عباس اطہر
کیا نوزائیدہ منتخب حکومت اپنے انجام کی طرف بڑھ رہی ہے؟
پاکستان میں سول حکومتوں سے زیادہ ناپائیدار کوئی شے نہیں ہوتی لیکن شاید یہ پہلی بار ہوا ہے کہ ”شیر خوار کی موت“ کی پیش گوئیاں عام ہو گئی ہیں۔
سرفہرست عدلیہ کا مسئلہ ہے، اس کے بعد دوسرا بڑا مسئلہ مہنگائی اور اس کے بعد سرحد اور بلوچستان کی صورتحال میں پھر سے پیدا ہونے والا بگاڑ ہے۔ یہ تینوں مسئلے ایسے ہیں کہ ”سیاسی نجومی“ ان میں کسی بہتری کا امکان نہیں دیکھ رہے۔
عدلیہ کی بحالی کا معاملہ اس طرح پھنس گیا ہے کہ کسی بھی فریق کیلئے لچک ممکن نہیں رہی۔ نواز شریف اپنے ووٹروں سے وعدہ کر چکے ہیں کہ اگر وہ مقررہ مدت میں جج بحال نہ کرا سکے تو وزارتیں چھوڑ دیں گے۔ مقررہ مدت ختم ہو چکی ہے، ممکن ہے اس میں توسیع ہو جائے لیکن کوئی نہیں کہہ سکتا کہ توسیع شدہ مدت میں بھی مسئلہ حل ہو جائےگا۔ نواز شریف کا موقف یہ ہے کہ عدلیہ کی 2 نومبر والی پوزیشن بحال ہونی چاہئے جس کا مطلب ہے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اپنے مکمل اختیارات کے ساتھ 2013ءتک کیلئے عہدے پر واپس آ جائیں اور وہ تمام جج سبکدوش قرار پائیں جنہوں نے 3 نومبر کو یا اس کے بعد حلف اٹھایا تھا۔ اس کے برعکس آصف زرداری کا موقف ہے کہ جج ایک آئینی پیکیج کے تحت بحال ہوں جس کے تحت ایک طرف پی سی او والے جج بھی برقرار رکھے جائیں گے اور دوسری طرف چیف جسٹس کی مدت کم کرکے انہیں ریٹائرڈ کر دیا جائےگا۔ آئینی پیکیج میں پہلے یہ بات شامل تھی کہ چیف جسٹس کی مدت ملازمت 3 سال کر دی جائے جس کا مطلب یہ ہوتا کہ چیف جسٹس مئی میں بحال ہو کر جون میں برطرف ہو جائیں۔ بعد میں پیپلز پارٹی کی طرف سے نواز شریف کو یہ پیشکش کی گئی کہ یہ مدت چار سال کر دی جائے۔ اس صورت میں چیف جسٹس کو مزید ایک سال مل جائےگا لیکن پیکیج کے تحت ان کے اختیارات اس حد تک کم کر دئیے جائیں گے کہ وہ حکومت کیلئے کوئی مسئلہ بن سکیں نہ بنا سکیں۔ آصف زرداری کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس نے سوموٹو کا اتنا زیادہ استعمال کیا ہے کہ ہر کوئی ان سے خوفزدہ ہے اور وہ حکومت کو مفلوج کرکے رکھ دیں گے۔
کوئی معجزہ ہو جائے تو الگ بات ہے، بظاہر یہ بحران اپنے حل سے محروم ہی لگتا ہے۔ نواز شریف کو اپنے مقصد میں کامیابی نہ ملی تو انہیں حکومت سے علیحدہ ہونا پڑےگا، دوسری صورت میں ان کی سیاست کو شدید نقصان پہنچے گا۔ لگتا یہی ہے کہ وہ ”عدم مقبولیت“ کا خطرہ مول نہیں لیں گے اور حکومت چھوڑ دیں گے۔ اس صورت میں آصف زرداری اور پیپلز پارٹی کیلئے پہلے سے بھی بڑی مشکل پیدا ہو جائےگی۔
انہیں حکومت میں برقرار رہنے کیلئے قاف لیگ اور متحدہ سے اتحاد کرنا پڑےگا اور جو حالات ہیں، بالخصوص ایوان صدر میں جنرل مشرف کی موجودگی میں یہ اتحاد کوئی معقول اتحاد نہیں ہو گا۔ پیپلز پارٹی ان دونوں جماعتوں کی دست نگر ہو جائےگی۔ یہ دونوں جماعتیں جنرل مشرف کی ”پاور بیس“ ہیں۔ اس صورت میں سول حکومت مکمل طور پر جنرل مشرف کی ماتحتی میں آ جائےگی۔ اگر ججوں کی حالیہ بحران سے پہلے صدارتی اختیارات ختم کرنے کا قانون منظور کرا لیا جاتا تو صورتحال مختلف ہو سکتی تھی لیکن اب معاملہ کچھ اور ہو گا۔
ذرا تصور کیجئے، ایوان صدر میں ایک ایسا شخص بیٹھا ہے جو پاکستانی تاریخ کا نامقبول اور ناپسندیدہ ترین آدمی ہے، جس کی حالیہ عرصے میں اتنی توہین ہوئی ہے کہ کوئی اور ہوتا تو کبھی برداشت نہ کر پاتا، نوازشریف سے اتحاد ٹوٹنے کے بعد سول حکومت پر اسکی بالادستی بحال ہو جاتی ہے تو وہ اپنی توہین کا انتقام لینے کس حد تک نہیں جائےگا؟ زرداری کیلئے مشرف کی ناپسندیدگی چھپی ہوئی نہیں۔ اس وقت مشرف سول حکومت کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرا رہے ہیں لیکن جب ان کا ہاتھ پتھر کے نیچے سے نکل آئےگا تو جس قسم کا تعاون وہ فراہم کریں گے وہ صاف ظاہر ہے۔ پھر غور کیجئے کہ اوپر صدر، نیچے نواز شریف کی زیر قیادت اپوزیشن جس میں قاضی حسین احمد اور عمران بھی شامل ہیں، کیا گل نہیں کھلائے گی اور ان کے ساتھ وکلاءکی تحریک۔ پیپلز پارٹی کے پاس دو ہی آپشن ہوں گے۔ قاف لیگ اور متحدہ کا دست نگر بن جانا یا پھر نئے الیکشن کا اعلان کرنا۔ ظاہر ہے یہ الیکشن بھی جنرل مشرف کرائیں گے۔ فروری کے الیکشن اس لئے پوری طرح دھاندلی کی نذر نہیں ہو سکے کہ بینظیر کی تازہ تازہ شہادت ہوئی تھی اور ملکی و عالمی ردعمل اتنا بے پناہ تھا کہ ”مثبت نتائج“ کے منصوبے پر مکمل عمل نہیں ہو سکا۔ اس مرتبہ مشرف کو مکمل عملدرآمد سے کون روکے گا؟
مہنگائی کا مسئلہ حکومت کیلئے عوامی خیر سگالی تیزی سے کم کر رہا ہے، عوام کو بجا طور پر توقع تھی کہ مہنگائی میں کمی ہو گی اور یہ توقعات خود مخلوط حکومت کے لیڈروں کے اس وقت کے بیانات سے پیدا ہوئی تھی جب وہ حکومت میں نہیں آئے تھے۔ یہ رہنما بتاتے تھے کہ مہنگائی کی وجہ یہ ہے کہ حکومت ملٹی نیشنل اداروں کو نواز رہی ہے، کرپشن اور لوٹ مار کر رہی ہے، اللے تللے کر رہی ہے۔ ہم یہ تینوں کام روک دیں گے۔ لیکن ہوا یہ کہ مہنگائی کم تو کیا ہوتی، ایک جگہ رکی بھی نہیں بلکہ مسلسل بڑھ رہی ہے اور ابھی تک ریلیف کیلئے ایک بھی قدم نہیں اٹھایا جا سکا۔ مشرف بہت زیادہ انتظار نہیں کریں گے اور مہنگائی جس تیزی سے بڑھ رہی ہے، اس کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہیں ”وار“ کرنے کیلئے صحیح موقع کی آمد کا زیادہ انتظار کرنا ہی نہیں پڑے گا۔
تیسرا مسئلہ سرحد اور بلوچستان کا ہے۔ اے این پی کی قیادت میں سرحد کی مخلوط حکومت نے طالبان سے مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا۔ شروع میں خوشگوار خبریں آئیں لیکن کچھ ہی دنوں بعد دہشت گردی کے واقعات شروع ہو گئے۔ اب خدا جانتا ہے یہ طالبان ہیں یا کچھ اور لوگ اپنی واردات کر رہے ہیں۔ بہرحال صورتحال افسوسناک ہے۔ یہی معاملہ بلوچستان کا ہے۔ بلوچ قومیت پرست حکومت کی معافی قبول کر رہے ہیں نہ سرکاری وعدوں پر اعتبار کر رہے ہیں اور دہشت گردی کے واقعات نہ صرف جاری ہیں بلکہ ان میں شدت آ گئی ہے۔ سکیورٹی اہلکار ہلاک کئے جا رہے ہیں، پائپ لائنیں اور ریلوے تنصیبات نشانہ بن رہی ہیں۔
نوزائیدہ اور شیر خوار حکومت کا نشیمن بجلیوں کی زد میں ہے۔ خدا اسکی حفاظت کرے اور ملک کی بھی۔ اس بار منحوس پیش گوئیوں کا محور کوئی جماعت نہیں، خود ملک کا وجود ہے۔