|
(اندازِ بیاں اور ........ وجاہت علی عباسی) ہمارے والد کے ایک دوست جن کی انگریزی کوئی بہت قابل ذکر نہیں تھی، کئی سال پہلے لندن میں گرفتار کرکے اس لئے واپس پاکستان بھیج دئیے گئے کیونکہ وہاں کے مقامی لوگوں نے انہیں سڑک پر کئی بار خون تھوکتے دیکھا تھا اور پولیس کی پرزور زبردستی کے باوجود وہ صاحب مان کر نہیں دئیے کہ انہیں کوئی بیماری ہے۔ جب میڈیکل جانچ سے کچھ نہیں پتہ چلا تو انہیں اس خوف سے ڈیپورٹ کردیا گیا کہ کہیں کوئی نئی بیماری لندن میں نہ پھیل جائے۔ انگریزوں کے حساب سے مریض خون تھوکنے کے علاوہ ایک عجیب و غریب حرکت بھی کرتا ہے، یعنی مریض سے کچھ بھی پوچھا جائے تو وہ ہر سوال سننے کے بعد اپنے ہاتھ کی انگلی سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کرتا ہے اور بار بار ”پان پان“ بولتا ہے، افسوس جن انگریزوں کو ہم اتنی اچھی طرح سمجھتے ہیں، وہ ہمارے ایک چھوٹے سے ”پان“ کو نہیں سمجھ پائے۔ انگریزوں کی کم عملی کی وجہ سے ہمارے والد کے دوست کو منہ سے پان اور انگلستان کے ویزے سے ہاتھ دھونا پڑے۔ 1968ءمیں ہندی فلم ہیرو دیوآنند کیلے ایک گانا بنایا گیا جس کے بول تھے ”کھئی کے پان بنارس والا“ دیو صاحب گانا سنتے ہی آگ بگولہ ہوگئے ”ہیرو پان کیسے کھا سکتا ہے؟ یہ فلم اس گانے کی وجہ سے فلاپ ہوجائے گی“ کہتے ہوئے گانا فلم میں ڈالنے سے انکار کردیا۔ اس طرح دس سال بعد امیتابھ کو موقع ملا ”چھورا گنگا بنارے والا“ بننے کا یعنی 1978ءکے سبھی ایوارڈز اس گانے کو ملے جو امیتابھ پہ فلمایا گیا۔ دس سال پہلے لگا پان امیتابھ کی زندگی میں کیسا رنگ لایا، یہ تو سب جانتے ہیں مگر ہم میں سے کئی لوگ یہ نہیں جانتے کہ آخر پان آیا کہاں سے؟ پان کا ذکر پرانی ہندو کتابوں میں کوئی پانچ ہزار سال پہلے سے ملتا ہے۔ مگر پان کی اصلی شہرت مغلوں کے زمانے میں شاہ جہاں کی والدہ ملکہ نور جہاں کی وجہ سے ملی یہ وہ زمانہ تھا جب میک اپ کرنے کے لیے خواتین قدرتی اجزاءاستعمال کرتی تھیں۔ نور جہاں کو یہ علم ہوگیا کہ پان کے پتے پر کچھ خاص چیزیں لگا کر کھانے سے ہونٹ لال ہو جاتے ہیں۔ نور جہاں سے شروع ہوئی تہذیب پورے ہندوستان میں پھیل گئی اور پھر ہر خاتون اپنے حسن کو نکھار دینے کے لیے پان کھاتیں۔ پان نے کچھ کے لیے اچھا کیا تو کچھ کے لیے برا‘ پرانے زمانے میں اکثر مثالیں ایسی ملتی ہیں جب لوگوں نے اپنے دشمنوں کو ختم کرنے کے لیے دعوتوں میں پان میں زہر ملا کر کھلا دیا۔ اس لیے آج بھی ہندوستان میں کسی کو مارنے کے لیے دی گئی رقم کو ”سپاری“ کہا جاتا ہے۔ کئی سالوں میں ہر پکا رنگ یا تو دھندلا ہوگیا یا پھر مٹ گیا لیکن پان کا چڑھا رنگ پھر کبھی برصغیر پر سے نہیں اترا۔ دنیا میں سب سے زیادہ پان ہندوستان میں کھایا جاتا ہے خاص کرکے لکھنو¿ میں جہاں پان کھانا ایک ثقافت ہے گھر آئے مہمانوں کو پان کے ساتھ خوش آمدید کہا جاتا ہے اور کھانے کے بعد اگر پان نہ پیش کیا جائے تو لوگ اسے مہمان نوازی میں کمی سمجھتے ہیں۔ ہندوستان سے پان چاروں طرف پھیلا ہے یہاں تک کہ برما میں ساٹھ کی دہائی میں ہر گھر میں ایک پان دان ہونا لازمی تھا جو وہاں کوئیٹ کے نام سے مشہور تھا۔ سب سے زیادہ پان بنگلہ دیش سے دنیا بھر میں بھیجا جاتا ہے۔ آج بنگلہ دیش کے کئی گاﺅں کا ذریعہ معاش صرف پان بیچنا ہے۔ پان کے تین مختلف قسموں کے پتے ہوتے ہیں بنارسی جو ہلکے ہرے رنگ کا ہوتا ہے۔ کلکتہ جو گہرے ہرے رنگ کا ہوتا اور مگھئی جو دونوں رنگوں میں ہوتا ہے مگر سائز میں کافی چھوٹا پان کے ذائقوں کی سینکڑوں قسمیں ہیں۔ جیسے سلیمانی سادہ‘ میٹھا 120‘ 300‘ بھولا‘ تمباکو والا وغیرہ وغیرہ ان عام اقسام کے علاوہ ہر پان والے کا کوئی سپیشل پان ضرور ہوتا ہے جو صرف اس کے پاس ہوتا ہے جسے پاکستان میں سبے سے مہنگا ملنے والا پان کراچی کے پی آئی ڈی سی ہاﺅس میں ہے۔ اس پان کو بنانے میں کریمل‘ شہد کا سیرپ اور چاکلیٹ کا استعمال کیا جاتا ہے ایک پان کی قیمت 75 روپے ہے۔ پان والوں کی بات نکلی ہے تو دنیا کے سب سے مشہور پان والے کا ذکر تو ہونا ہی چاہیے ممبئی کے پوش علاقے وارڈن روڈ پر مقیم پان والا جے شنکر تیواری جو مجھڑ پان والے کے نام سے مشہور ہے آج پان کی دنیا کا سب سے بڑا ”ستارہ“ ہے۔ لاکھوں لوگ روز ان کی دکان سے پان کھاتے ہیں۔ ہزاروں شادیوں میں بڑے بڑے فنکشن میں لوگوں کو پان کھلانے کے علاوہ وہ واحد شخص ہیں جن کی پان کی دکان انٹرنٹ پہ بھی ہے۔ سب بدل گیا محل مکان ہوگئے دربار لونگ روم ہوگئے‘ تخت صوفے ہوگئے۔ روز کھانے کی دعوتیں دو منٹ والی میگی نوڈلز میں بدل گئیں سونے کی تار سے سلی پوشاکیں‘ ٹی شرٹ اور جینز بن گئیں۔ وہ بڑے بڑے مشاعرے اور واہ واہ کی گونجیں ساٹھ منٹ کی ایم پی نفری سی ڈی ہوگئے۔ وقت کیا بدلا ہمارے لیے سب بدل گیا یہ گزرے ہوئے کل کے شہنشاہ جن کی ایک انگلی کے اشارے پر ہزاروں لوگوں کی دنیا بدل جاتی آج انٹرنیٹ کے سامنے انگلی سے کلک کلک کرتے اپنی کھوئی ہوئی طاقت کے نقوش ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔ وہ اربوں روپے کے موتی جو بہتر مستقبل کے لیے جمع کیے گئے تھے۔ صرف کتابوں میں رہ گئے اور وہ واحد چیز جس نے محلوں سے آج تک ہمارے لیے خود کو محفوظ رکھا وہ پان تھا ہم چاہے جتنے بھی بدل جائیں اس صدیوں سے ہمارا ساتھ دیتے پان کو کبھی کسی چیونگم‘ چاکلیٹ کی بلی نہیں چڑھائیں گے۔
|
|