرح کئی اطراف پھیلی ہوئی تھی اور سب کناروں پر اس طرح کے خوبصورت نشیب و فراز، سبزہ زار، خوبصورت تر مکانات، پر ٹانویں ٹانویں لوگ، طرح طرح کی کشتیاں ایک جگہ کنارے پر پٹرول پمپ، ساتھ ایک جدید سٹور جس میں ہر چیز دستیاب تھی۔ ہم شام تک ان مناظر سے آنکھیں اور دل بھرتے رہے۔ آخر تھک ہار کر واپس لوٹے کشتی کھونٹے سے باندھی، اپنے اپنے کمروں میں جا کر گرم گرم پانی کے شاور لئے اور تازہ دم ہو کر نکلے اور ڈیک پر بار بی کیو اور موسیقی کی محفل سج گئی۔ ڈاکٹر کا آئی پاڈ اعلیٰ ترین موسیقی خزانوں کے موتی لٹانے لگا۔ بار بی کیو کی خوشبوئیں اور چٹختی آگ کے شعلے حدت برسا رہے تھے اور ہم کمبل لپیٹے جھیل پر چاندنی برسانے والی روشنی کو دیکھ دیکھ کر فبای الا ربکما تکذبان کا ورد کرنے لگے۔ اگر انسان امن، سکون اور پیار سے رہے اس کے معاشی مسائل حل ہوں اور اس کے اندر سیاسی فتور نہ جاگ رہا ہو تو زندگی کتنی خوبصورت ہو سکتی ہے۔
|
|