اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Thu, 17 Apr 2008 00:17:00

این آر او .... دنیا کا پہلا واقعہ

این آر او .... دنیا کا پہلا واقعہ

(عبدالقادر حسن)
سیاسی مفاہمت اور مصالحت کے نام پر وطن عزیز میں ایک ایسا حادثہ ہوا جس کی دنیا کے کسی بھی ملک میں مثال نہیں مل سکتی۔ ہوا یوں کہ مرحومہ بے نظیر صاحبہ اور ان کے شوہر جناب آصف علی زرداری پر حکومت پاکستان نے ملک کے اندر اور باہر مقدمات دائر کئے کہ انہوں نے پاکستان سے اپنی حکومت کے دوران اربوں ڈالر ناجائز طور پر کمائے اور انہیں بیرون ملک بینکوں میں جمع کرادیا۔ بیرون ملک جائیداد خریدی اور ان کی قیمت پاکستان میں کمائی ہوئی دولت سے ادا کی۔ اس طرح یہ میاں بیوی بدعنوانی اور کرپشن کے مرتکب ہوئے اس لئے ان کی یہ ناجائز دولت پاکستان کو واپس کی جائے۔ سوئٹزرلینڈ، برطانیہ اور بعض دوسرے ملکوں میں ایسے مقدمات دائر کئے گئے۔ ”نیب“ کے ادارے نے یہ مقدمات دائر کئے اور ان کی پیروی کی۔ یہ مقدمات اتنے درست، قانونی اور بین الاقوامی روایات کے مطابق تھے کہ مذکورہ دونوں افراد کا بچ نکلنا ممکن نہ تھا۔ دوسری طرف بے نظیر کی پارٹی پاکستان کی مقبول ترین پارٹی سمجھی گئی اور جب یہ سوال پیدا ہوا کہ جنرل مشرف کو سیاسی امداد کی ضرورت ہے تو جنرل کے سرپرست امریکہ کی نظر پیپلز پارٹی پر آپڑی۔ یہاں سے مفاہمت اور مصالحت کا آغاز ہوا۔ سیاسی مدد کے عوض بے نظیر بھٹو کے کئی سیاسی مطالبات تھے جن میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات، آزاد عدلیہ وغیرہ شامل تھے لیکن ان کا اصل مطالبہ جس پر وہ زور دیتی رہیں، وہ ان تمام مقدمات کی واپسی تھی جو ملک کے اندر اور باہر ان کے خلاف درج کرائے گئے تھے۔ چنانچہ ملک کے باہر پرویز مشرف اور بے نظیر بھٹو کے درمیان کئی ملاقاتیں ہوئیں اور دونوں کے نمائندوں نے ملکر تفصیلات طے کیں جن میں پرویز مشرف کا یہ مطالبہ تھا کہ وہ اپنے منصب پر برقرار رہیں گے اور نئی منتخب حکومت ان کے ساتھ کام کریگی۔ اس بات کا اعلان بے نظیر نے بھی کیا اور آصف علی زرداری صاحب نے بھی۔ یہ اعلان ملک کے باہر اور ملک کے اندر بھی کیا گیا لیکن سیاستدان جوڑے نے دبی زبان میں یہ اعلان کیا اور اسے دہرایا نہیں۔ تمام معاملات طے ہونے کے بعد صدر پرویز مشرف نے ایک آرڈیننس جاری کیا جسے قومی مفاہمتی آرڈیننس کا نام دیا گیا۔ اس کے تحت مقدمات واپس لے لینے کا اعلان ہوا اور اس پر تیزی کے ساتھ عملدرآمد شروع ہوگیا۔ اس آرڈیننس سے نہ صرف یہ سیاسی جوڑا مستفید ہوا بلکہ پاکستان کے کئی بڑے افسر جو لوٹ مار کرکے ملک سے بھاگ گئے تھے وہ بھی فائدے میں رہے اور اب تک کسی نہ کسی دن کوئی خبر آجاتی ہے کہ فلاں افسر کے خلاف اس آرڈیننس کے تحت کارروائی واپس لے لی گئی ہے۔
اب غور فرمائیے کہ جو پاکستانی اس ملک کے اربوں ڈالر اور روپے غبن کرکے یا لوٹ کر لے گئے، رشوت، بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے مال بناتے رہے، وہ سارا مال جو سو فیصد اس قوم کا تھا، اس آرڈیننس کے ذریعے معاف کردیا گیا۔ بے نظیر بھٹو پر ڈیڑھ ارب ڈالر کے مقدمات تھے۔ بیرونی عدالتوں نے بار بار کہا کہ یہ تمام رقم پاکستان کی ملکیت ہے اور یہ پاکستان کے سپرد کردی جائے گی۔ اس میں کوئی شک و شبہ نہ تھا کہ پاکستان سے اربوں ڈالر لوٹے گئے اور اس کا سب سے بڑا ثبوت ملزموں کا اعتراف ہے جنہوں نے اپنے خلاف مقدمات واپس لینے کا مطالبہ کیا، یعنی انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ ان کے پاس یہ دولت پاکستان کی ہے لیکن انہیں معاف کردی جائے۔ اس کے عوض پاکستان کے عوام کو تو ایک پھوٹی کوڑی بھی نہ ملی البتہ حکمران کو صدارت کے منصب پر قائم رہنے کا موقع مل گیا، یعنی یہ صدارت اربہا ڈالر کے عوض خریدی گئی مگر اس کی قیمت کسی صدر نے نہیں پاکستانی عوام نے ادا کی جو غربت کی آخری لکیر سے نیچے جاچکے ہیں۔
یہ حادثہ سب کے سامنے ہوا لیکن پاکستانی سیاستدانوں نے اوّل تو اس کا ذکر ہی نہیں کیا اگر کیا تو سرسری انداز میں اور دبی دبی زبان میں۔ اسی حالت میں بے نظیر واپس پاکستان آگئیں۔ الیکشن ہوگئے، اگرچہ وہ تو اپنی شہادت کی وجہ سے ان میں حصہ نہ لے سکیں لیکن ان کے شوہر کی سربراہی میں ان کی پارٹی الیکشن جیت گئی اور اب اس نے ایک دوسری پارٹی مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ملکر وفاق میں حکومت بنالی ہے۔ پیپلز پارٹی نے اعلان کردیا ہے کہ پرویز مشرف نہ صرف اسے قبول ہیں بلکہ وہ اس ملک کا ایک قیمتی اثاثہ بھی ہیں جن کے ذریعے وہ بیرونی ممالک سے بہت کچھ حاصل کرسکتے ہیں۔ یہ پارٹی پرویز مشرف کو برحق صدر مانتی ہے۔ کھلے دل کے ساتھ اس سے حلف لیتی ہے اور بیرونی دوروں میں اس کے ساتھ اپنے وزراءکو بھیج رہی ہے۔ اس کی حلیف پارٹی مسلم لیگ (ن) کا مو¿قف اور عمل اس سے مختلف ہے اس لئے اندیشہ ہے کہ یہ اتحاد زیادہ دیر نہیں چلے گا لیکن اصل حیران کن اور شرمناک معاملہ یہ آرڈیننس ہے جس کے ذریعے پاکستان کی چرائی گئی دولت حلال اور جائز قرار دیدی گئی ہے۔ جس ملک کے حکمران ایسی دولت کی معافی دینے والے اور پھر اسے ہضم کرلینے والے ہوں اس کے مستقبل کا اندازہ لگانا کچھ زیادہ مشکل نہیں ہے۔

 









  کھیل

 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications