اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News

 
Thu, 17 Apr 2008 12:50:00

راجو بن گیا جنٹلمین

راجو بن گیا جنٹلمین

وجاہت علی عباسی
کرچی کی وہ شور مچاتی گرم دھوپ کے ڈھلتے دھبے سے اسی شام کا آ جانا جو روز ہمیں اس بات پر قائل کرتی کہ یہ شام اس شہر کا مزاج ہے سورج کا اتار چڑھاﺅ نہیں وہ سڑکوں پر بسوں میں لٹکتے گھر لوٹتے لوگ....گلیوں سے واپس جاتے ٹھیلے والے....بچوں کا میدان میں کرکٹ جلدی جلدی اس ڈر سے کھیلنا کہ شام جلدی نہ گزر جائے.... مٹھائی کی دکان کے باہر سموسے اور جلیبی خریدنے والوں کا گرم سموسے کا انتظار کرنا اور پنچھیوں کا اپنے اپنے گھر کی طرف لوٹ جانا.... کچھ اسی طرح میرا شہر روز اپنی شامیں مناتا۔
میں اور میرا دوست انصب روز شام اپنے محلے کی چھت پر جا کر بیٹھتے‘ وہ ہماری باتیں شاید کہیں بھی بیٹھ کر کی جا سکتی تھیں لیکن چھوٹی سی زندگی رکھنے والی اس شام کے ساتھ بھرپور وقت گزارنے کی چاہت صرف چھت پر بیٹھ کر پوری ہوتی۔ ہماری بلڈنگ سے تھوڑی دور مگر صاف نظر آنے والا قائداعظم کا مزار شام میں اور بھی حسین لگتا۔ شاید یہ محض اتفاق تھا مگر محلے کی چھت پر ہم کہیں بھی بیٹھ جائیں مجھے اور انصب کو ایسا لگتا جیسے قائداعظم کا مزار ہمارے ساتھ ساتھ ہے۔ ہم دونوں روز شام کئی کئی گھنٹے قائداعظم کے مزار کے ساتھ تکون بنائے بیٹھے باتیں کرتے۔
کہتے ہیں کہ انسان اپنی محبت سے جانا جاتا ہے اور ہماری محبت اس شخص کی تھی جو دنیا کے سب سے عظیم انسانوں میں سے ایک تھا۔ ہم بہت باتیں کرتے تھے‘ قصے کہانیاں‘ ہنستے مسکراتے۔ سب چلتا لیکن پھر ہم پر محبت کا اثر ہونے لگا‘ ہماری سوچ کا جھکاﺅ ”میں“ سے ”ہم“ اور پھر ”ہمارے“ میں بدل گیا.... ہمارا پاکستان....ہم پاکستان کے لیے ضرور کچھ کریں گے۔ ہر دوسرے دن ہمیں کسی بھی دوسری بات سے زیادہ مزہ آتا‘ یہ بات کرنے میں کہ پاکستان اور پاکستانیوں کے لیے ہم کیا کیا کر سکتے ہیں۔ وہ شامیں جو ہماری عمر کے کئی نوجوان سمندر کے کنارے جاتے یا اپنے دوستوں کے ساتھ گاڑیوں میں گھومنا پسند کرتے میں اور انصب چھت کی زمین پہ بیٹھ کر ہوا میں اڑنے کا ارادہ کرتے۔
وہ شام مجھے آج بھی یاد ہے جب میں کئی سال پہلے محلے کی چھت پر آخری بار گیا تھا‘ میں امریکہ جا رہا تھا آنے والی صبح میرے لیے ایک نئی زندگی لا رہی تھی وہ آخری شام کے ڈھلتے میں نے قائداعظم کے مزار کو دیکھتے دل ہی دل میں ایک وعدہ کیا کہ آپ کا یہ بیٹا کبھی اپنی محبت نہیں بدلے گا جہاں بھی جاﺅں گا میں پاکستانی ہی رہوں گا اور اب اس چھت پر تب واپس آﺅں گا جب میں اپنی اس بات کوصحیح ثابت کر سکوں‘ اس چھت پر میرے دوست محبت ہی نہیں میری عادت بھی تھے وہاں سے آنا مشکل تھا لیکن میں رویا نہیں روتے وہ ہیں جو کچھ کھو دیتے ہیں اور میں وہاں سے بہت کچھ پا کے جا رہا تھا۔
پچھلے ہفتے میری کتاب ”انداز بیاں اور“ کا افتتاح نیویارک میں ہوا سب سے پہلے انصب اسٹیج پہ بولنے کے لیے آیا اور اس نے شروع کیا یہ کہتے کہ ”ہم کراچی میں چھت پر بیٹھا کرتے تھے“ میں مسکرا دیا‘ لگا کہ زندگی اتنی زیادہ بدلنے کے باوجود ہم کامیاب ہوگئے اپنی محبت نہ بدلنے میں‘ میرے سامنے نیویارک کا اردو کا ہر بڑا ادیب‘ دانشور‘ شاعر اور اہم انسان بیٹھا تھا کئی ایسے لوگ جنہیں میں نے درجنوں تقریبوں میں بولتے سنا‘ جن سے میں نے بہت کچھ سیکھا آج میرے لیے اسٹیج پر کھڑے بول رہے تھے۔
میں ان سب لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے مجھے میرا پہلا قدم آگے بڑھانے میں مدد کی ایک چھوٹے سے بچے کو اگر اتنے سارے مضبوط لوگوں نے ایک ساتھ تھاما ہوا ہو تو وہ کیسے گر سکتا ہے؟ میں نیویارک آ کر اکیلا کچھ نہیں کر پاتا اگر وہ سب لوگ نہیں ہوتے جو اس دن اپنی اپنی تقریر میں میری کامیابی کا سہرا صرف مجھے دے رہے تھے ۔میں زندگی کی کامیابیوں میں چاہے جتنا بھی آگے نکل جاﺅں لیکن وہ لوگ جو میری پہلی کتاب کی تقریب میں موجود تھے میرے آگے بڑھتے ہر قدم کے ذمے دار ہوں گے۔
پوری دنیا کے سبھی اردو اخباروں اور WEB SITE پر میری کتاب کی جتنی بھی کوریج آئی ہے میں اپنے پاس ضرور محفوظ کرکے رکھوں گا کیونکہ اس بار میں کراچی جاﺅں گا تو ضرور اپنے پرانے محلے کی چھت پر یہ چیزیں لیکر جاﺅں گا اور قائداعظم کے مزار کے سامنے وہ سب پڑھ کر سناﺅں گا‘ میں بتاﺅں گا کہ امریکہ میں رہنے والے پاکستانیوں نے کیسے مجھے قدم قدم چلنا سکھایا اور یہاں تک پہنچایا کہ میں ایک نام ”وجاہت“ سے آج پوری کتاب ہوگیا‘ میرے کئی سال پہلے دیکھے خواب کو سچ کرنے کا آپ سب کا شکریہ‘ پچھلی بار میں چھت سے اکیلا اترا تھا مگر اب میرے ساتھ ہزاروں لوگوں کا پیار ہے اس بار چھت سے نیچے اترتے چاہے میں جتنا بھی اونچا ارادہ کیوں نہ کر لوں میں جانتا ہوں کہ امریکہ کی پاکستانی کمیونٹی مجھے کبھی ہارنے نہیں دے گی۔


 











 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: custom lanyards | rubber bracelets | custom wristbands | air purifier