اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Thu, 24 Apr 2008 12:54:00

فوج سے خطرہ نہیں

فوج سے خطرہ نہیں
(عبدالقادر حسن)
پاکستان میں جمہوری عمل مکمل ہوچکا ہے۔ وفاق اور صوبوں میں حکومتیں قائم ہوچکی ہیں اور نئی منتخب حکومتوں نے حکمرانی شروع کردی ہے۔ طویل آمریت سے نجات پر قوم خوش ہے۔ اگرچہ پرانی آٹھ سالہ آمریت کی اصل نشانی صدارت کے منصب پر فائز ہے لیکن عوام نے اسے 18 فروری کے الیکشن میں مسترد کردیا تھا اور اب تک وہ اسے مسترد کررہی ہے، صدر پرویز مشرف ملک کی سب سے بڑی ناپسندیدہ شخصیت ہیں اور اس دن کا انتظار ہے جب جمہوریت کے پیرہن کا یہ داغ دھل جائیگا۔
نئی حکومتوں کے سامنے مسائل کا ایک انبار پڑا ہوا ہے اور زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جہاں خطرناک نوعیت کے مسائل موجود نہ ہوں لیکن اس کے باوجود کہ نئے حکمران قوم کا آئیڈیل نہیں ہیں پھر بھی یہ عوام کے قریب تر ہیں۔ وہ عوام کو اور عوام ان کو سمجھتے ہیں اور دونوں کے درمیان یگانگت کی ایک صورت صاف دکھائی دے رہی ہے۔ دانشوروں کو اعتماد ہے کہ جمہوری حکمران ایک نہ ایک دن ان کے مسائل حل کرلیں گے کیونکہ حکومت کو احساس ہے کہ اس کی بقاءان مسائل کے حل میں ہے۔ اگر وہ مسائل کا حل تلاش نہ کرسکے تو وہ عناصر موجود ہیں جو ان کو اقتدار سے محروم کرسکتے ہیں۔ اس وقت بھی رخنہ اندازی جاری ہے اور بعض واقعات ایسے سامنے آرہے ہیں جن میں خفیہ عناصر سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ کراچی میں سابق وزیراعلیٰ ارباب غلام رحیم پر جوتوں سے حملہ، لاہور میں سابقہ حکومت کے ایک بڑبولے وزیر شیرافگن پر اسی انداز میں جوتا بازی اور ملتان میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کےخلاف ہنگامہ اور واپڈا اور مظاہرین کے مابین جنگ جس میں گولیاں بھی چلائی گئیں مگر پولیس اتنی تاخیر کے ساتھ پہنچی کہ کئی دفاتر، بینک اور متعدد گاڑیاں توڑی اور نذرآتش کی جاچکی تھیں۔ ان واقعات میں سابقہ حکومت کا ہاتھ سمجھا جا رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ جو لوگ اقتدار سے محروم کردئیے گئے ہیں مگر ابھی تک کسی نہ کسی صورت میں اس اقتدار سے چمٹے ہوئے ہیں، وہ خاموش نہیں بیٹھ سکتے۔ نئے حکمرانوں کو اس تشویشناک صورتحال کا اچھی طرح اندازہ ہے اور اس سے نپٹنے کیلئے ان کے پاس اختیارات بھی ہیں اور انتظامی مشینری بھی ہے، چنانچہ اس نے رفتہ رفتہ اپنے اختیارات اور انتظامیہ کو استعمال کرنا شروع کردیا ہے لیکن نہ تو وہ فوری طور پر بجلی کا بندوبست کرسکتے ہیں اور نہ ہی ان کے پاس گندم کے وافر ذخیرے موجود ہیں مگر اس کے باوجود وہ کسی حد تک ایسے اقدامات اٹھا رہے ہیں جو عوام کی سمجھ میں آرہے ہیں۔
