اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Thu, 01 May 2008 14:40:00

آپ نے مجھ سے کچھ کہا ہے....؟

آپ نے مجھ سے کچھ کہا ہے....؟

روزن دیوار سے.... عطاءالحق قاسمی
میں نے مزنگ چونگی پر ایک رکشے والے کو ہاتھ دیا۔ اس نے رکشہ میرے اتنے برابر لا کھڑا کیا کہ محمود و ایاز ایک ہی صف میں شامل ہوتے ہوتے بچے۔ میں نے پوچھا ای ایم ای سوسائٹی جانا ہے، کتنے پیسے؟“
بولا ”جو مرضی دے دینا بادشاہو! پیشکش تو بہت فراخدلانہ تھی لیکن مجھے اس کا انجام پتہ تھا۔ اس وقت یہ مجھے بادشاہ کہہ رہا ہے۔ بعد میں اس نے میرے ساتھ وہ سلوک بھی کرنا ہے جو ایک بادشاہ دوسرے بادشاہ کے ساتھ کرتا ہے۔ اس کی بہت سی مثالیں ان دنوں اخبارات میں بھی نظر آ رہی ہیں۔ چنانچہ میں نے کہا ”استاد، یہ تکلف چھوڑو سیدھی طرح بتاﺅ لینا کیا ہے؟“ بولا ”آپ سے میں دو سو روپیہ لے لوں گا“ مجھے اپنے ساتھ اس خصوصی سلوک کی وجہ تو سمجھ نہیں آئی تاہم میں نے کچھ دیر بحث و تمحیص کے بعد اسے ایک سو ستر روپے پر راضی کر لیا!
آج کافی دنوں کے بعد مجھے رکشہ میں بیٹھنے کا اتفاق ہو رہا تھا۔ چنانچہ اس میں بیٹھتے ہی جب اس عجیب و غریب سواری نے سپیڈ پکڑی تو ہوا کے تھپیڑوں نے چشم زدن میں میری مت مار کر رکھ دی۔ مجھے ایبٹ آباد کا وہ ہوٹل یاد آ گیا جس کے باہر جلی حروف میں لکھا تھا۔ آرام دہ اور ہوادار کمرے، کمروں کے آرام دہ ہونے کے بارے میں تو میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا البتہ یہ کمرے ہوادار ضرور تھے کہ ان کی کھڑکیوں کے سارے شیشے ٹوٹے ہوئے تھے۔ جس رکشے میں، میں سوار تھا، اس کے ریکسین کے دروازوں میں بھی جگہ جگہ سوراخ تھے۔
رکشہ ڈرائیور گندمی رنگ کا ایک ادھیڑ عمر کا شخص تھا۔ جو لکیریں ہمارے ہاتھوں پر ہوتی ہیں، وہ اس کے چہرے پر تھیں۔ اس نے کمبل کی بکل ماری ہوئی تھی اور اس بکل میں اس کا آدھا چہرہ بھی چھپا ہوا تھا۔ وہ سڑک پر رواں ٹریفک کے ساتھ اٹکھیلیاں اور زگ زیگ بناتا اقبال ٹاﺅن کو جانے والی سڑکوں پر دوڑتا چلا جا رہا تھا۔ میں نے اس کی پھرتیاں دیکھیں تو کہا ”استاد، میری کمر میں تکلیف ہے، کوئی کھڈا وغیرہ ہو تو وہاں بریک لگا لینا اور پھر چلنا، بولا ”سر جی! آپ فکر ہی نہ کریں“ اور اس کے ساتھ ہی اس نے رکشہ ایک کھڈ میں گرایا، جس پر بے ساختہ میرے منہ سے اس طرح ”ہائے“ نکلا جس طرح کی ہائے میرے ڈرامے ”خواجہ اینڈ سن“ میں علی اعجاز کے منہ سے نکلتی ہے؟ اس ”ہائے“ پر رکشہ ڈرائیور نے گردن میری طرف موڑی اور پوچھا ”سر جی! آپ نے مجھ سے کچھ کہا ہے؟ اس بے نیازی پر میں جل کر راکھ ہو گیا۔
رکشہ ابھی تھوڑی ہی دور گیا تھا کہ گھوں گھوں کی آواز کے ساتھ بند ہو گیا۔ پتہ چلا کہ کچرا آ گیا ہے۔ کچرا صاف کرنے کے بعد وہ ایک مرتبہ پھر اپنی منزل پر رواں تھا۔ تھوڑی دیر بعد پھر ایک زوردار جھٹکا لگا، میرے منہ سے پھر ”ہائے“ کی آواز بلند ہوئی۔ رکشہ ڈرائیور اپنے مسافروں کا بہت خیال رکھنے والا تھا۔ چنانچہ اس نے ایک دفعہ پھر گردن موڑ کر مجھے پوچھا ”سر جی آپ نے مجھ سے کچھ کہا ہے؟“ میں نے اس غیر ضروری سوال کا جواب دینا ضروری نہ سمجھا۔
