اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Thu, 24 Apr 2008 12:57:00

پوپ کی امریکہ میں آمد اور ....

پوپ کی امریکہ میں آمد اور ....
(وکیل انصاری)
عیسائیت کے مذہبی پیشوا یعنی پوپ بینڈکٹ امریکہ کے دورے پر اس وقت تشریف لائے جس وقت کیتھولک چرچ کے پادریوں پر اخلاقی جرائم پر بحث ہورہی ہے۔ پوپ بینڈکٹ جو پوپ جان پال سابقہ پوپ سے پہلے اپنے فلسفہ اور دانشوری اور اسلام Bashing کی وجہ سے مشہور تھے، خود شرمندہ ہیں کہ پوری دنیا میں کیتھولک چرچ کے پادری جنسی جرائم میں کیوں ملوث پائے جاتے ہیں۔ یہ موجودہ پوپ وہی شخص ہیں جو اپنی تحریروں میں یہ ثابت کرنے کی کوششوں میں رہے ہیں کہ مذہب اسلام عیسائیت کے مقابلے میں ”کم درجہ“ کا مذہب ہے اور نعوذ باللہ یہ موجودہ تشدد اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے، یعنی موجودہ دہشت گردی اور سیاسی بے چینی ہمارے مذہب کا حصہ ہیں۔ یہ وہ پوپ کہتے ہیں جنہوں نے صرف گزشتہ عشرے تک آئرلینڈ میں کیتھولک اور پروٹیسٹنٹ میں جو خون خرابہ ہوا اور پورے برطانیہ میں کیتھولک نے جو دہشت گردی کی، اسکے چشم دید گواہ ہیں۔
اس میں دنیا کے کسی بھی مذہب کے پیروکار کی دو رائے نہیں ہونا چاہئے کہ پوپ بینڈکٹ کیتھولک ازم میں نئی روح پھونکنے کے خواہشمند ہیں۔ ان کا یہ کام بھی ہے اور مذہبی پیشوا ہونے کے ناطے ان کا فرض بھی ہے، مگر جب مذہبوں کا موازنہ یا مقابلہ کیا جائے تو ہر فرد کیلئے اس کا مذہب مقدس ہوتا ہے اور اس پر رائے زنی عام طور پر تحریری شکل میں نہیں کی جاتی ہے، مگر اسلام کےخلاف یہ سب کچھ ہورہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ عالم اسلام میں بھی اس حوالے سے بے چینی پائی جاتی ہے۔
جس وقت سابقہ مرحوم پوپ کے انتقال کے بعد نئے پوپ کا سلیکشن ہورہا تھا تو اس وقت انکی اسلام کیخلاف تحریریں بھی موضوع بحث تھیں۔ جناب بینڈکٹ نے اس وقت اپنی تحریروں کو ”سابقہ تجربے اور سابقہ تجربے“ قرار دیکر ان تحریروں سے دوری اختیار کی تھی مگر اب وہ پھر اپنے مشن پر ہیں۔
پوپ بینڈکٹ کیتھولک ازم کے سیاسی پہلوﺅں پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں اور یہی بات ان کو ایک مذہبی پیشوا ہونے سے دور کررہی ہے۔ دنیا کے مذاہب میں جنگوں کا بدترین دور ہم سب کی تاریخ کے اوراق میں پڑھ چکے ہیں۔ تمام مذاہب نے اس سے سبق سیکھا ہے۔ صلیبی جنگیں یہ ثابت کرچکی ہیں کہ کسی مذہب کو ختم نہیں کیا جاسکتا ہے۔ آج صلیبی جنگوں کا مقصد تو موجود ہے مگر طریق جنگ بدل چکا ہے۔ آج بھی یہ جنگ جاری ہے مگر توپوں اور منجقیق کے بغیر لڑی جا رہی ہے۔ اب یہ جنگیں اقتصادی اور جدید ٹیکنالوجی کے ہتھیاروں کے استعمال سے لڑی جا رہی ہیں۔ ورلڈ بینک، نیٹو، یورپی یونین، عراق، افغانستان اور پاکستان اس وقت اس کے مرکزی کردار ہیں۔ تاریخ کے مطالعہ سے یہ سبق ہم سب کو معلوم ہے کہ دنیا میں قوموں پر آزمائش کا وقت آتا ہے۔ عالم اسلام بھی آزمائش سے گزر رہا ہے۔ جدید تعلیم و ٹیکنالوجی اور انسانی حقوق کی محرومی عالم اسلام کے مسائل ہیں۔ مسائل حل ہونے میں کبھی کبھی صدیاں اور کبھی کبھی صرف عشرے درکار ہوتے ہیں۔ بقول شاعر....ع
بستی بسنا کھیل نہیں بستے بستے بستی ہے
یا
پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ
جیسے شعر پڑھ کر ہم سب غفلت کی چادر تان کر سو جاتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ اب ہماری رہنمائی کیلئے پیغمبر پیدا نہیں ہونگے۔ ہم سب انسانوں کو اپنی بقاءکی جنگ لڑنے کیلئے معجزوں کے انتظار میں نہیں بیٹھے رہنا چاہئے۔
آئیے عالم اسلام کے خلاف یا پاکستان کیخلاف تحریروں کا، تحریروں سے ہی جواب دینا چاہئے۔ امریکہ میں انٹرفیتھ مباحثوں نے ثابت کردیا ہے کہ دنیا کے مذاہب ایک جگہ ایک شہر، ایک کمیونٹی کو مزید بہتر بناتے ہیں۔ مذاہب کا ماننا ہمارا ذاتی فیصلہ ہے، مذاہب کو پروجیکٹ کرنا سٹیٹ کا کام ہے۔
پوپ بینڈکٹ کا جرمن بیک گراﺅنڈ جرمنی کے گزشتہ 70 سالہ نفسیاتی مسائل کا بیک گراﺅنڈ ہے اور انکی تحریریں اور تقریریں ان جرائم کی پردہ پوشی کرنے میں ناکام ہیں جو انسانیت کیخلاف جرائم جرمنوں کے ہاتھوں ہوئے لہٰذا دوسرے مذاہب پر انگلی اٹھا کر اصل حقائق سے چشم پوشی انکی تحریروں کا مقصد ہے!
٭٭٭







(Your Name) آپ کا نام
(E-mail Address) ای میل ایڈریس
(City or Country) شہر یا ملک کا نام
(Write your message here) یہاں لکھیں




© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications
sponsors: air purifier