اور پھر بیاں اپنا .... قمر علی عباسی
ہم امروہہ میں پیدا ہوئے تھے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب بچہ پیدا ہو کر پہلی بار روتا ہے ردیف قافیے کا خیال رکھتا ہے۔ یہ صحیح ہو یہ نہ ہو لیکن ایک بات ضرور ہے کہ امروہہ کے پانی میں شاعری، افسانہ نگاری اور ادب کے جراثیم بہتات میں ہوتے ہیں۔ دروغ بر گردن راوی مشہور ہے جو اس علاقے سے ایک بار گزر جائے برسوں ”مرضِ ادبی“ میں مبتلا رہتا ہے۔
امروہہ آم اور روہو مچھلی سے مل کر بنا ہے۔ ایک چھوٹا سا قصبہ ہے دہلی سے 50 میل دور اور مراد آباد سے 19 میل کے فاصلے پر اس شہر میں لوگ کم اور شاعر زیادہ ہوتے ہیں۔ یہ باغوں، کھیتوں اور سوت ندی کا علاقہ ہے۔ ہمیں اس شہر میں پیدا ہونے کا اعزاز ہے۔ نجانے ہمیں پہلی مرتبہ ہاتھ میں لینے والی دایہ گنگنا رہی تھی یا افسانوی زبان بول رہی تھی ممکن ہے گھٹی میں قلم کی نوک ڈال دی ہو۔ کچھ بھی ہو جب ہوش آیا اپنے چارں طرف لوگوں کو پڑھتے لکھتے اور لفظوں کو اکٹھا کرتے دیکھا۔ پھر نجانے کب ہوا، کیسے ہوا، ہم نے بھی قلم ہاتھ میں لیا، نہ کسی بزرگ کو لکھ کر دکھایا نہ اسے اس قابل سمجھا کہ کوئی دوسرا پڑھے لیکن قدرت کا اصول ہے جب پھول کھلتے ہیں ،بارش ہوتی ہے، پرندے ایک ڈار بنا کر اڑتے ہیں تو نظر آتے ہیں۔
ہمارے والد نے پاکستان کو قبول کیا اور اپنے محکمے کی طرف سے نئے ملک میں آگئے۔ ماحول بدل گیا۔ عبداللطیف بزرگ امروہہ کے مکانوں گلی کوچوں میں رہ گئے لیکن جتنا امروہہ کا پانی پیا تھا اپنے سینے میں اس کی ہوا داخل کی تھی وہ رہ گئی۔ ہمارا خاندان سندھ میں آکر بسا۔ یہ روایتوں کی، ثقافتوں کی اور شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کی شاعری کی وادی ہے۔ ہم اس ماحول میں سانس لینے لگے اور پھر امروہہ کا پانی بزرگوں کا ورثہ ہمیں مل گیا۔ 55 سال پہلے ہم نے لفظوں کو اکٹھا کرنا شروع کیا، جانے ان میں تاثیر تھی، کشش تھی یا صرف لفظ تھے یہ کبھی نہیں سوچا۔
زندگی سفر کا نام ہے۔ ہندوستان سے پاکستان اور پھر کولمبس کے دریافت کئے ہوئے ملک امریکہ آگئے۔ یہ سرزمین خوش نصیبی اور کامیابی کی کلید سمجھی جاتی ہے۔ یہاں آکر لوگ معاشی سرگرمیوں میں ڈوب جاتے ہیں اور جب سر باہر نکالتے ہیں تو زمانہ بدل چکا ہوتا ہے۔ وہ بچے جو اپنے ساتھ اپنی زبان بولتے ہوئے لاتے ہیں صرف انگریزی بولنے لگتے ہیں، یہ حالات اور وقت کا تقاضا ہے۔