پاکستان میں کسی بھی غیرفوجی جمہوری حکومت کو سب سے بڑا خطرہ فوج سے رہتا ہے جس کے منہ کو اقتدار کا خون لگ چکا ہے مگر یہ پہلی بار ہے کہ فوج سیاست سے دور ہورہی ہے اور اس کی ایک سمجھ میں آنے والی وجہ موجود ہے۔ فوج کے سربراہ نے یہ خود اعلان کیا ہے کہ عوام اور فوج کے درمیان فاصلے پیدا ہوچکے ہیں اور عوام میں فوج کی شہرت بہت مجروح ہوچکی ہے، چنانچہ فوج کو سول اور سیاستدانوں سے دور رہنے کے سخت احکامات جاری ہوچکے ہیں۔ فوج کے افسر جو سول محکموں میں بلند عہدوں پر عیش کررہے تھے، ان کو واپس بلایا جا رہا ہے اور یہ سخت ہدایات جاری کی جاچکی ہیں کہ تجارت اور کاروبار سے فوج کا کوئی تعلق نہیں ہونا چاہئے۔ ان اقدامات سے عوام میں فوج کا امیج بہتر ہونا شروع ہوچکا ہے لیکن اس کے باوجود فوج کی سول معاملات میں مداخلت کی روایت اتنی پرانی ہے کہ فوج کے سول معاملات سے دور رہنے پر یقین کیلئے ابھی خاصا وقت درکار ہے۔ لوگوں کو اندیشہ ہے کہ جی ایچ کیو میں کچھ چہروں پر سخت ناگواری کی کیفیت طاری ہے۔ بعض آنکھوں میں ہوسِ اقتدار کی چمک بھی واضح ہے اور غیرمعمولی مراعات سے محرومی کو بھی برداشت کرنا آسان نہیں ہے لیکن نئے آرمی چیف نے اپنے ساتھیوں کو یقین دلا دیا ہے کہ اب ان کا حکمرانی کے خواب دیکھنا ان کے حق میں مہلک ہوچکا ہے اور سابقہ چیف نے آرمی کو اس حد تک سول معاملات میں الجھا دیا ہے کہ سول میں اب آرمی کیخلاف نفرت خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے۔ فوج اور فوجی حکمران کے کسی حد تک پس منظر میں چلے جانے سے دہشت گردی کے واقعات بہت کم ہوگئے ہیں اور یہ بات عام طور پر کہی جا رہی ہے کہ جس دن پرویز مشرف نام کا کوئی شخص اقتدار سے کلّی طور پر دور ہوجائےگا، اس کے بعد ملک میں امن کا دور شروع ہوجائیگا کیونکہ دہشت گردوں کی نفرت کا اصل سبب یہی شخص ہے۔ فوج کے نئے سربراہ کو عام لوگوں کی نسبت اس بات کا زیادہ علم ہے اور فوج کے اعلیٰ حلقوں میں بھی اس نئی صورتحال کو محسوس کیا جا رہا ہے کہ اصل وجہ فوج نہیں فوج سے تعلق رکھنے والا حکمران تھا۔ نئی فوجی پالیسی کے تحت فوج سول معاملات سے جتنی دور ہوتی چلی جائے گی، امن و امان اتنا ہی قریب ہوتا جائیگا۔ یوں کہیں کہ فوج کو اس کے سابق سربراہ اور ان کے پیدا کردہ حالات کے جبر نے یہ دن دکھایا ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں بھی فوج کو اپنا چہرہ بدلنے اور خوشنما بنانے کی ضرورت محسوس کرنی پڑی ہے۔
ہمارے جمہوری حکمران فی الحال فوج کی طرف سے مطمئن ہیں اس لئے وہ بلاخطر ہو کر ان مسائل کا مقابلہ کرسکتے ہیں جو فوجی حکومت نے پیدا کئے ہیں اور وہ یہی کچھ کررہے ہیں۔
٭٭٭








  کھیل

 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications