اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Thu, 24 Apr 2008 12:56:00

پاکستان کوبرا مت کہو!

پاکستان کوبرا مت کہو!

(ملک سلیم اکبر)
انسانوں کا کتے سے پیار بہت مشہور ہے امریکہ میں لوگ کتوں کو شاید انسانوں سے بھی زیادہ پیار کرتے ہیں۔ کتے کا منہ، سر چومتے ہیں۔ گرمیوں میں کتے کو ایئرکنڈیشنڈ کمرے میں سلاتے ہیں اور سردیوں میں گرم لباس بھی پہناتے دیکھا گیا ہے۔ ہمارے پاکستان میں البتہ کتے کو لفٹ نہیں کرائی جاتی لیکن کتے کو گھر بار کی رکھوالی کے لیے رکھا جاتا ہے یہاں امریکہ میں میم اپنے صاحب سے زیادہ کتے کو پیار کرتی ہے۔ بعض صاحب لوگوں کو بھی ہم نے اپنی گرل فرینڈ یا بیویوں سے زیادہ پیار اپنے کتے سے کرتے ہوئے دیکھا ہے شاید اس کی یہ وجہ ہے کہ بوائے فرینڈ یا گرل فرینڈ سے دل بھر جانے پر چھوڑ کر چلتی بنتی ہے لیکن یہاں کا کتا نہ تو مالک کو چھوڑتا ہے اور نہ ہی اپنے مالک کا دیار چھوڑتا ہے۔ پاکستان ہو یا امریکہ ہو۔ دنیا کے ہر ملک میں انسان اور کتے کی دوستی اور اس کی اپنے مالک اور مالک کے گھر بار سے وفاداری بہت مشہور ہے۔ کتے کو انسان کا وفادار جانور کہا‘ سمجھا اور مانا جاتا ہے۔ کتے کو جانور ہونے کے باوجود اللہ نے اتنی عقل دے رکھی ہے کہ جس نے تمہیں گھر بار اور کھانے پینے کے وسائل دے رکھے ہیں اس کا وفادار رہے یہی وجہ ہے کہ کتا اپنے مالک کا وفادار اور احسان مند ہوتا ہے جس طرح ہندوﺅں میں ذات پات ہوتی ہے اسی طرح کتوں میں ذات پاس کا کوئی معاملہ نہیں کتا اعلیٰ نسل کا ہو کسی گلی کا کتا، قد میں بڑا ہو یا چھوٹے قد کا کتا۔ بس کتے کو کتا ہی کہا جاتا ہے اور کتا بھی اپنے قد کاٹھ یا نسل سے قطعی بے نیاز اپنے گھر والوں کا وفادار ہوتا ہے۔
کتوں میں بھی بہت کم کتے اپنے گھر والوں کے وفادار یا احسان مند نہیں ہوتے ایسے کتوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ہی ہاتھ کو کاٹتے ہیں کہ جو اسے کھلاتے ہیں عام طور پر ایسے کتوں کی ذات بھی مشکوک قرار دی جاتی ہے یعنی کتوں میں بھی اتنا PRIDE ہے کہ گھر والوں سے وفاداری نہ کرنے پر اسے کتوں کی ذات ہی میں نہیں سمجھا جاتا یعنی گھر میں رہنے والا کتا اگر ان کی آنکھ بچا کر اس کی ہانڈی میں منہ ڈال دے تو پنجابی زبان میں ایسے کتوں کے لیے ایک محاورہ بنا ہوا ہے کہ۔
دو پیسے کی ہانڈی گئی لیکن کتے کی ذات پہچانی گئی
انگریزی میں بھی کہا جاتا ہے کہ۔
Do not Bite the hand which feed you
انگریزی ہماری مادری زبان نہیں لہٰذا ہم نہیں سمجھ سکے کہ انگریزی کا یہ محاورہ کتوں کے لیے ہے یا انسانوں کے لیے۔
اپنے ملک پاکستان کی حالت زار اور پاکستان کے سیاستدانوں‘ علماءکرام‘ صحافیوں اور دانشوروں کے اخبارات میں پاکستان کے بارے میں منافقانہ‘ زہریلے اور غیر وفادارانہ بیانات پڑھ کر تو ہمیں یہ انگریزی کا محاورہ کتوں کے بجائے انسانوں کے لیے بنایا ہوا لگتا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ ہم لوگ اپنی غلامانہ ذہنیت کی وجہ سے اکثر و بیشتر انگریزی کی بنائی ہوئی چیزوں کو فوقیت دیتے ہیں تو پھر کیا خیال ہے کیوں نہ ہم انگریزوں کے بنائے ہوئے محاورے پر بھی عمل کریں کہ
Do not Bite the hand which feed you
ہمیں حیرت ہوتی ہے دکھ ہوتا ہے‘ افسوس ہوتا ہے اور سب سے بڑھ کر ہمیں غصہ آتا ہے کہ یہ دیکھ کر کہ قیام پاکستان کو 54 سال ہونے کو آئے ہیں دشمنوں نے تو پاکستان کے وجود کو ابھی تک ذہنی طور پر قبول نہیں کیا لیکن اسے میں کس ستم اور ظلم کا نام دوں کہ قیام پاکستان سے پہلے بھی اور قیام پاکستان کے 54 سال بعد بھی ہمارے بعض ناعاقبت اندیش سیاستدان‘ چند علم سے بیگانہ علمائ‘ چند عقل سے بیگانہ دانشور اور چند ابن الوقت قسم کے صحافی اپنے ہی وطن پیارے پاکستان اور بانیان پاکستان کی شان میں گستاخیاں کرتے رہتے ہیں اگر ہماری جرا¿ت کو گستاخی خیال نہ فرمایاجائے تو ہم یہ برملا کہیں گے کہ ہمیں توایسا لگتا ہے کہ پاکستان کے دشمنوں کے پاکستان میں چھوڑے ہوئے کتے پاکستان ہی میں رہ کر اور پاکستان ہی کا کھا کر پاکستان ہی کے خلاف بھونک رہے ہیں۔
ہمارا تو دل چاہتا ہے کہ ہم ایسے لوگوں کی گردن دبوچ لیں جو مفکر پاکستان اور شاعر مشرق حضرت علامہ اقبالؒ‘ بانی پاکستان حضرت محمد علی جناح‘ شہید ملت حضرت لیاقت علی خان اور سرسید احمد خان کے بارے میں خرافات اور گستاخیاں کرکے اپنے تئیں Historian یا دانشور بننے کی کوشش کرتا ہے میں سمجھتا ہوں کہ کسی بھی محب وطن پاکستانی کو ان عظیم شخصیتوں کو پاکستان اور قیام پاکستان کے لیے دی جانے والی عظیم اور گراقدر قربانیوں پر فخر تو ہو سکتا ہے اعتراض نہیں مجھے تو یہ مثال بھی دیتے ہوئے شرم محسوس ہو رہی ہے کہ ہمارے ازلی دشمن بھارت کے عوام نہرو یا گاندھی کے بارے میں اچھے اور نیک خیالات رکھتے ہیں۔ ہم نے بھی کسی بھارتی سیاستدان یا دانشور کو اپنی قوم کے بانیان یا اپنے ملک بھارت کے خلاف تحریر یا تقریر کرتے نہیں سنا یہ بے غیرتی ہم ہی لوگوں میں ہے کہ ہم جس پاکستان میں رہتے ہیں اور جس پاکستان کا کھاتے ہیں اسی پاکستان کو اپنی نجی محفلوں میں سرعام گالی دیتے ہیں میں کہتا ہوں کہ یہ ہم ہی ہیںکہ جنہوں نے اپنے سیاستدانوں کے علاوہ اپنے صحافیوں، دانشوروں کو بھی یہ چھوٹ اور آزادی دے رکھی ہے کہ وہ ہمارے پیارے وطن پاکستان اور بانیان پاکستان کے بارے میں نازیبا الفاظ اور گستاخ جملے استعمال کر سکتے ہیں۔
برا نہ مانئے گا، حقیقت تلخ ضرور ہوتی ہے لیکن حقائق سے نظریں بھی نہیں چرائی جا سکتیں لہٰذا آج مجھے یہ بھی کہنے دیجئے کہ ہم لوگوں ہی کو شرم نہیں آتی ورنہ کہ ہم سب لوگ صحیح اور حقیقی معنوں میں محبت وطن اور قوم پرست ہوں تو کسی بے غیرت میں جرا¿ت ہے کہ وہ ہم پاکستان کے دیوانوں کے سامنے پاکستان یا بانیان پاکستان کو بلا بھلا کہے یا گالی دینے کا تصور بھیی کر سکے میں کہتا ہوں کہ اگر ہم غیرت مند ہیں تو ہم میں قومی غیرت اور قومی حمیت کی اتنی جرا¿ت ضروری ہونی چاہیے کہ ہم اس شخص کی زبان پر پاکستان یا بانیان پاکستان کیخلاف کسی بھی قسم کی کوئی غلاظت نہ نکلے۔
