اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News

عباس اطہر
 جلد یا بدیر عدلیہ کا معاملہ کسی نہ کسی سمت میں حل ہو ہی جائے گا۔ وہ وقت بھی زیادہ دور نہیں ہے جب ایوان صدر میں بھی ایک منتخب صدر بیٹھا ہو گا اور یہ کہا جا سکے گا کہ جمہوریت مکمل طور پر بحال ہو گئی ہے، ادارے ازسر نو زندہ ہو گئے ہیں۔ ملک کو عالمی برادری میں باعزت مقام حاصل کرنے کا حق بھی مل جائے گا لیکن بحران اس کے بعد شروع ہونا ہے۔ عام خیال یہ ہے کہ ملک بحرانوں سے گزر رہا ہے اور یہ اتنا غلط بھی نہیں۔ لیکن اس وقت ایک سیاسی استحکام نظر آ رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہی داﺅ پر لگے گا۔
میرا اشارہ اس ”تصادم“ کی طرف نہیں جو بعض صحافیوں، کالم نگاروں اور تجزیہ نگاروں کے خیال میں بہت جلد نواز شریف اور زرداری میں ہونے والا ہے اور جس کے بعد دونوں سیاسی جماعتوں کا اتحاد ٹوٹ جائے گا اور ملک میں نیا سیاسی بحران پیدا ہو جائے گا، اگرچہ میرے خیال میں اتحاد ٹوٹنے کی پیش گوئی اتنی آسانی سے نہیں کی جا سکتی جتنی آسانی سے کی جا رہی ہے لیکن اگر یہ ٹوٹ جائے تو بھی اسے بحران نہیں کہا جا سکتا۔ جمہوری ممالک میں ایسا ہوتا ہی ہے۔ مخلوط اتحاد بنتے ہیں، ٹوٹ جاتے ہیں۔ کبھی الیکشن مدت پوری کرنے کے بعد ہوتے ہیں اور کبھی مڈٹرم انتخابات کرانا پڑتے ہیں۔ کبھی حکومت ایک ووٹ کی اکثریت سے بنتی ہے تو کبھی ایک ووٹ کی کمی سے ٹوٹ جاتی ہے۔ پرانے اتحادی اپوزیشن میں چلے جاتے ہیں، اپوزیشن کے کچھ لوگ حکومت کے نئے اتحادی بن جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ یا اس کا کچھ حصہ پاکستان میں بھی دہرایا جائے تو اسے جمہوری معمول کا حصہ سمجھنا چاہئے۔ بحران سے میرا اشارہ مہنگائی اور سرحدی صورتحال سے ہے۔
مہنگائی نے تمام ریکارڈ توڑ دئیے ہیں اور لوگ خود کشیاں کر رہے ہیں۔ یہ بات پرانی ہو چکی، لیکن نئی حکومت اپنے وعدے کے مطابق عوام کو کوئی ریلیف نہ دے سکی تو نئی بات یہ ہو گی کہ خود کشیاں بڑھ جائیں گی اور چونکہ اب وہ بے رحم ڈنڈا مسلط نہیں ہے جو لوگوں کے سر پھوڑتا اور انہیں لاپتہ کر دیتا تھا، اس لئے دکھوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ تلے دبے لوگ سڑکوں پر بھی نکل سکتے ہیں۔ ایسے میں حکومت کیا کرے گی؟ کیا ان لوگوں کو لاٹھی چارج اور شیلنگ سے قابو کرنے کی کوشش کی جائے گی یا ان کی فریاد پر توجہ دی جائے گی۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ایسا موقع آنے ہی کیوں دیا جائے؟ کیا یہ کوئی دانشمندی ہو گی کہ جب ملک میں مظاہرے اور ہنگامے پھوٹ پڑیں تو مذاکرات کیلئے کوئی کمیٹی بنائی جائے۔
یہ درست ہے کہ نئی حکومت نے ابھی قدم جمائے ہی ہیں اور فوری طور پر مہنگائی میں کمی نہیں ہو سکتی لیکن جو کچھ ہو رہا ہے وہ تو اس سے بھی الٹ ہے۔ مہنگائی ایک جگہ ٹھہر جاتی تب بھی کوئی بات تھی۔ یہاں تو مہنگائی مزید بڑھ رہی ہے۔ اپریل کے پہلے پندرھواڑے میں بہت سی روزمرہ لازمی اشیاءمثلاً گھی آٹے اور دیگر اجناس کی قیمتوں میں 80 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے مہنگائی کی یہ اضافی لہر حکومت کے نوٹس میں ہو گی اور یہ حکومت انہی لوگوں پر مشتمل ہے جو کل تک مہنگائی کے ہاتھوں ہونے والی بربادی پر حقائق نامے پیش کرتے تھے اور خود کشیوں کے اعداد و شمار جاری کرتے تھے۔
قاتل مہنگائی کی وجہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ سب کو معلوم ہے کہ آٹھ سالہ لوٹ مار کا دور ملکی معیشت کی جڑیں کھوکھلی کر گیا ہے۔ اس دور میں غریب، غریب تر ہو گیا اور اسکی جمع پونجی شوکت عزیز نے جنرل مشرف کی آشیر باد سے امرا کی جیبوں اور تجوڑیوں میں منتقل کر دی۔ ایک منظم منصوبے کے تحت ملکی صنعت کو مفلوج بنایا گیا تاکہ بے روزگاری بڑھے اور کنزیومر کلاس صرف غیر ملکی (امپورٹڈ) اشیاءخریدے۔ حکومت ان لوگوں کو شاید دی ہی اس شرط پر تھی کہ پاکستان کی صنعت ختم کرکے اسکی منڈی ملٹی نیشنل اداروں کے حوالے کی جائے۔ اسی منظم منصوبے کے تحت پاکستان کی زراعت بھی تباہ کی گئی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ پنجاب جو ”اناج گھر“ کہلاتا تھا، اب ایک اجڑے ہوئے گودام کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ گندم کی پیداوار ہر سال کم ہو رہی ہے، اس پر مستزادیہ کہ ایک سازشی سکیم کے تحت حاصل ہونے والی کم پیداوار کو بھی جعلی اعداد و شمار ظاہر کرکے زیادہ اور سرپلس ظاہر کیا گیا اور پھر ان اعداد و شمار کی بنیاد پر گندم برآمد کر دی گئی (بعض حلقے بتاتے ہیں کہ گندم قاف لیگ کے بعض رہنماﺅں نے مشرق وسطٰی میں موجود گوداموں میں جمع کرا دی اور پھر وہیں سے دو گنے داموں دوبارہ امپورٹ کر لی گئی)
یہ ٹھیک ہے کہ اس دور میں معیشت کا جو تیا پانچہ کیا گیا، اس کی وجہ سے موجودہ حکومت کو یہ سمجھ ہی میں نہیں آ رہی کہ وہ اس پھٹی ہوئی بوری کا کون کون سا سوراخ بند کرے لیکن کہیں سے تو شروع کرنا پڑے گا۔ افسوس یہ ہے کہ ابھی تک ایسے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے جن سے یہ اندازہ کیا جا سکے کہ حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کیلئے کوئی کارروائی کی ہے۔ یہ اقدامات مشکل ہو سکتے ہیں ناممکن نہیں۔ کچھ اقدامات ایسے ضرور کئے گئے ہیں جن کی تعریف ضروری ہے مثلاً حکومتی ایوانوں کے اخراجات میں کمی لیکن ان سے عوام کو فوری ریلیف ملنے کا کوئی امکان نہیں۔ ریلیف کیلئے حکومت کو بعض اشیا کی قیمتوں میں کمی کرنی ہو گی، کچھ ناروا ٹیکس ختم کرنے ہوں گے۔ ان کے نتیجے میں اشیا مارکیٹ سے غائب ہو سکتی ہیں جس کا مطلب ہے کہ ذخیرہ اندوزوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنا پڑے گا۔ یہ سب جانتے ہیں کہ ذخیرہ اندوز ہوں یا دام بڑھانے والے، ان سب کے بااثر حلقوں سے قریبی تعلق ہوتے ہیں بلکہ اب تو یہ لوگ خود بااثر بن گئے ہیں۔ ان بااثر مافیاﺅں کا اثر ختم کرنے کیلئے حکومت کو بہت زیادہ غیر جانبداری اور بے مروتی کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ ورنہ کارروائی بے اثر رہے گی۔ پٹرول کی مہنگائی کا عالمی مارکیٹ سے تعلق بجا لیکن اس سچ کو بھی نظر انداز نہ کیا جائے کہ حکومت نے غیر ضروری طور پر بہت سے ٹیکس پٹرول پر لگا رکھتے ہیں جن کا فائدہ صرف ملٹی نیشنل اداروں کو ہو رہا ہے۔
سرحدی صورتحال کا تعلق امریکہ، پاکستان تعلق سے ہے۔ حکومت مبینہ دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اختیار کر رہی ہے۔ امریکہ اس پر کڑی نظر رکھے گا اور اگر اس نے اس عمل کو اپنے مفادات کے خلاف سمجھا تو وہ انہیں ناکام بنانے کی کوشش کرے گا۔ غیر ملکی ایجنٹ ایسی کارروائیاں کریں گے جو مقامی طالبان وغیرہ سے منسوب کی جا سکیں پھر ان کی آڑ میں حملے ہوں گے۔ ظاہر ہے یہ بات حکومت کو ہراساں کرنے کیلئے کافی ہو گی اور اگر حکومت صورتحال میں جکڑی گئی اور اسے مذاکرات کے بجائے طاقت کا استعمال کرنے پر مجبور کر دیا گیا تو وہی ”دھماکہ خیز“ فضا پھر سے لوٹ آئے گی جو خدا خدا کرکے ٹلی ہے۔
دونوں مسئلے بڑے ”بھاری“ ہیں۔ خدا اس حکومت کی مدد کرے اور اسے صحیح فیصلے کرنے کی صلاحیت بھی دے اور جرات بھی۔


 










© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications
sponsors: air purifier