اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Thu, 17 Apr 2008 12:52:00

الٹی گردش کا پیغام

الٹی گردش کا پیغام

 عباس اطہر
9مارچ 2007ءکو مشرف اور ان کے حامیوں کیلئے جو الٹی گردش شروع ہوئی تھی، وہ تھمی نہیں، تھمی کیا، الٹا اس کی رفتار تیز ہو گئی ہے۔
9 اپریل کے واقعے ہی کو لیجئے جب کراچی میں لگ بھگ چودہ پندرہ افراد کا قتل عام کیا گیا۔ یوں تو یہ سارا قتل عام ہی درد ناک تھا لیکن خاص طور سے اس کا وہ حصہ نہایت رونگٹے کھڑے کر دینے والا تھا جس میں دو عورتوں سمیت چھ انسانوں کو تالہ بند کرکے زندہ جلا دیا گیا۔ اب یہ کوئی راز نہیں رہا کہ یہ واقعہ موصوف سے براہ راست تعلق رکھتا تھا۔ اقتدار بچانے اور نئی حکومت کو ناکام بنانے کیلئے سوچ سمجھ کر ”کراچی“ کارڈ کا استعمال کیا گیا۔ یہ وہی کارڈ تھا جو پچھلے برس 12 مئی کو استعمال کیا گیا جس میں نصف صد کے قریب آدمیوں کو جانوروں سے بھی بدتر موت دی گئی اور ڈیڑھ سو کو بری طرح زخمی کیا گیا۔ 12 مئی کا واقعہ بھی ”کاﺅنٹر پروڈکٹو“ ثابت ہوا اور جب موصوف نے راولپنڈی کے جلسہ عام میں اس قتل عام کی تعریف کی اور اسے ”عوامی قوت“ کا مظاہرہ قرار دیا تو اس کا خوفناک ردعمل ہوا۔ جس سے موصوف اور ان کے حامی آج تک نہیں سنبھل سکے۔ 12 مئی کا یہ پھندا ابھی تک ان کی گردن میں پڑا ہے۔ اب یہ 9 اپریل کا واقعہ اتنے تباہ کن نتائج لے کر آیا کہ پارٹی کے قائد کو استعفٰی دینا پڑا اگرچہ یہ استعفٰی ایک گھنٹے ہی میں واپس ہو گیا لیکن اس سے یہ بات ظاہر ہو گئی کہ عوامی ردعمل کی آنچ سمندر پار تک پہنچی ہے۔
صدر نے اس واقعے کی بھی تائید کی اور اس طرح وہ دنیا کے ایسے پہلے سربراہ مملکت بن گئے جو اپنے ہی شہریوں کو زندہ جلانے کے واقعے کی ملفوف انداز میں سر عام تائید کرتا ہو۔ اس میں اچنبھے کی کوئی بات نہیں۔ انہوں نے لال مسجد میں سینکڑوں معصوم بچیوں کو بھی بڑے دھڑلے سے زندہ جلوایا تھا اور اس کے بعد ندامت کا ایک لفظ تک نہیں کہا تھا۔ اس بارے میں مزید کچھ کہنا بے کار ہے کہ ساری دنیا ان کا یہ روپ جان گئی ہے کہ وہ دوسروں کے آگے جھکتے اور اپنی قوم کو مکے دکھاتے ہی نہیں مارتے بھی ہیں۔ وزیرستان سے لے کر سوات تک اور ڈیرہ بگتی سے لے کر کراچی تک اس کی ان گنت گواہیاں موجود ہیں۔ بہرحال، تجزیہ نگاروں کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ 9 اپریل کے سانحے کے دو مقاصد تھے۔ ایک تو کراچی کارڈ کا استعمال جس کا مقصد یہ دکھانا تھا کہ اگر مجھے چھیڑنے کی کوشش کی گئی تو سندھ میں پیپلز پارٹی کا اقتدار کانٹوں کی نہیں، بارودی سرنگوں کی سیج بن جائے گا اور دوسرے یہ کہ ”میری جماعت“ کو اقتدار میں مناسب اور معقول حصہ دو۔ ظاہر ہے، آصف زرداری قومی مصالحت کیلئے کسی بھی قربانی کیلئے تیار ہیں لیکن میرا خیال ہے، وہ اس قسم کے ہتھکنڈوں کو جنہیں بآسانی بلیک میلنگ کہا جا سکتا ہے، خاطر میں نہیں لائیں گے۔ اس کے برعکس انہوں نے پولیس اور انتظامیہ میں انقلابی قسم کی تبدیلیاں کرکے جوابی پیغام بھی بھیج دیا۔ خاص طور پر سندھ میں نئے آئی جی کی تقرری پر تحفظات ظاہر کئے گئے تو مبینہ طور پر یہ جواب ملا کہ وہ تو ہمارے ہیرو ہیں۔