ہم اپنے خاندان، اپنے بزرگوں سے کبھی شرمندہ نہیں ہوئے، ان کے راستے پر چلے ان کی روایات برقرار رکھیں، وہ جس بات پر فخر کرتے تھے ہم نے اسے آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ ہم ددھیال، ننھیال اس بات پر ناز کرتے تھے کہ ان کے خاندان کے لوگ ادب میں دور تک جاتے ہیں۔ ہم نے اس راستے پر چلنے کی کوشش کی۔ دل میں ایک دبی دبی خواہش تھی کیا ہمارے خاندان کی صدیوں پرانی روایات ہمارے ساتھ سو جائیں گی؟ ہماری بڑی بیٹی ثوبیہ نے انگریزی میں لکھنا شروع کیا اور یہ سلسلہ ٹوٹ ٹوٹ کر جاری رہا لیکن یہ سب کچھ اس زبان میں تھا جس سے ہمارے بزرگ کبھی خوش نہیں تھے۔ چھوٹی بیٹی ماریہ نے بھی انگریزی میں لکھا۔
ایک دن ہم نے اپنے بیٹے وجاہت علی عباسی سے کہا ہماری ایک خواہش ہے تم اس راستے کو بند نہیں ہونے دینا جس پر ہمارے بزرگوں نے صدیوں کا سفر کیا ہے۔ ہمارا خیال تھا دنیا میں ہر خواہش پوری نہیں ہوتی۔ کتنے ایسے پھول ہیں جو ان دیکھی وادیوں میں کھل کر وہیں زندگی بِتا دیتے ہیں ان کا رنگ او ر مہک کوئی نہیں دیکھتا۔
جب اللہ مہربان ہو، روشنی پھیلانا چاہے تو خواہشیں حقیقت بن جاتی ہیں۔ ہمارے بیٹے نے ایک کالم لکھا۔ ہم نے حیران ہو کر پڑھا اور اس کے ہر لفظ سے احساس ہوا کہ اس کے جسم میں امروہہ دوڑ رہا ہے۔ خاندان کے بزرگوں کی روایات اور ان کے قلم کی روشنائی گردش کر رہی ہے۔ ہم حیران تھے لفظوں کی تتلیاں مشکل سے ہاتھ آتی ہیں، لفظ کب قابو میں آتے ہیں۔ ہوا میں اڑتے پرندے اس طرح گرفت میں نہیں آتے لیکن وجاہت علی عباسی کا ہر لفظ اور ہر جملہ کہہ رہا تھا ”میں آپ کا بیٹا ہوں، امروہے کا بیٹا ہوں اور اپنے بزرگوں کا جانشیں ہوں“۔
سیاستدان کا بیٹا کسی کوشش کے بغیر رہنما بن جاتا ہے، جاگیردار کا فرزند پیدا ہوتے ہی جاگیردار بن جاتا ہے لیکن لفظوں کو جمع کرنے والا، انہیں اپنے جذبات و احساسات سے بھرنے والا بننا ایک مشکل کا ہے۔ کسی شاعر کا بیٹا وراثت میں شاعری حاصل نہیں کر سکتا، کسی افسانہ نگار کے بیٹے کو جائیداد میں باپ کا قلم نہیں مل سکتا۔ یہ ایک مشکل مرحلہ ہے اور صرف جب اللہ چاہتا ہے تو علم و آگہی دیتا ہے۔ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہمارے خاندان اور گھر سے ایک چراغ روشن ہوا ہے۔
زندگی میں کچھ ایسے دن ہوتے ہیں جو ہمیشہ تروتازہ اور مہکتے رہتے ہیں۔ 5 اپریل 2008ءکا دن ہمارے لئے بہت اہم ہے۔ ہمارے بیٹے وجاہت علی عباسی کے کالموں کے مجموعے ”انداز بیاں اور“ کی تقریب پذیرائی تھی۔ ہمیں اس تقریب میں آنےوالے سب لوگ بہت اچھے لگے جنہوں نے تقریریں کیں، کتاب خریدی۔ وہ ہمارے دل میں آئے اور ہمارے ہو گئے۔ ہم اس موقع پر صرف ایک ہی بات کہہ سکتے ہیں ہمارے بیٹے وجاہت علی عباسی کا واقعی ”انداز بیاں اور ہے“۔