اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
(عطاءالحق قاسمی)
ہماری قوم بڑی دلچسپ ہے، لڑائی مار کٹائی بھی کرتی ہے، ہیر پھیر سے بھی باز نہیں آتی، مہنگائی کے ہاتھوں بھی تنگ ہے، بیروزگاری کے شکنجے میں بھی کسی ہوئی ہے لیکن ان سب باتوں کے باوجود اس کی زندہ دلی میں بھی کوئی کمی نہیں آتی۔ اس زندہ دلی کا سب سے زیادہ مظاہرہ بسوں، ٹرکوں، ویگنوں اور رکشوں کے پیچھے اور بیت الخلاﺅں میں لکھی ہوئی زیادہ تر تحریریں ایسی ہوتی ہیں جو بیت الخلاﺅں ہی میں لکھی، پڑھی اور دہرائی جاسکتی ہیں البتہ پبلک ٹرانسپورٹ کی تحریریں ”فری فار آل“ ہیں اور بڑی معنی خیز بھی ہوتی ہیں۔
کسی زمانے میں بیشتر رکشاﺅں کے پیچھے لکھا ہوتا تھا ”پپو یار تنگ نہ کر“ لیکن اب یہ جملہ نظر نہیں آتا، شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی بھی دور حکومت میں ”پپو یار“ تنگ کرنے سے باز نہ آیا، چنانچہ عوام، صبر شکر سے کام لیتے ہوئے اپنے اس مطالبے ہی سے دستبردار ہوگئے۔ اسی طرح ایک جملہ بلکہ درخواست یہ بھی کہیں نہ کہیں لکھی نظر آہی جاتی ہے ”دیکھ مگر پیار سے“ اب یہ جملہ بھی خاصا معنی خیز ہے اور سیاسی نوعیت کا ہے، لیکن اگر حکومتیں اپنے عوام کو پیار سے دیکھنا شروع کردیں اور ان کے مفاد میں کام کریں تو امریکہ ان حکومتوں کو گھور کر دیکھنے لگتا ہے، لہٰذا پیار سے اسی کو دیکھا جاسکتا ہے جو حکومت میں لانے والا ہوتا ہے۔ غالباً اس ضمن میں عوام کی غلط فہمی بھی دور ہوچکی ہے چنانچہ اب یہ جملہ بھی ذرا کم کم پڑھنے کو ملتا ہے۔
ایک جملہ تو ایسا ہے جو سو فیصد سیاسی ہے اور یہ میں نے ایک بس کے پیچھے لکھا ہوا دیکھا جو ٹریفک کے ہر قاعدے قانون کو پامال کرتی اور سڑک پر موجود سب سواریوں اور انسانوں کے حقوق روندتی اندھادھند کسی انجانی منزل کی طرف رواں دواں تھی، اس کے پیچھے لکھا تھا ”پاس کر، یا برداشت کر“ یہ چیلنج غالباً سیاسی جماعتوں کیلئے تھا اور کسی بھی دور میں کسی نے بھی اس ”بس“ کو اوورٹیک کرنے کی کوشش نہیں کی، سبھی برداشت ہی کرتے رہے بلکہ بعض جماعتیں تو اس بس کو خوش آمدید کہتی ہیں اور من کی مرادیں پاتی ہیں، اس کے بعد آنے والی اس طرح کی بس ان خوش آمدید کہنے والوں کو کچل کر رکھ دیتی ہے مگر اس دوران کچھ دوسری جماعتیں اس بات کو خوش آمدید کہنے کیلئے تیار ہوچکی ہوتی ہیں اور یہ سلسلہ یونہی چلتا رہتا ہے۔
بسوں، ویگنوں، ٹرکوں اور رکشوں میں صرف اس نوع کے جملے ہی نہیں، بعض مزے کے شعر بھی لکھے ہوتے ہیں۔ ایک بس کے پیچھے یہ شعر لکھا تھا
جاپان سے میں آئی ہوں، مزدا میرا نام ہے
جتنا چاہے لوڈ ڈالو، خدمت میرا کام ہے
اس شعر میں تو ظالم شاعر نے پوری طرح واضح کر دیا ہے کہ اپنی کسی حکومت سے خدمت کی توقع رکھنا عبث ہے، پہ جاپان اور امریکہ وغیرہ ہی ہیں جو اپنے عوام کی خدمت کرتے ہیں اور اس خدمت کو وہ بوجھ بھی نہیں سمجھتے!
لیکن جس سلوگن نے مجھے سب سے زیادہ مزہ دیا ہے، یہ بالکل نیا ہے اور میں نے ابھی کل ہی ایک رکشے کے پیچھے لکھا ہوا پڑھا تھا ”دل توڑنا منع ہے،منجانب :وزارتِ محبت“ میں سمجھتا ہوں کہ جہاں اتنی وزارتیں قائم ہیں وہاں اگر واقعی ایک ”وزارتِ محبت“ بھی قائم ہوجائے تو کیا حرج ہے؟ ہم سارا دن کڑوے کسیلے جملوں سے ایک دوسرے کا دل توڑنے میں لگے رہتے ہیں۔ سندھی، بلوچ، پنجابی، مہاجر، پٹھان ایک دوسرے کے بارے میں بدگمانیوں کا شکار رہتے ہیں۔ اگر وزارتِ محبت قائم ہو اور وہ اپنا فریضہ دیانتداری سے انجام دے تو ہم ایک قوم بن سکتے ہیں، بس اتنا ہے کہ اس محبت میں انصاف بھی شامل ہونا چاہئے۔
٭٭٭








  کھیل

 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: air purifier