کراچی کا مسئلہ نئی حکومت کیلئے درد سر بنے گا لیکن اتنا نہیں جتنا کچھ لوگوں کا خیال ہے۔ بہتر ہے کہ قومی مفاہمت کا دائرہ سندھ میں بھی مکمل کیا جائے اور یہاں کی حکومت میں تمام طبقوں کی نمائندگی یقینی بنائی جائے لیکن یہ بات نہ بھولی جائے کہ مشرف کے حامی پچھلے آٹھ برسوں سے اقتدار میں ہیں اور اس عرصے میں کراچی امن کا مرکز بننے کے بجائے بدامنی، جرائم اور انسانی جانوں کے اتلاف کے بدترین مناظر پیش کرتا رہا۔ ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ تو کبھی تھما نہیں۔ شاید ہی کوئی دن ایسا گزرا ہو جب سنی تحریک،ایم کیو ایم حقیقی، جماعت اسلامی، اے این پی، پیپلز پارٹی یا کسی اور مشرف مخالف دھڑے کا کوئی نہ کوئی لیڈر یا کارکن قتل نہ کیا گیا ہو۔ سنی تحریک کا جلسہ ایک خوفناک دھماکے سے اڑا دیا گیا جس میں تحریک کی پوری قیادت ہی ماری گئی۔ پھر 12 مئی کا وہ سانحہ ہوا جس کی دھمک پوری دنیا میں سنی گئی اور وہ آج بھی حکمران طبقے کے ماتھے پر نہ مٹنے والے داغ کی طرح چمک رہا ہے۔ (یہاں ایک وضاحت ضروری ہے۔ حکمران طبقے سے مراد وہ لوگ ہیں جو آٹھ برسوں سے حکومت کر رہے ہیں اور اب بھی ”اوپر“ وہی موجود ہیں یہ وضاحت شاید اس لئے کرنا پڑ رہی ہے کہ پاکستان اپنی نوعیت کا پہلا ملک ہے جہاں دو دو حکومتیں ہیں۔ ایک حکومت ”اپوزیشن“ کی ہے جو وزیراعظم اور وزرائے اعلٰی کی شکل میں ہے، دوسری حکومت اس کے اوپر صدر، انکے گورنروں اور بعض دوسرے کارندوں کی شکل میں ہے)
ان آٹھ برسوں میں اس طبقے کو کراچی کے عوام میں وہ مقبولیت حاصل نہیں رہی جو کبھی اسکا طرہ امتیاز تھا۔ حالیہ الیکشن میں کراچی کی بیشتر سیٹوں سے جعلی اور بوگس ووٹنگ کی شکایات غیر معمولی حد تک زیادہ ہیں۔ مسلم لیگ کا الزام ہے کہ وہ سات آٹھ سیٹیں جیت رہی تھی لیکن یہ سیٹیں دھاندلی کے ذریعے اس سے چھین لی گئیں۔ پیپلز پارٹی نے بھی دو تین سیٹوں کی ”ڈکیتی“ کا شکوہ کیا۔ جماعت اسلامی جس نے پچھلے الیکشن میں کئی سیٹیں حاصل کی تھیں، اس مرتبہ بائیکاٹ پر تھی۔ کراچی کی صحیح صورتحال کیا ہے، اس کا اندازہ تو ”گن پوائنٹ کلچر“ کے ختم ہونے یا کم از کم کمزور ہونے پر ہی کیا جا سکتا ہے۔ بہرحال یہ طے ہے کہ خوف کے سائے کچھ نہ کچھ کم ہوئے ہیں جس کی مثال جماعت اسلامی کا مظاہرہ ہے۔ پچھلے پانچ برسوں میں وہ کوئی بھی قابل ذکر مظاہرہ نہیں کر سکی جس کی وجہ وہ یہ بتاتی رہی کہ کارکن خوف کی وجہ سے گھروں سے باہر نہیں نکلتے لیکن یہ مظاہرہ حیران کن حد تک بڑا تھا۔
بات الٹی گردش کے ذکر سے شروع ہوئی تھی۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ الٹی گردش جاری ہے لیکن مشرف اسے سمجھنے کے بجائے اڑ گئے ہیں۔ ممکن ہے وہ تھوڑا سا مزید وقت حاصل کر لیں لیکن اس سے وہ نئے جمہوری نظام کو نقصان پہنچانے اور اپنے لئے مسائل میں اضافے کے سوا کچھ حاصل نہیں کر سکیں گے۔ الٹی گردش کا پیغام بڑا واضح ہے رستے سے ہٹ جاﺅ۔ جو یہ پیغام نہیں سمجھتا، اسے ”انجام“ اچانک آ لیتا ہے۔ شاید مشرف کی قسمت میں یہی لکھا ہے کہ ”پیغام کو نہ سمجھیں اور ”انجام“ سے ہمکنار ہو کر رہیں۔


 










© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications
sponsors: air purifier