(منو بھائی)
قومی زندگی کے 60 سالوں میں اپنے کھلواڑ جاری رکھنے اور دھوکہ، فریب، مکر اور جھوٹ کا کاروبار کرنے والوں پر واضح ہوجانا چاہئے تھا کہ اصل ضرورت لوگوں کے بنیادی اور اصل مسائل حل کرنے کی ہے اور لوگوں کی توجہ ان کے اصل اور بنیادی مسائل کی طرف سے ہٹانا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے اسی لئے تو کہا گیا تھا کہ سرمایہ داری نظام کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ امیروں کی طرح غریبوں کو بھی دن میں دو مرتبہ بھوک لگتی ہے اور بھوک بڑھ جائے تو ناقابل برداشت ہوجاتی ہے۔ آج ہی کے اخبارات میں ہے کہ بھوک کے سامنے ایک ماں کی مامتا ہار گئی اور اپنے بچوں کو بھوک سے بلکتا دیکھنے اور سننے کے عمل کو برداشت نہ کرتے ہوئے بشریٰ اپنے پانچ سالہ بیٹے زبیر اور چار سالہ بیٹی صائمہ کو لیکر ریل کی پٹڑی پر ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی۔
ہمارے وطن عزیز کی سابقہ حکمران سیاسی جماعت قائداعظم گروپ کی 2008ءکے عام انتخابات میں شرمناک شکست کی اگر سب سے بڑی وجہ نہیں تو ایک بڑی وجہ بلاشبہ گندم کے آٹے کی مہنگائی اور نایابی تھی اور اس مہنگائی اور نایابی کی سب سے بڑی وجہ ہمارے حکمران طبقے کی ہوس زر ہے جس کے تحت لوگوں کی بنیادی ضرورت کی سمگلنگ کی گئی اور اس سمگلنگ کے پیچھے یہ خوفناک جھوٹ کام کررہا تھا کہ سال 2007ءمیں گندم کی پیداوار نے گزشتہ تمام قومی ریکارڈ توڑ دئیے ہیں اور کم از کم پانچ لاکھ ٹن گندم ہماری قومی ضرورت سے زیادہ ہے جو ایکسپورٹ کی جاسکتی ہے۔ اس خوفناک جھوٹ کے تحت پاکستان کے سمگلروں نے جی کھول کر گندم کی سمگلنگ کی اور یہ سمگلنگ اس جھوٹ کے ایکسپوز ہوجانے کے بعد بھی جاری رہی۔
پاکستان کے منصوبہ بندی کمیشن کے خوراک اور زراعت کے رکن ڈاکٹر کوثر عبد اللہ ملک کا کہنا ہے کہ نئی حکومت پاکستان کو گندم کی پیداوار میں اضافے پر خصوصی توجہ دینا پڑے گی اور خاص طور پر یہ اطمینان حاصل کرنا ہوگا کہ گندم کے زیرکاشت علاقوں میں دیگر نقد آور فصلوں کی کاشت نہیں ہورہی۔ سابقہ حکمرانوں نے اس اہم مسئلہ کی جانب توجہ نہیں دی اور اس کے باوجود کہ پاکستان کے منصوبہ بندی کمیشن نے پنجاب اور سندھ میں چینی کے نئے کارخانوں کے لائسنس جاری کرنے کی سرتوڑ مخالفت کی تھی۔ سابق وزیر خوراک و زراعت سکندر بوسن نے یہ لائسنس جاری کردئیے تھے جن کی وجہ سے گندم کے زیرکاشت علاقوں میں گنے کی کاشت شروع ہوگئی تھی۔ بالآخر صدر پرویز مشرف پر دباﺅ ڈالا گیا کہ وہ ملک اور قوم کے بہترین مفاد میں مداخلت کریں۔