تھوڑی دیر بعد پھر رکشے میں کچرا آ گیا تھا، اس دفعہ کچرا صاف کرنے میں کچھ زیادہ دیر لگی، مجھے گھر پہنچنے کی جلدی تھی ایک مہمان میرا انتظار کر رہا تھا، جب رکشہ اسٹارٹ ہوا تو میں نے پوچھا ”یار، اس میں بار بار کچرا کیوں آ جاتا ہے؟“ بولا ”موبل آئل میں ملاوٹ ہوتی ہے“ اس کے بعد اس نے معاشرے میں پھیلی ہوئی بے ایمانیوں، لوٹ کھسوٹ اور رشوت ستانی وغیرہ پر بولنا شروع کیا، اور بولتا ہی چلا گیا حتٰی کہ ایک دفعہ پھر میری کمر کو جھٹکا لگنے پر میرے منہ سے ”ہائے“ نکلی تو اس نے اپنا سلسلہ کلام منقطع کر کے کہا ”سر جی آپ نے مجھ سے کچھ کہا ہے؟“ میں نے کہا ”نہیں بھائی“ آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے، میں آپ سے بھلا کیا کہہ سکتا ہوں؟“
میں تین بجے رکشے میں بیٹھا، اب چار بجنے کو تھے اور ابھی میں نے آدھا رستہ طے کیا تھا، بار بار کچرا آنے کی وجہ سے منزل دور ہوتی چلی جا رہی تھی اور اس پر مستزاد وہ جھٹکے تھے جنہوں نے مجھے ہلا کر رکھ دیا تھا۔
میں نے نرمی سے رکشہ ڈرائیور کے کاندھوں پر ہاتھ رکھا جو ابھی ابھی کچرا صاف کر کے واپس اپنی سیٹ پر بیٹھا تھا اور کہا ”بھائی صاحب! میری بات سنیں“ اس نے گردن موڑ کر مجھ سے پوچھا ”آپ نے مجھ سے کچھ کہا ہے؟“ میں نے کہا ”ہاں، اس دفعہ آپ ہی سے کچھ کہا ہے“۔ بولا کیا مسئلہ ہے؟ میں نے جواب دیا ”مسئلہ کوئی نہیں، لیکن اگر میں تمہارے رکشہ میں بیٹھا رہا تو میں وقت پر گھر نہیں پہنچ سکوں گا، میں دوسرا رکشہ کر لیتا ہوں جس میں سستے نرخوں پر ملنے والا نقلی موبل آئل نہ ڈالا گیا ہو“! بولا ”اب آپ کو تکلیف نہیں ہو گی! میں نے کچرا اچھی طرح صاف کر دیا ہے“۔
میں خاموش ہو گیا، مگر اس وقت پھر میری آواز نے میری تکلیف کا اظہار کیا جب رکشہ ایک نو گزے کے مزار جتنے اونچے سپیڈ بریکر سے پوری رفتار سے گزرا۔ اس دفعہ میرا سر بھی رکشے کی ریکسین کی چھت سے منسلک لوہے کے پائپ کے ساتھ جا ٹکرایا تھا، چنانچہ اس دفعہ میری صدائے احتجاج زیادہ بلند آہنگ تھی، رکشے والے نے گھبرا کر پوچھا ”سر جی! آپ نے مجھ سے کچھ کہا؟“ میں نے جل کر کہا ”ہاں، تم سے کہا ہے، اگر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ ہی گئے ہو تو انسانوں کی طرح ڈرائیونگ کرو“!
رکشے والے نے گھور کر مجھے دیکھا اور اس دفعہ جان بوجھ کر رکشہ ایک گہرے کھڈ میں گرا دیا۔ میں نے بھی یہ ظاہر کیا کہ مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑا۔
شام کے تقریباً پونے پانچ بجے رکشہ منزل مقصود پر رکا تو میں نے اپنے ریزہ ریزہ جسم کو سمیٹا اور بمشکل رکشے میں سے برآمد ہونے میں کامیاب ہوا۔
میں نے ایک سو ستر روپے ڈرائیور کی ہتھیلی پر رکھے، جس نے کمبل کی بکل سے اپنا آدھا منہ بھی چھپایا ہوا تھا اور اسے مخاطب کر کے کہا ”عزیزم، آپ رکشہ ڈرائیوری میں اپنی صلاحیتیں ضائع کر رہے ہیں، آپ نے کچرا صاف کرنے کے چکر میں جس طرح آدھ گھنٹہ سفر کو پونے دو گھنٹے پر پھیلایا ہے اور ہر تکلیف پہنچانے والے اور پورے جسمانی نظام کا انجر پنجر ہلا دینے والے جھٹکے پر جس بے نیازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پوچھتے رہے ہیں کہ ”آپ نے مجھ سے کچھ کہا ہے؟.... ان خصوصیات کے پیش نظر آپ کو حکومت میں ہونا چاہئے تھا۔ پہلے مرحلے کے طور پر آپ آج ہی سے نہاری، ہریسہ چھوڑ کر میکڈونلڈ کے برگر کھانا شروع کریں اور ہو سکے تو کوئی این جی او بھی بنا ڈالیں۔ مولا کرم کرے گا“!
رکشہ ڈرائیور نے حیرت سے میری طرف دیکھا اور اس کے منہ سے ایک حسرت بھری سسکی سنائی دی اس دفعہ میں نے بے نیازی سے کہا.... ”استاد، آپ نے مجھ سے کچھ کہا ہے؟“ اور پھر اپنے گھر میں داخل ہو گیا!

 










© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications
sponsors: air purifier