وہ سیاسی لیڈر کہ جن کو پاکستانی قوم نے مسترد کردیا ہے پاکستان اوربانیان پاکستان پر زہر افشانی اگل کر اپنی ناکامیوں کا بدلہ لیتے ہیں۔ پاکستانی قوم کو ایک وفاق میں اتحاد کی لڑی میں پرونے کے بجائے علاقائیت اور لسانیت کے زہر میں ڈنگنے والے رہنما پاکستان اور بانیان پاکستان کو گالیاں دینے کے بعد دوسرے ممالک کے شہری بننے کے بعد بھی پاکستان کیخلاف بکواس کرنے سے باز نہیں آتے پاکستانیوں کے کروڑوں روپے نہیں بلکہ کروڑوں ڈالر اپنے بینک بیلنس میں ڈال کر یورپ کی حسین راتوں میں عیاشیاں کرنے والے پاکستان کے غریب عوام کے ہمدرد کب اور کیوں ہو سکتے ہیں۔
وہ نام نہاد دانشور جن کے مضامین پاکستان کے اخبارات میں چھپتے ہیں وہ بانیان پاکستان کے بارے میں تاریخ کو مسنح کرکے پیش کرنے سے دانشور نہیں کہلا سکتے بلکہ پاکستان اور بانیان پاکستان کی کردار کشی کے مجرم بن کر تاریخ میں غداران وطن و قوم کا لقب ضرور حاصل کر سکتے ہیں۔
میری یہ سوچی سمجھی رائے ہے کہ پاکستان کے دشمنوں نے واحد اسلایم طاقت پاکستان کو اندرونی طور پر کمزور کرنے اور ہماری قوم کا مورال گرانے کے لیے ہمارے سیاستدان بھی خرید رکھے ہیں اور ہمارے صحافی اور دانشور بھی ہمارے دشمن اپنے ان ہی خریدے ہوئے لوگوں کے ذریعے یقینا وقتاً فوقتاً پاکستان اور بانیان پاکستان کے بارے میں منفی اور متضاد باتیں‘ بہتان اور غلاظت کی صورت میں لگاتا رہتا ہے۔ میں اپنے صحافی برادران کو بھی اس قومی جرم میں سب سے زیادہ شریک سمجھتا ہوں کہ جو ان بے غیرتوں کے مخالف بیانات کو اپنے اخبارات اور جرائد میں جگہ دیتے ہیں۔ میں تو کہوں گا کہ ایسے پاکستان دشمن عناصر کو پوری قوم کو حقہ پانی بند یعنی سوشل بائیکاٹ کر دینا چاہیے وہ تمام سیاستدان‘ صحافی اور دانشور جو پاکستان یا بانیان پاکستان کو گالی دیتے ہیں یا ان کے بارے میں اپنی گندی زبان سے غلاظت نکالتے ہیں ہمیں چاہیے کہ انہیں پاکستان سے نکال باہر کریں کہ بے غیرتو جس ملک میں رہتے ہو جس ملک کا کھاتے ہو اسی کیخلاف زہر بھی اگلتے ہو نکلوباہر یہاں سے۔
بانیان پاکستان نے ہمیں ایک آزاد ملک پاکستان دیا پاکستان کو مضبوط کرنا‘ اسے بنانا اور سنوارنا ہمارا کام ہے۔ بالکل اسی طرح کہ جس طرح ہمارے باپ یا ہمارے دادا نے محنت مشقت کرکے ہمیں اپنا مکان بنا کر دیا۔ چاردیواریں اور چھت تو ہمارے باپ دادا نے بنا دیا تھا ہاں اب یہ ہمارا فرض ہے کہ اس میں اچھا فرنیچر لائیں اس کے باغ کی دیکھ بھال کریں اسے سنواریں اور خوبصورت بنائیں۔
اسی طرح ہمارا فرض ہے کہ ہم پاکستان کی حفاظت بھی کریں اور اسے مزید خوبصورت بھی بنائیں۔
میں چاہتا ہوں کہ آج میں آپ اور ہم سب ملکر اپنے رب کی قسم کھا کر باآواز بلند یہ عہد کریں کہ ہم کسی سے اپنی نیک اور شریف ماں کی گالی نہیں سن سکتے تو اپنے مادر وطن پاکستان کے بارے میں بھی کسی سے گالی نہیں سنیں گے یاد رکھئے کہ
تو بھی پاکستان ہے
میں بھی پاکستان ہوں
یہ تیرا پاکستان ہے
یہ میرا پاکستان ہے
یاد رکھئے کہ ہماری پہچان پاکستان ہے۔ پاکستان سے تو ہم ہیں اور خدانخوانستہ اگر پاکستان نہیں تو ہم کچھ بھی نہیں۔
He who can`t love his country can`t love nothing.

 









  کھیل

 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications