|
(دل پشوری........ڈاکٹر ظہور احمد اعوان) آج کا کالم شروع کرنے سے پہلے ایک کہانی چھوٹی سی، ایک باغ تھا ہرا بھرا، پھولوں، پھلوں، طرح طرح کے طیور سے معمور، اس میں ایک بلبل بھی رہتی تھی، خوبصورت جو کوئل کی طرح کو کوکتی تھی تو سارا چمن مہک اٹھتا تھا، پھر ایک دن خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ اس بلبل کوئل کو کسی غنیم کی نظر کھا گئی، مار دی گئی اور وہ کسی خونخوار راہ گم کردہ شکرے یا چور چکار گدھ کے پنجوں کا شکار ہو کر مر گئی، چمن خاموش ہو گیا، نغمے گنگ ہو گئے، خوشبو مر گئی، بلبل کا گھونسلہ ہرا بھرا تھا، اس میں اس نے بہت سے پھول جمع کر رکھے تھے اور طرح طرح کے ثمر آور بیج اور انڈے بھی جن سے مزید پھول نکلنے، مزید ثمر ابھرنے اور مزید چہچہاہٹیں طلوع ہونا تھیں مگر اس کا آشیاں لٹ گیا، ساتھ چمن کا حسن بھی روٹھ گیا۔ قریب ہی درخت پر ایک کوا اس سے پرے کہیں تاک لگائے بیٹھا تھا وہ اس کی رشتہ داری اور ہمسایہ کاری اور ہم وطنی کا بھی دعویدار تھا وہ بلبل تھی یا کوئل اس پرندے کو اپنے گھونسلے کے پاس نہیں پھٹکنے دیتی تھی مگر بلبل کا آشیانہ اور باغ اجڑنے کے ساتھ ہی کوا اڑ کر آ کے اس کے گھونسلے پر بیٹھ گیا اور اپنی پانی چونچوں، پنجوں سے انڈے پھوڑ ڈالے، پھول نوچ ڈالے، تنکا تنکا جوڑ کر بنائے جانے والے آشیاں کی تیلیاں بکھرنے لگیں اور چمن میں طیوران خوش الحان کی بجائے زاغ و زغن کی حکمرانی اور ان کی بھبھک کا آغاز ہو گیا، پھر اس بلبل و کوئل کو چاہنے والے سب پرندے اڑ گئے، چپ ہو گئے یا نئے چمن گھونسلے آشیانے تلاش کر لئے، باغ کے مالی، حالی، موالی سب حیران و ششدر، جائیں تو کدھر، کسی کی سمجھ میں نہیں آرہا۔ یہ کہانی سن سمجھ لیں، سمجھ میں آ جائے تو ٹھیک ورنہ اسے من گھڑت سمجھ کر بھول جائیں۔ اب آمدم برسر مطلب و برسر کالم، سوا برس پہلے جناب جنرل پرویز مشرف صاحب آپ کے حضور دست بستہ ایک درخواست گزارنی تھی کہ حضور بس آپ چلے جائیں، اپنی صدارت کے اعلان و انتخاب کو لگائیں لوکا، بھول جائیں سب حکمرانی کے خواب اور رخت سفر باندھیں، اس وقت آپ کے پاس عزت و آبرو کے ساتھ جانے کا موقع اور راستہ موجود تھا، آپ سے عرض کیا تھا اسے بند نہ کریں مگر آپ اقتدار کے منہ زور مگر اندھے گھوڑے پر سوار تھے جو اپنے سوار کو بھی فی سبیل اللہ اندھا کر دیتا ہے، یہ پاکستان کی بھی روایت ہے اور دنیا بھر کا بھی مسلمہ اصول کہ اقتدار اپنی مرضی سے کوئی نہیں چھوڑتا تاآنکہ وہ کوئی نیلسن منڈیلا، مہاتیر محمد یا سونیا گاندھی نہ ہو، ورنہ دنیا کے باقی سارے عام جاہ پرست حکمران اپنے آپ کو نان ڈسپوزایبل اور عقل کل سمجھ کر اس خوش فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں کہ وہ گئے تو دنیا گئی، پورا گلوب ان کے سینگ پر کھڑا ہے، چھوٹے دماغ والوں کا وژن نہیں ہوتا، وہ اپنی ناک سے آگے نہیں دیکھ سکتے، آپ تو اپنے آپ کو وژنری کہتے ہیں، پاکستان کے مستقبل کو درخشندہ بنانا چاہتے تھے مگر آپ نے بھی وہی راستہ اختیار کیا جس پر آپ سے پہلے لوگ چل رہے تھے۔ یہ طے ہے کہ آپ نے جانا ہے کیونکہ آپ نے آنکھوں پر عینک لگا رکھی ہے جس سے نوشتہ دیوار نظر ہی نہیں آتا چہ جائیکہ اس کا پڑھنا، ہر شخص اور ہر کردار کا اس دنیا کے سٹیج پر ایک رول ہوتا ہے، اسے جانا پڑتا ہے، اسے بلایا جاتا ہے، خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جو اس ناقوس کو سن لیتے ہیں، آپ نے ہرگز نہیں سنا، آپ نے عزت و احترام کے سارے رستے چھوڑ دئیے، اب بھگتئے۔ یہ بات دنیا کے ہر سیاستدان و حکمران کو یاد رکھنی چاہئے کہ عوام کا حافظہ بہت ہی کمزور ہوتا ہے، عوام اور پاکستانی عوام ضرب المثل کے طور پر بھول جانے کے عادی ہیں، اس پاکستان کے لوگ مرنے والے کا سوگ بڑے دھوم دھڑکے سے مناتے ہیں، بڑے بڑے مقبرے کھڑے کرتے ہیں، مرنے کے بعد اس کے حق میں قوالیاں گاتے ہیں مگر جب زندہ ہوتا ہے تو اسے پتھر مارتے ہیں۔ قائداعظم نے پاکستان بنا دیا، جس شخص کو اس نے پاکستان کا پہلا وزیراعظم بنایا اس نے اس قائد کو بیمار و قریب المرگ حالت میں ایک بیمار تر خراب ایمبولینس میں لا کر کراچی اور اس کی دھوپ میں سڑکوں پر لاوارثوں کی طرح چھوڑ دیا کہ بڈھے کا رول ختم ہے، اب ہماری حکمرانی ہے۔ کیا قائداعظم سے بڑا لیڈر اس برصغیر نے مسلمانوں کے حق میں جنا ہے مگر اس قوم کے حکمرانوں اور اقتدار کے گھوڑے پر سوار لوگوں نے اس کے ساتھ کیا کیا؟ پھر مکافات عمل کا طویل سلسلہ شروع ہوا جو اب تک جاری ہے اور آپ بھی اس کا حصہ ہیں، لیاقت علی خان کو اسی جگہ گولی مار دی گئی جہاں 60 سال کے بعد پاکستان کی سب سے خوبصورت خاتون سیاستدان کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ جنرل صاحب آپ جنرل نہیں رہے، آپ نے اپنا مشن پورا کر کے ریٹائرڈ جرنیلوں میں شامل ہو جانا تھا مگر آپ نے دوسرا راستہ چنا، یہ سمجھ کر کہ آپ قوم کی خدمت کر رہے ہیں یہاں کی قوم ہو یا سیاست کسی خدمت ودمت کو نہیں مانتی، اس کے لئے تو بس آوے ہی آوے، جاوے ہی جاوے کی اہمیت ہے وہ ہر دو چار سال بعد چہرے بدلنا چاہتی ہے، یہ بات آج تک کسی پاکستانی حکمران کی سمجھ میں نہ آئی کہ پاکستانی عوام الناس کا پیمانہ صرف دو چار برس کا ہوتا ہے، اس کے بعد سمندر شروع ہو جاتا ہے، اگر ایوب خان اپنے پانچ چھ سال مکمل کر کے اور منصفانہ انتخابات کروا کے چلے جاتے تو آج تاریخ ان کو اچھے نام سے یاد کرتی، یحیٰی خان نے بھی کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا۔ پھر بھٹو آیا، اس نے ایک ٹینور اچھی یا بری طرح گزار لیا تھا، پاکستان کو ایٹم بم دے دیا تھا، آئین بنا کر سامنے رکھ دیا تھا، بے شمار اصلاحات کر لی تھیں، اسے خود ہی چھٹی لے لینی چاہئے تھی مگر وہ بہت منہ زور باصلاحیت اور توانائی و خدمت کے جذبے سے مالامال تھا، اپنی موت کو دعوت دینے والا، وہ الیکشن سے پہلے خود امیدواری سے دستبردار ہو کر چلا جاتا تو آج اس سے بھی بڑا اور قوم کا متفقہ لیڈر کہلاتا۔ پھر انٹری دی ضیاءالحق نے، اس نے تو آ کر پچھلے سارے حکمرانوں کو بخشوا دیا، اس نے وہ بلیو پرنٹ تیار کیا جس پر جنرل مشرف نے حرف بہ حرف عمل شروع کر دیا تھا یعنی سیاستدانوں کے آکھے میں آ کر اقتدار سنبھالنا، پھر اپنے آپ کو متنازعہ ریفرنڈم کے ذریعے کامیاب کرانا، اس کے بعد اپنی منتخب کردہ اسمبلی سے اپنے آپ کو منتخب کرانا اور تاحیات صدر و حکمران رہنے کا عزم پالنا، اس کی آخری خواہش تو پوری ہوئی اور امریکہ نے اسے تاحیات صدر کی حیثیت سے ہی رخصت کر دیا، پھر بچہ جمورا سیاست کے گیارہ سال نابالغ سیاستدانوں کو ملے، جو ایک دوسرے کو پہلے دن سے سکیورٹی رسک قرار دے کر کبھی فوج کو ہلاتے رہے تو کبھی اٹھاون ٹو بی کو سلامیاں دیتے رہے، انہوں نے جی ایچ کیو کے باہر باقاعدہ چارپائیاں ڈال رکھی تھیں، ان کی قیادت ہر بار بابائے جمہوریت نامی ایک چیز کیا کرتے تھے۔ جنرل صاحب سنا تھا آپ کا آئی کیو بہت بڑا ہے مگر آپ اس گیم کو نہ سمجھ سکے اور پھنستے گئے، آپ نے یو ٹرن لے کر پاکستان کو عراق و افغانستان بننے سے بچا لیا، انتہا پسندوں سے بے غیرتی کا طعنہ سہہ لیا، معیشت کو سنبھالا دے کر خزانہ بھر دیا مگر قوم کا پیٹ خالی کر دیا، ان صاف، شفاف، ناقابل یقین، خوبصورت، پرامن انتخابات سے قبل اپنے اقتدار سے الگ ہونے کا اعلان کر دیتے تو سپر ہیرو بن جاتے، پاکستان میں کوئی تو ایسا مائی کا لال لیڈر پیدا ہوتا، نظر آتا جو رضاکارانہ طور پر اقتدار کو خیرباد کہہ گیا ہو مگر اے حضور یہ چیزیں کسی کے نصیب میں نہ تھیں نہ ہیں، سو آپ بھی اسی راستے پر رواں ہیں، الیکشن سے پہلے آپ کے پاس احترام کے سو آپشن تھے اب ایک بھی نہیں اور آپ بند گلی میں ہیں، نہ آپ اسمبلیاں توڑ سکتے ہیں، نہ حکمرانی کر سکتے ہیں، نہ امریکی پالیسی پر چل سکتے ہیں اور سچ یہ ہے کہ آپ پاکستان کو بھی نہیں بچا سکتے اس لئے اب چھوڑ کر جائیں تو بھی یہ لوگ آپ کو آرام سے جانے نہیں دیں گے، جو جیلیں آپ نے آج سے آٹھ دس برس پہلے کے لیڈروں کے لئے بنائی تھیں وہ آج ہیرو بن کر سامنے آ چکے ہیں۔ افسوس کہ یو آر رن آﺅٹ آف آپشنز، گریس فل ایگزٹ کے سارے راستے آپ نے خود ہی بند کر دئیے ہیں، اب آپ کی کرسی پر جناب آصف زرداری یا میاں نوازشریف آ کر بیٹھنے والے ہیں، ویٹ اینڈ سی اف یو کین، آج آپ سے اتنی ہی باتیں کرنی تھیں۔ ٭٭٭
|
|