گندم پاکستان کے لوگوں کی بنیادی خوراک کا لازمی حصہ ہے اور ملک کے قابل کاشت رقبے میں سے 83 لاکھ ہیکٹر رقبے میں کاشت کی جاتی ہے جو کہ مجموعی قابل کاشت رقبے کا 36 فیصد ہے۔ گندم کی پیداوار کا پاکستان کی مجموعی کاشت میں 40 فیصد سے زیادہ حصہ ہے جبکہ کپاس کی مجموعی کاشت میں پوزیشن 28 فیصد کی ہے۔ چاول کا حصہ 15 فیصد اور گنے کا 10 فیصد ہے۔
سابق سیکرٹری خوراک اور سابق چیئرمین پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل ڈاکٹر ظفر الطاف نے مشورہ دیا ہے کہ نئی حکومت کو ”زراعتی مافیا“ کی گردن توڑنے پر فوری توجہ دینی چاہئے۔ ان کے مطابق ”زراعتی مافیا“ نے ملک کے زرعی شعبے کو تقریباً مکمل طور پر تباہ کردیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ فوجی حکمرانوں کی نگرانی میں فوجی فاﺅنڈیشن کھاد کو انتہائی مہنگے داموں فروخت کررہی تھی جبکہ اسے گیس اور دیگر سہولتیں بہت ہی ارزاں نرخوں پر فراہم کی جا رہی تھیں۔ ملک میں نام نہاد ”گرین انقلاب“ کے بعد ضروری تھا کہ ”Genomic“ انقلاب کی طرف توجہ دی جاتی اور مٹی کی پیداواری صلاحیت میں اضافے کے جدید طریقوں کو بروئے کار لایا جاتا مگر نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں نے اپنی زیرکاشت اور قابل کاشت اراضی کی پیداواری صلاحیت اور پیداوار میں اضافے کی طرف توجہ نہیں دی جبکہ ان دونوں شعبوں میں دونوں ملک کی آبادی میں اضافے کی شرح سے دوگنی شرح سے اضافہ ہونا چاہئے تھا۔ ڈاکٹر ظفر الطاف کا اندازہ ہے کہ اس سال پاکستان میں گندم کی پیداوار ایک کروڑ 70 لاکھ ٹن اور ایک کروڑ 75 لاکھ ٹن سے زیادہ نہیں ہوگی جبکہ بارانی علاقوں میں پیداوار مایوس کن حد تک کم ہے۔ شوکت عزیز کی حکومت کے آخری سال کی غلط بیانی یہ تھی کہ سال 2007ءمیں 2کروڑ 35 لاکھ 20 ہزار ٹن گندم پیدا ہوئی جو گزشتہ ریکارڈ پیداوار (2000ئ) سے 17 لاکھ ٹن زیادہ ہے۔ دراصل یہ پیداوار سرکاری اندازوں سے بہت ہی کمی تھی۔ اس کے باوجود شوکت عزیز حکومت نے نام نہاد فالتو پیداوار ان لوگوں کو ان ملکوں میں ایکسپورٹ کردی جہاں سے یہ گندم ان لوگوں اور ان ملکوں سے پہلے سے دوگنے تگنے بھاﺅ زیادہ پر امپورٹ کی گئی اور یوں لاکھوں کروڑوں ڈالر کمائے گئے۔ گزشتہ سال بینکنگ کے شعبہ نے زرعی قرضوں کی شکل میں 300 ارب روپے کاشتکاروں میں تقسیم کرنے کیلئے رکھے تھے مگر ان میں سے آدھے سے کچھ زیادہ 168 ارب روپے کے قرضے جاری کئے گئے۔ سب سے زیادہ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ 9 ”سنہری سالوں“ کے دوران حکومت اور حکمرانوں کی سب سے زیادہ توجہ سٹاک مارکیٹ اور زمینی جائیداد، رہائشی پلاٹوں کے کاروبار پر مرکوز رہی اور محض اپنے پیٹ پر ہاتھ پھیرنے والوں نے صنعتوں کو بھی زراعت کی طرح نظرانداز کیا اور لوٹ مار کا نشانہ بنانے والوں کو کھلی چھٹی دینے کی پالیسی پر عمل کیا۔ چنانچہ ریل گاڑی کے نیچے کٹ مرنے والی بشریٰ اور اسکے بچوں کے بھی وہی قاتل ہیں۔