اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Thu, 17 Apr 2008 00:19:00

نوازنا اپنے پیاروں کا.... کھوٹے سکے بھی بھلا کسی کے کام آئے ہیں؟

نوازنا اپنے پیاروں کا.... کھوٹے سکے بھی بھلا کسی کے کام آئے ہیں؟
باتیں عقل سلیم کی
ملک سلیم اکبر
9 اپریل کو منظرعام پر آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ نے پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں تک براہ راست رسائی حاصل کرنے کیلئے اسلام آباد کے امریکی سفارت خانے میں مستقل بنیادوں پر ایک امریکی اہلکار کی تعیناتی کا حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے۔ اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کی ترجمان ELIZBETH CARLTON نے رابطہ کرنے پر اس امریکی تجویز پر ”ہاں یا ناں“ میں جواب دینے کے بجائے کہا کہ سفارتی مذاکرات اور سفارتی ASSIGNMENT کے بارے میں عوامی سطح پر تفصیلی تبصرہ یا تبادلہ خیال نہیں کیا جاتا۔ وہ لوگ جو نئی حکومت پر واشنگٹن کی قائم کردہ پالیسیوں ہی پر چلنے کا الزام لگا رہے ہیں ہمیں ذاتی طور پر ان سے شدید اختلاف یوں ہے کہ ہمارے نزدیک پاکستان میں ہونے والی ہر برائی کا الزام امریکہ پر لگا کر اپنی ذمہ داریوں سے خود کو آزاد کر لینے کی کوشش کرتے ہیں یہ ہماری اجتماعی خرابیاں ہیں کہ ہم نے ایک عادت سی بنا لی ہے کہ ہر اچھے کام کا کریڈٹ ہمارے حکمران خود لیتے ہیں اور ہر برے کام کا الزام ہم امریکہ پر ڈال دیتے ہیں۔ امریکہ دنیا کی سپر پاور ہے امریکہ کے ہر خطے میں اپنے مفادات ہیں جس کی نگرانی جس کا تحفظ امریکہ نے کرنے کیلئے خارجہ پالیسیاں بنائی ہوتی ہیں امریکہ میں یہ پالیسیاں کوئی صدر یا حکومت نہیں بناتی بلکہ برسوں سے یہ پالیسیاں تھنک ٹینک بناتے ہیں امریکی صدر اور برسر اقتدار امریکی حکومت کی یہ ڈیوٹی ہوتی ہے کہ وہ امریکی مفادات کے حصول کیلئے بنائی گئی پالیسیوں پر BY HOOK OR BY CROOK عملدرآمد کروائیں گویا دوسرے معاملات کی طرح خارجہ پالیس کے معاملے میں بھی امریکی NATIONALIST محب الوطن اور PATRIOT اور قوم پرست ہوتے ہیں جبکہ پاکستان میں جو شخص بھی پاکستان کا حکمران ہوتا ہے وہ اپنی حکمرانی قائم رکھنے کیلئے پاکستانی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر ذاتی مفادات کو طول دینے کیلئے ہر کام کرنے پر تیار رہتا ہے لہٰذا ہمیں اپنے حکمرانوں کا سختی کے ساتھ محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ 18 فروری کو عوام نے مشرف دہلوی کی پالیسیوں کو مسترد کرتے ہوئے زرداری اور نوازشریف کی توقعات سے بھی بڑھ کر سیٹیں ان کی جھولی میں ڈال دیں عوام کو امید تھی کہ اب پرانا نظام بدلے گا نئے لوگ آئیں گے۔ نئی پالیسیاں ہوں گی بیوقوف عوام سمجھ رہے تھے کہ ووٹ کے ذریعے انہوں نے پاکستان میں انقلاب برپا کر دیا ہے ایک نیا سیاسی انقلاب اور ایک نیا جمہوری انقلاب.... دو مہینے گزر چکے ہیں غریب عوام کی قسمت نہیں بدلی۔ نئے حکمرانوں نے بھی اپنی روش نہیں بدلی۔ وزیراعظم گیلانی کے اپنے علاقے ملتان میں نہ بجلی ہے نہ آٹا.... ہزاروں افراد جنہوں نے گیلانی صاحب کے وزیراعظم بننے پر مٹھائیاں بانٹی تھیں ان ہزاروں افراد نے لوڈ شیڈنگ اور مہنگائی کے خلاف احتجاج بھی کیا توڑ پھوڑ بھی کی اور آگ بھی لگائی اور پولیس کے ہاتھوں غریب عوام بھی اندر ہوئے۔ لاہور کے 7-up ریلوے پھاٹک پر ایک ماں دو چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ غربت سے تنگ آ کر حکمرانوں کو دعائیں دیتی ہوئی خودکشی کر گئی۔ حکمران عیش کرتے رہے، وہی پرانی پالیسیاں جاری ہیں۔ کراچی میں 6 وکیلوں کو اس انداز سے زندہ جلا دیا گیا کہ لال مسجد کی یاد تازہ ہو گئی نہ مشرف دہلوی کو دکھ ہوا نہ ہی وزیراعظم گیلانی نے افسوس کا اظہار کیا نہ ہی زرداری نے کسی کی اشک جوئی کی ٹیلی ویژن پر PPP اور MQM کی مفاہمت کی جنگ البتہ جاری رہے کوئی مرے یا جئے زندہ رہے یا زندہ جلے سیاستدان لاشوں کی سیاست سے کب باز آئیں گے؟ کسی زمانے میں 313 افراد کو ملازمتوں سے نکالا گیا تھا تو پاکستان میں کہرام مچ گیا تھا اس سے اگلے دور میں بات سینکڑوں سے بڑھ کر ہزار تک پہنچے گی اب نئی حکومت نے تو لوگوں کی ملازمت اور روزی چھیننے کی ابتدا ہی ساڑھے تین ہزار لوگوں سے کی ہے اور مزید لوگوں کو ملازمت سے نکالنے کیلئے لسٹ تیار ہو رہی ہے، آپ ہمیں 718-692-0707 پر دوپہر بارہ سے شام سات بجے تک فون کر کے پاک یو ایس ٹریول ایٹ G میل ڈاٹ کام پر ای میل کر کے بتائیں کہ اپنے سیاسی پیاروں کو نوازنے کا سلسلہ کب ختم ہو گا۔ کیا ملازمتیں، ترقیاں اور تقرریاں صرف اور صرف میرٹ اور اہلیت پر نہیں ہو سکتیں زرداری اور شہباز شریف چن چن کر نہیں بلکہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر اپنے پیاروں کو اہم ترین پوسٹوں اہم ترین ملازمتوں پر رکھ رہے ہیں جس قدر جلد بازی سے تمام اہم ترین عہدوں پر اپنے لوگوں کو FIT کیا جا رہا ہے ناپسندیدہ لوگوں کا حقہ پانی بند کیا جا رہا ہے جسے سرکاری زبان میں ”کالاپانی“ بھیجنے کی سزا کہا جاتا ہے۔ ساڑھے تین ہزار افراد جن کو نکالا گیا ہے، ان کے ہزاروں کی تعداد میں بال بچے حیران ہوں گے کہ انہیں کس بات کی سزا دی گئی ہے ہمارے ہاں تو تمام بیورو کریٹ اور اسٹیبلشمنٹ کے ملازم حکومت وقت ہی کی مدح سرائی کرنے میں ملازمت گزار دیتے ہیں پھر ان کے بچوں کا بھلا کیا قصور ہے کب ہم قائداعظم کے پاکستان کے وسائل کی لوٹ کھسوٹ کے بجائے پاکستان کے وسائل پاکستان کے خزانے کو بھرنے کا آغاز کریں گے ایسا لگتا ہے کہ زرداری اور نواز و شہباز شریف کے اردگرد بھی چرب زبان مشیران کی فوج ظفر موج جمع ہو چکی ہے وہی جو کل مشرف کے گرد جمع تھے جب وہ ان کے نہ ہو سکے تو آج آپ کے وہ کیسے بن سکیں گے وہ تو بقول قائداعظم کھوٹے سکے ہیں جو کسی کے بھی کام کے نہیں....
پاکستان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد








  کھیل

 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications